عالمی بینک کی پاکستان میں 2 منصوبوں کیلئے 14 کروڑ 97 لاکھ ڈالرز کی منظوری
اسلام آباد (آن لائن) عالمی بینک نے پاکستان میں 2 منصوبوں کیلئے 14 کروڑ 97 لاکھ ڈالرز کی منظوری دے دی۔ ورلڈ بینک کے بورڈ آف ایگزیکٹو ڈائریکٹرز نے پاکستان کے 2 منصوبوں کے لیے 14 کروڑ 97 لاکھ ڈالرز کی منظوری دی ہے، ’ڈیجیٹل اکانومی‘ اور ’سیلاب سے بچاوٴ‘ کے لیے 14 کروڑ 97 لاکھ ڈالرزکی فنانسنگ کی منظوری دی گئی ہے، جس میں سے ڈیجیٹل اکانومی اینہانسمنٹ پروجیکٹ کے لیے 7 کروڑ 80 لاکھ ڈالرز مختص کیے گئے ہیں، جن سے ٹیکنالوجی اور ڈیٹا پر مبنی فیصلہ سازی کے ذریعے مالیاتی نظام کو بہتر بنایا جائے گا اور سرکاری اداروں کی ڈیجٹیلائزیشن کی بدولت اقتصادی کارکردگی میں بہتری، ہم آہنگی ارو شفافیت کو فروغ ملے گا کیوں کہ پاکستان میں بڑھتی ہوئی ڈیجیٹل اکانومی کو سپورٹ کرنا معاشی اور سماجی ترقی کے لیے کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔
سندھ کے بیراجوں کی بہتری کے منصوبے کے لیے 7 کروڑ 17 لاکھ ڈالرز مختص کیے گئے ہیں، جن سے سیلاب سے بچاوٴ یقینی بنایا جائے گا، اس منصوبے سے نہری نظام کی لچک میں اضافہ ہوگا اور شدید سیلاب اور خشک سالی کے واقعات کے منفی اثرات میں کمی آئے گی، اس کے علاوہ خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل ملک میں غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کرنے کے لیے ٹیکنالوجی پر مبنی مالیاتی حل تلاش کرنے اور ماحولیاتی آلودگی سے پیدا ہونے والی آفات کے خلاف خود کو مضبوط بنانے کیلئے پرعزم ہے۔علاوہ ازیں عالمی بینک نے پاکستان کے سرکاری ملکیتی اداروں کی ہوشربا رپورٹ جاری کی ہے جس میں کہا گیا کہ تین سال میں 84 اداروں نے قومی خزانے کو ایک ہزار ارب سے زائد کا نقصان پہنچایا، اس وقت مجموعی طور پر 212 سرکاری ملکیتی ادارے کام کر رہے ہیں، جن میں سے 84 اداروں نے قومی خزانے کو تین سال میں ایک ٹریلین (ایک ہزار ارب)سے زائد کا نقصان پہنچایا، سرکاری ملکیتی اداروں کے سالانہ خسارے 350 ارب روپے کے لگ بھگ ہیں اور یہ خسارے کم کرنے کے لیے سرکاری اداروں میں خود مختار اور ماہرین کو شامل کیا جائے۔
Comments are closed.