اسلام آباد(آن لائن ) سینیٹ انتخابات کا دنگل کل سجے گا ،18 امیدوار بلامقابلہ منتخب صرف 30 نشتوں پر الیکشن ہونگے، انتخابات میں 59 امیدوار مدمقابل ہیں ،الیکشن کمیشن کی جانب سے تیاریاں مکمل ، پولنگ صبح نو سے چار بجے تک جاری رہے گی۔ قومی اسمبلی، سندھ، پنجاب اور خیبرپختونخوا کے اراکین اسمبلی اپنا حق رائے دہی استعمال کر سکیں گے۔ ایوان بالا کے 30ممبران کے انتخاب کیلئے قومی اسمبلی سمیت تین صوبوں میں پولنگ آج ہوگی جس کیلئے الیکشن کمیشن نے تمام تر تیاریاں مکمل کر لی ہیں سینیٹ انتخابات میں پنجاب کی 7 جنرل نشستوں ،بلوچستان کی تمام 7 جنرل نشستوں، 2 خواتین اور 2 ٹیکنوکریٹ کی نشستیوں پر امیدوار بلا مقابلہ کامیاب ہوچکے ہیں جبکہ وفاقی دارالحکومت کی ایک جنرل، ایک ٹیکنو کریٹ نشست پر انتخاب ہوگا جنرل نشت کے لیے پیپلز پارٹی کے رانا محمود الحسن اور سنی اتحاد کونسل کی جانب سے فرزند حسین شاہ امیدوار ہیں جبکہ ٹینکو کریٹ کی نشست کے لیے ن لیگ کے محمد اسحاق ڈار اور سنی اتحاد کونسل کے راجا انصر محمود مدمقابل ہیں پنجاب کی 2 خواتین، 2 ٹیکنو کریٹ اور ایک غیر مسلم نشست پر بھی انتخاب ہوگا، سندھ اور خیبرپختونخواہ کی 7 ،7 جنرل، 2 ، دو خواتین، 2 ، دو ٹیکنو کریٹ کی نشستوں پر انتخابات ہونگے جبکہ سندھ کی ایک غیر مسلم نشست پر بھی انتخابی دنگل سجے گا انتخابات کے لیے پولنگ صبح نو سے چار بجے تک جاری رہے گی انتخابات میں اراکین قومی اسمبلی سمیت سندھ، پنجاب اورخیبرپختونخوا کے اراکین صوبائی اسمبلی اپنا حق رائے دہی استعمال کر سکیں گے الیکشن کمیشن کی جانب سے سینیٹ انتخابات کے لیے دو کالم اور چاررنگوں کے بیلیٹ پپیرز چھاپے گئے ہیں
جنرل نشستوں کے لیے سفید رنگ ،ٹینکنو کریٹ کے لیے سبز رنگ ،خواتین کی مخصوص نشستوں کے لیے گلابی رنگ جبکہ غیر مسلم نشستوں کے لیے پیلے رنگ کے بیلٹ پپیرز چھاپے گئے ہیں پنجاب اسمبلی میں جنرل سیٹ پر ایک سینیٹرز کو منتخب ہونے کے لیے لگ بھگ 52 ووٹ درکار ہوں گے اسی طرح کے پی اسمبلی میں ایک سینیٹر کوتقریبا 16 ووٹ بلوچستان سے تقریبا 7 ممبران مل کر ایک سینیٹر منتخب کریں گے اور سندھ کے ایوان میں ایک سینیٹرز کو منتخب ہونے کے لیے تقریبا 24 ووٹ درکار ہوں گے سینیٹ انتخابات میں کسی امیدوار کا کوئی انتخابی نشان نہیں ہوگا بیلٹ پیپر پر امیداروں کے نام حروف تہجی کے تحت درج ہوں گے ہر ووٹر اپنی پہلی، دوسری اور تیسری ترجیح کے تحت بیلٹ پیپر پر موجود خانے میں عددی نمبر لگا کر اپنا ووٹ کاسٹ کریگاکامیاب امیدواروں کے بچ جانے والے ووٹ دوسرے ترجیحی امیدواروں کو منتقل کردییجائیں گے ووٹ گننے کے عمل میں سب سے پہلے بیلٹ پیپرز کی اسکروٹنی کی جائیگی درست ووٹوں کے بیلٹ پیپرز کو علیحدہ کر کے مسترد ووٹوں کو نکال دیاجائیگاتمام صوبائی اسمبلیوں میں ایک درست بیلٹ پیپر کی ویلیو 96 یعنی ایوان بالا کے کل ممبران کی تعداد ہے لیکن وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی ایک جنرل اور ایک ٹیکنوکریٹ نشست اور پنجاب اور سندھ کی ایک ایک غیر مسلم نشست کی ویلیو بھی ایک ہے سینیٹ الیکشن کے لیے درست بیلٹ پیپرز کی تعداد کو 96 سے ضرب دے کر اسے نشستوں کی تعداد سے تقسیم کردیاجائیگا اوریوں جواب میں آنے والا عدد ایک کوٹہ بن جائیگا سینیٹ کا الیکشن جیتنے کے لیے ضروری ہے کہ اس کوٹے سے زیادہ ووٹ حاصل کیے جائیں ووٹ گننے کے عمل میں تمام امیدواروں کو ملنے والے پہلے ترجیحی ووٹ کے تناسب سے پیکٹس بنا دیے جائیں گے جو امیداروں کے لیے ملنے والی پہلی ترجیح کے اعتبار سے ہوں گے امیدواروں کو ملنے والی پہلی ترجیح کے ووٹ کو 100 سے ضرب دیا جائیگا، کوٹے سے زیادہ ووٹ حاصل کرنے والے امیدوار کامیاب قرار دیے جائیں گے اور انہیں ملنے والے اضافی ووٹ دیگر امیدواروں میں بانٹ دیے جائیں گے ایسا کرتے ہوئے اضافی ووٹوں پر ووٹرز کی دوسری ترجیح والے امیدوارکو دیکھاجائیگا اور ایک بارپھرکوٹہ بنے گا اس کے بعد دوسری ترجیح والے امیدواروں کے ووٹوں کی گنتی ہوگی دوسری ترجیح پر زیادہ ووٹ لینے والا کامیاب قرارپائے گا اضافی ووٹ ختم ہو جانے پر امیدواروں کے اخراج کا سلسلہ شروع کردیاجائیگا سب سے کم ووٹ لینے والا مقابلے سے باہر ہو جائیگا اور اسے ملنے والے اصل ووٹ دیگر امیدواروں میں منتقل کردیے جائیں گے۔۔۔۔۔۔۔
Comments are closed.