سپریم کورٹ نے فوجی عدالتوں میں سویلنز کے ٹرائل کیس کا حکمنامہ جاری کردیا

اسلام آباد (آن لائن) سپریم کورٹ نے فوجی عدالتوں میں سویلنز کے ٹرائل کیس کا حکمنامہ جاری کرتے ہوئے فوجی عدالتوں کو فیصلہ سنانے سے روکنے کے 13 دسمبر کے حکم میں ترمیم کردی۔حکمنامے میں کہاگیاہے کہ دوران سماعت اٹارنی جنرل نے بتایا کہ فوجی عدالتوں میں 105 مقدمات زیر سماعت ہیں۔جن میں سے پندرہ سے بیس افراد کے مقدمات میں کچھ کی بریت ہو سکتی ہے۔جسٹس امین الدین کی سربراہی میں چھ رکنی لارجر بنچ نے سماعت کی تھی اوران کی جانب سے جاری حکمنامے میں مزیدبتایاگیاہے کہ اٹارنی جنرل کے مطابق کچھ مقدمات میں کم سزا کے ہیں۔

اٹارنی جنرل نے بتایا کہ سزا کے صورت میں ملزمان کے زیر حراست رہنے کو بھی شامل کیا جائے گا۔اٹارنی جنرل نے استدعا کی کہ کم سزا یا بریت والے فیصلہ سنانے کی اجازت دی جائے۔کسی بھی فریق کے وکیل نے حکم امتناع میں اٹارنی جنرل کی استدعا کی حد تک ترمیم کی مخالفت نہیں کی۔ فوجی عدالتیں بریت اور کم سزا والے مقدمات کے فیصلے سنا سکتی ہیں۔عدالتی حکم میں ترمیم سے ملزمان ،فریقین کے حقوق متاثر نہیں ہوں گے۔اٹارنی جنرل آئندہ سماعت سے پہلے فیصلوں کے حوالے سے رپورٹ پیش کریں۔ بینچ دستیابی کی صورت میں کیس کی آئیندہ سماعت اپریل کے چوتھے ہفتے میں ہوگی۔

Comments are closed.