اسمبلیاں بیچی ، خریدی گئی، ہارنے والے بھی پریشان، جیتنے والے بھی مطمئن نہیں،مولانا فضل الرحمان
اسلام آباد:سربراہ جمیعت علمائے اسلام ف مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ اس بار تو اسمبلیاں بیچی اور خریدی گئی ہیں ہارنے والے پریشان ہیں تو جیتنے والے بھی مطمئن نہیں ،حکومت میں بیٹھی جماعتوں کے سینئر لوگ مینڈیٹ کو مسترد کررہے ہیں آج جمہوریت کہاں کھڑی ہے آج ہم یہاں کمزور ہیں ہم نے اپنی جمہوریت بیچی ہے ،3 مئی سے کراچی میں ملین مارچ کا آغاز کر رہے ہیں اور 9 مئی کو پشاور میں ہو گا اگر کسی نے روکنے کی کوشش کی تو اس کا خود ذمہ دار ہوگا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے قومی اسمبلی کے اجلاس میں کیا انہوں نے کہا کہ ہم نے اپنے ہاتھوں سے اپنے آقا بنائے ہیں یہی آخرت کی نشانیاں ہوتی ہیں قیامت کی نشانیوں میں سے ہے کہ نوکرانیاں مالکان پیدا کریں گی کیا آج وہی صورتحال نہیں بن چکی ۔
میاں شہبازشریف کی سربراہی میں مدارس کے حوالے سے کمیٹی بنی بمشکل بل اسمبلی میں آیا مگر ابتدائی خواندگی کے بعد بل منظور نہیں ہونے دیا گیا شہبازشریف کو میں نے کہا کہ آپ سے گلہ نہیں ہمیں معلوم ہے کہ بل کس نے پاس نہیں ہونے دیا انہوں نے کہا کہ بھارت سپرپاور بننے کا خواب دیکھ رہا پاکستان دیوالیہ پن سے بچنے کی کوشش کررہا ہے پس پردہ فیصلے کوئی اور کرتا ہے اور منہ سیاستدانوں کا کالا کیا جاتا ہے آج ملک کو جمود کا شکار بنا دیا گیا ہے جمود کی شکار قومیں گرتی ہیں سارے برے لوگ ہندو اور اپنے اچھے القابات والوں کا موازنہ حاصل کرلیں ملک اسلام کے نام پر لیا اور آج ملک سیکولر کا روپ دھار چکا ہے اسلامی نظریاتی کونسل کی رپورٹس پر ایک بھی قانون نہیں بنایا گیاایوانوں میں بھرے جانے والوں کو اسلام سے کوئی دلچسپی ہی نہیں بتائیں ملک میں کہاں اسلام کا نظام ہے آئین قرآن و سنت کے منافی قانون سازی کو روکتا ہے آپ تو دین و مذہب کے فروغ کے اداروں کو بھی پابند کردینا چاہتے ہیں سپیکر ایاز صادق صاحب آپ لاہور کے نتائج سے مطمئن ہیں مولانا فضل الرحمن نے سوال کیا جس پر سپیکر قومی نے کہا کہ میں مطمئن ہوں مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ہم کراچی سے تین سے کراچی سے ملین مارچ شروع کر رہے ہیں اس کے بعد 9 مئی کو پشاور میں مارچ کریں گے اگر کسی نے روکنے کی کوشش کی تو وہ خود ذمہ دار ہو گا۔انہوں نے کہا کہ حلف برداری کے بعد میں پہلی مرتبہ ایوان میں آیا ہوں، جلسہ کرنا پی ٹی آئی کا حق ہے، میں اسد قیصر کے مطالبے کی حمایت کرتا ہوں، اس ملک کی آزادی میں نہ بیوروکریسی اور نہ ہی اسٹیبلشمنٹ کا کردار ہے۔
Comments are closed.