نگران حکومت کے دور میں گندم کی درآمد کے سکینڈل کے حوالے سے ہوشربا انکشافات سامنے آگئے
اسلام آباد ( آن لائن ) نگران حکومت کے دور میں گندم کی درآمد کے سکینڈل کے حوالے سے ہوشربا انکشافات سامنے آئے ہیں،گندم کی درآمد سے متعلق نگران حکومت نے کابینہ سے سرکولیشن سمری کے ذریعے منظوری حاصل کی اس حوالے سے کابینہ میں بحث ہی نہیں کی گئی ۔ اس وقت کے وفاقی وزیر برائے تحفظ خوراک ڈاکٹر کوثر عبداللہ کی مخالفت کے باوجود وزیر تجارت گندم درآمدکرنے کی حمایت کرتے رہے اس حوالے سے نگران حکومت کے ایک سابق وفاقی وزیر سے جب رابطہ کیاگیا تو انہوں نے آن لائن سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ گندم درآمد معاملے کا پورا سچ سامنے آنا چاہیے جولائی 2023 میں وزارت تحفظ خوراک نے گندم درآمد کرنے کی سمری بھیجی تھی اس وقت کے سیکرٹری تحفظ خوراک محمد محمود نے یہ سمری کابینہ کی اقتصادی رابط کمیٹی میں بھیجی اس وقت شہبازشریف کی قیادت میں پی ڈی ایم حکومت تھی مگرای سی سی نے اسے ملتوی کردیا بعد میں وفاقی کابینہ نے بھی اس کی منظوری نہ دی۔ آن لائن سے مزید گفتگو کرتے ہوئے سابق وزیر نے کہا کہ اس وقت شہباز شریف نے معاملہ نگران حکومت پر چھوڑ دیا تھا کابینہ سیکرٹری کے پاس تمام ریکارڈ اور منٹس موجود ہیں اکتوبر 2023 میں وزارت تجارت نے سمری بھیجی کہ عالمی مارکیٹ میں گندم کی قیمت کم پے ہمیں درآمد کرنی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ اس وقت وزیر تجارت گوہر اعجاز تھے جنہوں نے موقف اختیار کیا کہ ہمارا گندم کا ہدف رواں سال پورا نہیں ہوا سستی گندم خرید لیتے ہیں نجی شعبہ کے ذریعے انہوں نے گندم درآمد کرنے کی تجویز دی نگراں وزیراعظم نے اس پر فوری فیصلہ نہیں کیا تھا دسمبر 2023 میں گندم درآمد کرنے کا حتمی فیصلہ ہوا ۔اس وقت وزیر تحفظ خوراک ڈاکٹر کوثر عبد اللہ ملک نے ای سی سی میں گندم درآمد کی مخالفت کی تھی ان کاموقف تھا کہ اس سال فی ایکٹر گندم کی کاشت زیادہ ہوئی ہے ضرورت کیلیے کافی ہوگی وزارت تجارت اور صنعت و پیداوار گندم درآمد کرنے پر اصرار کرتے رہے ای سی سی نے منظوری دے دی تو یہ معاملہ سرکولیشن سمری کے ذریعے کابینہ سے منظور کروایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ باقاعدہ اس معاملے پر کابینہ میں بحث نہیں ہوئی تھی نگراں حکومت میں ساٹھ فیصد فیصلے سرکولیشن سمری کے ذریعے کیے گئے یہ گندم نگراں حکومت نے درآمد نہیں کی نجی شعبہ کو اجازت دی گئی تھی قومی خزانے کا ایک پیسہ خرچ نہیں ہوا یہ درست ہے کہ ڈالر ملک سے باہر گیے اور نجی شعبہ نے گندم خرید ی تھی وزارت تحفظ خوراک کے وزیر کی مخالفت کے باوجود خریدی گئی۔سابق وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ یہ کوئی سکینڈل نہیں تمام ریکارڈ کابینہ سیکرٹری کے پاس موجود ہے یہ درست ہے کہ اس وقت 46 لاکھ ٹن گندم گوداموں میں موجود تھی سستی گندم ہونے کی بناء پر درآمد کی اجازت دی گئی تھی۔
Comments are closed.