آئی ایم ایف کے علاوہ کسی پلان بی کا تصور نہیں کیا جاسکتا،وزیرخزانہ

اسلام آباد(آن لائن)وزیرخزانہ اورنگزیب نے کہا کہ گزشتہ سال ہمارے پاس سٹیٹ بینک کے ذخائر 3.4 ارب ڈالر تھے جو کہ صرف 15 دن کی درآمدات کی رقم تھی، اب ہمارے پاس 8 ارب ڈالرہے ،مالی ذخائر ہیں اورمزید بہتری کی امید ہے۔ معیشت بہتری کی جانب گامزن ہے ، زرعی نمو میں اضافہ ہورہا ہے، آئی ایم ایف سے نئے پروگرام پر بات ہورہی ہے۔ آئی ایم ایف کے علاوہ کسی پلان بی کا تصور نہیں کیا جاسکتا۔اسلام آباد میں لیڈرز ان اسلام آباد سمٹ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے محمد اورنگزیب کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف رواں ماہ کے آخر میں قرض کی قسط جاری کر سکتا ہے، معاشی استحکام کیلئے آئی ایم ایف کا پروگرام ضروری ہے، سٹاک مارکیٹ تاریخ کی بلند ترین سطح پر ہے، سٹاک مارکیٹ میں غیر ملکی سرمایہ کاری آنا خوش آئند ہے۔

انہوں نے کہا کہ زر مبادلہ کے ذخائر میں اضافہ ہوا ہے، جون تک زرمبادلہ ذخائر 9 سے 10 ارب ڈالر تک پہنچ جائیں گے۔ وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ واشنگٹن کا دورہ مکمل کر کے آیا ہوں، آئی ایم ایف قرض کیلئے آخری راستہ ہوتا ہے، آئی ایم ایف قرض پروگرام میں ہوں تو کوئی پلان بی نہیں ہوتا۔انہوں نے کہا کہ توانائی کے شعبے میں اصلاحات ناگزیر ہیں، ٹیکس کی شرح میں اضافہ ضروری ہے، سب سے پہلے ٹیکس کا معیشت میں حصہ بڑھانا چاہتے ہیں، ملکی معیشت میں ٹیکس کا حصہ 9فیصد ہے جو خطے میں سب سے کم ہے۔محمد اورنگزیب کا مزید کہنا تھا کہ دوسراتوانائی کے نقصانات کم کرنے کیلئے سنجیدہ کوشش کرنا ہوگی، تیسرا بڑا مسئلہ سرکاری اداروں کا نقصان کم کرنا ہے، نقصان میں چلنے والے سرکاری اداروں کی نجکاری بھی ضروری ہے۔

Comments are closed.