لاپتا افراد کا معاملہ بہت پرانا ، یہ عدالتی حکم پر راتوں رات حل نہیں ہوسکتا، وفاقی حکومت
اسلام آباد (آن لائن) وفاقی حکومت نے کہا ہے کہ لاپتا افراد کا معاملہ بہت پرانا ہے یہ عدالتی حکم پر راتوں رات حل نہیں ہوسکتا، سیاسی اور عسکری حلقوں میں بات چیت ہو رہی ہے، حکومت اس مسئلے کو سنجیدگی سے لے ر ہی ہے،یہ معاملہ دہشت گردی سے جڑا ہوا ہے تاہم کمیٹی بنا کر تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں، ملک معاشی ترقی کی راہ پر گامزن ہو چکاہے، پی ٹی آئی کے متضاد بیانات کو عوام نے یکسر مسترد کر دیا ہے۔ ان خیالات کا اظہار وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ و وفاقی وزیر اطلاعات عطاء تارڑ نے مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوے کیا۔ وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا لاپتہ افراد کے مسئلہ پر کچھ دنوں سے سیاسی، عسکری حلقوں میں بات چیت ہو رہی ہے،چار دہائیوں سے پاکستان نے جنگ سے متاثرہ علاقے میں فرنٹ لائن ملک کا کردار ادا کیا ہے اور اس جنگ سے اندرونی و بیرونی چیلنجز میں بے حد اضافہ ہواہے، ہم نے اس کی قیمت بھی ادا کی۔ انہوں نے کہا لاپتہ افراد کے معاملے پر سب سے پہلے بات پاکستان پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں ہوئی۔ اور اس سلسلے میں کمیشن بھی بنایا گیا۔ جس میں بلوچستان کے نمائندے بھی شامل تھے۔ 10200 کیسز لاپتہ افراد کمیشن کے سامنے پیش کئے گئے جن میں سے کچھ حل بھی ہوئے۔ گزشتہ حکومت میں بھی کمیٹی بنیں حکومت کی مدت کے اختتام پر کچھ چیزیں حل طلب تھیں، اب دوبارہ لاپتہ افراد کے معاملے پرکمیٹی بننے جا رہی ہے۔ جس میں پارلیمان کی نمائندگی بھی موجود ہو گی۔
یہ مسئلہ ایک رات میں حل نہیں ہو سکتا اس پر بہت کام کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس معاملے میں حکو متی اداروں کے ملوث ہونے کے عمل کو یکسر مسترد نہیں کیا جا سکتا۔ اس وقت مسئلہ یہ ہے کہ دہشت گردوں کے خلاف کارروائیوں میں لاپتہ افراد بھی نکل آتے ہیں۔ حکومت کی کوشش ہے کہ اس کا قانونی اور سیاسی حل نکالا جائے، اگر کوئی جرم میں ملوث ہے تو قانون کے مطابق تحقیقات ہونی چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ قوم نے دہشت گردی کے خلاف تکلیفیں اٹھائیں، قربانیاں دیں۔ وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ اس ملک میں دہشت گردی کے واقعات میں شہید ہونے والوں کے ورثاء کے تحفظات ہیں، ایمان مزاری نے نعیم رحمت نامی شخص کو لاپتہ فرد قرار دیا اور وہ لانڈھی جیل میں ایک جرم میں عمر قیدکی سزا کاٹ رہا تھا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے لا پتہ افراد کے معاملے پر بہت کام کیا ہے، ہم حل نکالنا چاہتے ہیں۔ یہ انتظامیہ کا کام ہے،۔ انہوں نے کہا مسلم لیگ ن نے ضمنی انتخابات میں کلین سویپ کیا،جھوٹ، انتشار اور نفرت کے بیانیے کو پاکستانی قوم نے یکسر مسترد کر دیا۔ یہ شفاف انتخابات ہیں، انگلی نہیں اٹھائی جا سکتی ان انتخابات نے 8 فروری کے انتخابات پر شک و شبہات جو ختم کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا لوگوں نے پنجاب میں خدمت کی سیاست کو ووٹ دیا ہے، نفرت کا بیانہ ختم ہو گیا۔ ن لیگ کو ووٹ نواز شریف کی محبت میں پڑے ہیں۔ انہوں نے کہا بشریٰ بی بی کی صحت کے حوالے سے مضحکہ خیز الزامات لگائے جا رہے ہیں، ان کے تمام طبی ٹیسٹ درست آئے، وہ صحت مند ہیں۔ آپ کا جھوٹ بے نقاب ہو رہا ہے، خارجہ پالیسی کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی گئی۔ انہوں نے دو ٹوک موقف اپناتے ہوئے کہا پاکستان کے سپہ سالار کے خلاف بات کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ ملک جیسے ترقی کی طرف جا رہا ہے، جیل میں بیٹھا شخص غیر متعلقہ ہو جائے گا۔ انہوں نے کہا سعودی عرب سرمایہ کاری کی بات کر رہا ہے، ایران تجارتی حجم 10 ارب تک لے جانے کی بات کر رہا ہے۔ عالمی سطح پر پاکستان میں سرمایہ کاری اور اسٹریٹجک اہمیت کی بات ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا معاشی اعشاریے بتا رہے ہیں ملک ترقی کی طرف جا رہا ہے۔ ان لوگوں نے دوست ممالک کے سربراہان کے تحفے تک بیچ ڈالے تاہم اب ترقی کرنا، مہنگائی اوربیروزگاری میں کمی پاکستان کا مقدرہ بن چکا۔ انہوں نے کہا لاپتہ افراد کے حوالے سے مزید لائحہ عمل کابینہ کمیٹی کی سفارشات کی بنیاد پر بنایا جائے گا۔ای سی ایل میں سے نام قواعد و ضوابط کے مطابق نکالے گئے، انہوں نے کہا پی ٹی آئی نے قسم کھا رکھی ہے کہ انہوں نے ملکی دفاعی اداروں کے خلاف بات کرنی ہے۔
Comments are closed.