عدت کیس :بانی پی ٹی آئی اور بشری بی بی کی سزاوٴں کے خلاف اپیلوں پر فیصلہ محفوظ،29 مئی کو سنایا جائیگا
اسلام آباد(آن لائن) ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس اسلام آباد نے عدت کیس میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کی سزاوٴں کے خلاف اپیلوں پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔جج شاہ رخ ارجمند نے دورانِ عدت نکاح کیس میں بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی سزاوٴں کے خلاف اپیلیں کی سماعت کی۔جج نے سماعت کے آغاز پر وکیل عثمان ریاض گل سے کہا کہ آپ نے بھی تو دلائل دینے ہیں اور آج ہی دلائل فائنل کرلیں ، جس پر عثمان گل ایڈووکیٹ نے کہا کہ میں اپنے دلائل کیلئے دس سے پندرہ منٹ لوں گا ، جج نے کہا ایک بجے تک رضوان عباسی عدالت کے سامنے ہر حال میں اپنے دلائل دیں ،بشریٰ بی بی کے وکیل عثمان ریاض گل نے دلائل دیئے کہ وکیل عثمان ریاض گل نے کہا کہ پہلے مرحلے میں ایک انجان شخص نے شکایت درج کی تھی ، دوسرے مرحلے میں ایک ہی سبجیکٹ کے ساتھ شکایت درج کی گئی ، عدالت نے دونوں شکایات میں شواہد کو دیکھنا ہیں ،پانچ سال 11 ماہ انھوں نے شکایت درج نہیں کروائی اتنا وقت کیا کرتے رہے، یہ کیس صرف اور صرف سیاسی طور پر نشانہ بنانے کے لیے دائر ہوا ہے، خاورمانیکا کی شکایت تو تقریباً 6 سال بعد دائر ہوئی، عزائم میں بدنیتی واضح ہے، شادی فراڈ ہے یا نہیں ؟ کریمینل کورٹ کے پاس فیصلہ کرنے کا اختیار نہیں، فراڈ شادی یا نکاح کے حوالے سے فیملی کورٹ فیصلہ کرتی ہے، بشریٰ بی بی نے اپنے 342 کے بیان میں بتایا کہ طلاق اپریل 2017 میں ہوئی اور انہوں نے عدت کا دورانیہ مکمل کرکے نکاح کیا ، پراسیکیوٹر رانا حسن عباس نے عدالت کو حقائق بتائے، جس پر پراسیکیوٹر راناحسن عباس کو اگلے ہی روز ٹرانسفر کردیاگیا۔جج شاہ رخ ارجمند نے ریمارکس دیئے کہ آپ اس کے بعد کیا توقع کرسکتے ہیں؟۔ جج کے جملے پر عدالت میں قہقہے لگ گئے۔عثمان ریاض گل ایڈوویٹ نے مزید دلائل میں کہا کہ الزام یہ کہ طلاق ہوئی مگر دوسرا نکاح عدت کے دوران کرلیا ، پراسکیوشن ڈاکومنٹ پر منحصر کررہی ہے ، کسی بھی ڈاکومنٹ کو ثابت کرنے کے لیے دو طریقے ہوتے ہیں ، جو ڈاکومنٹ عدالت کے سامنے پیش کیا گیا وہ ایک فوٹو کاپی ہے ، اگر کوئی بھی پارٹی عدالت کے سامنے ڈاکومنٹ کو ثابت ہی نہیں کرسکتی تو وہ کیسے اتھنٹک ہوسکتا ہے ، عثمان ریاض گل ایڈوکیٹ نے عدالت کے سامنے پیش کیے جانے والے ڈاکومنٹ کو اصلی یا جعلی ہونے کے حوالے سے گائیڈ لائن پیش کردی، محمدحنیف بطور گواہ ٹرائل کورٹ میں پیش نہیں ہوا،اجنبی شخص محمدحنیف کا کیس سے کوئی تعلق نہ گواہ تھا، ماضی میں اعلیٰ عدلیہ نے ایک سال تاخیر سے شکایت دائر کرنے پر فیصلہ دیاہے،خاورمانیکا کی شکایت تو تقریباً 6 سال بعد دائر ہوئی، عزائم میں بدنیتی واضح ہے،شکایت تاخیر سے دائر کرنے کے سوال پر شکایت کنندہ کے وکیل وضاحت دینے میں ناکام رہے، 14 نومبر 2023 کو خاور مانیکا رہا ہورہا ہے اور دس دن بعد شکایت درج کردیتا ہے ، ایک دن پہلی شکایت واپس لی جاتی ہے دوسرے ہی دن خاور مانیکا درخواست دائر کردیتے ہیں ، دوسری شکایت بھی راجہ رضوان عباسی ایڈوکیٹ کے ذریعے دائر کی جاتی ہے ،ایسی شکایت جو اس طرح دائر کی گئی ہو اس کو کوڑے دان میں پھینک دینا چاہیے ، وکیل عثمان ریاض گل ایڈوکیٹ نے مزید کہا کہ ٹرائل کورٹ نے اپنا عدالتی مائنڈ غلط طریقے کار سے استعمال کیا،شادی فراڈ ہے یا نہیں ؟ کریمینل کورٹ کے پاس فیصلہ کرنے کا اختیار نہیں، کسی عدالت کے پاس اگر مخصوص اختیار نہیں تو کسی اور عدالت کے دائرہ اختیار میں داخل نہیں ہوا جاسکتا، فراڈ شادی یا نکاح کے حوالے سے فیملی کورٹ فیصلہ کرتی ہے ،کریمینل کورٹ نے فیملی کورٹ سے تو کوئی رائے ہی نہیں لی، اگر کوئی شکایت کنندہ دستاویزات مہیا کرنے میں ناکام رہا تو مطلب دستاویز موجود ہی نہیں، جب دستاویز ہی پیش نہیں کیے گئے تو ٹرائل کورٹ نے فیصلہ کیوں دیدیا؟ شکائت کنندہ صرف دلائل کی غرض سے الزامات نہیں لگا سکتی، ثابت کرنا ضروری ہے، وکیل کا دلائل میں مزید کہنا تھا کہ بشریٰ بی بی نے اپنے 342 کے بیان میں بتایا کہ طلاق اپریل 2017 میں ہوئی اور انہوں نے عدت کا دورانیہ مکمل کرکے نکاح کیا ،جج ظفر پاشا کی شریعت کورٹ کی ججمنٹ کے مطابق بھی عدت کے دوران نکاح کو غیر قانونی نہیں کہا جاسکتا ، محمڈن لا میں بھی اس کو نقصان دہ کہا گیا مگر غیر قانونی نہیں کہا گیا ،ڈپٹی ڈسٹرکٹ پراسکیوٹر عدنان علی نے سزا کو برقرار رکھنے کی استدعا کرتے ہوئے دلائل دیے کہ قانون میں کہیں نہیں لکھا کہ اس طرح کے کیسز کا ٹرائل کریمنل میں نہیں ہوسکتا ، مدعی نے بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کے نکاح کو ختم کرنے کا مطالبہ نہیں کیا، بلکہ دوران عدت نکاح کرنے پر سزا ہے۔پراسکیوٹر نے مزید کہا کہ بانی پی ٹی آئی بار بار خاورمانیکا، بشریٰ بی بی کی زندگی میں مداخلت کررہے تھے، ان کی مداخلت کے باعث ہنستا بستا گھر اجڑ گیا، ریاست مدینہ بنانے والے شخص کا ایسا عمل طرزعمل ہے؟۔ڈپٹی ڈسٹرکٹ پراسکیوٹر عدنان علی نے دلائل میں مزید کہا کہ عدت مکمل ہونا ضروری ہے کیونکہ شادی کا انحصار عدت پر ہے،بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کو نکاح ختم کرنے کا مطالبہ نہیں کیا، دوران عدت نکاح کرنے پر سزا ہے،پراسیکیوٹر عدنان علی کی جانب سے اعلیٰ عدلیہ کے فیصلوں کا حوالہ بھی دیا اور کہا کہ 1989 میں خاورمانیکا اور بشریٰ بی بی نے شادی کی، ہنسی خوشی شادی گزار رہے تھے ،اٹھائیس سال شادی کا عرصہ رہا، 5 بچے ہوئے لیکن بانی پی ٹی آئی کی مداخلت کے باعث بشریٰ بی بی کو طلاق ہوئی،ڈپٹی پراسیکیوٹر نے دلائل جاری رکھتے ہوئے کہا کہ خاورمانیکا رجوع کرنا چاہتے تھے لیکن دورانِ عدت بشریٰ بی بی نے نکاح کرلیا،گواہان نے حلف پر گواہی دی، بانی پی ٹی آئی نے حلف کے بغیر 342 کا بیان ریکارڈ کروایا، اٹھائیس سالہ ازدواجی زندگی میں ایسا ہو تو خاورمانیکا نے قدرتی ردعمل دیا،خاورمانیکا نے تو حلف پر بیان دینے کی بھی آفر دی تھی،خاورمانیکا کی بیٹیوں کی ویڈیو بطور دفاع نہیں لائے کیونکہ بشریٰ بی بی اور بانی پی ٹی آئی کے خلاف تھیں،تقریب نکاح میں عون چودھری، مفتی سعید کی موجودگی تصاویر سے ثابت ہوتی ہے،دنیا کو معلوم ہے کہ 90 دن عدت کا دورانیہ ہوتا،لیکن بشریٰ بی بی نے مفتی سعید کو عدت مکمل ہونے کا نہیں بتایا،طلاق زبانی کلامی دی گئی، کب ہوئی؟ کس کے سامنے ہوئی؟ کچھ معلوم نہیں،ڈپٹی ڈسٹرکٹ پراسیکیوٹر نے مزید کہا کہ یہیں مفتی کا لفظ نہیں استعمال کرنا، جب مفتی سعید بانی پی ٹی آئی کے ساتھ تھے تو مفتی تھے؟بشریٰ بی بی کے بیان کے مطابق طلاق ہوگئی مگر یاد نہیں کہ زبانی دی اور اپریل میں ہوئی،ایک عورت اٹھائیس سال ایک شخص کے ساتھ رہیں اور زبانی کلامی طلاق کے بعد فوراً شادی کرلی،بشریٰ بی بی کو اٹھائیس سالہ تعلق کا کوئی غم نہیں،ڈپٹی پراسیکیوٹر عدنان علی کے جملے پر پی ٹی آئی خواتین کارکنان کا کمرہ عدالت میں شیم شیم کے نعرے لگا دیئے،جس پر جج نے برہمی کا اظہار کیا،ڈپٹی پراسیکوٹر عدنان علی نے دلائل جاری رکھتے ہوئے کہا کہ لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ ہے عدت مکمل ہونے سے پہلے شادی قائم رہتی ہے،معاون وکیل راجہ رضوان عباسی ایڈووکیٹ نے دلائل میں کہا کہ یہ ایک پرائیویٹ شکایت ہے اس پر رضوان صاحب دلائل دیں گے ، دوران دلائل راجہ رضوان عباسی ایڈوکیٹ کے معاون وکیل کی بار بار سماعت ملتوی کرنے کی استدعا کرتے رہے ،عدالت نے دلائل مکمل ہونے پر عدت کے دوران نکاح کیس میں بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی سزاوٴں کے خلاف اپیلوں پر فیصلہ محفوظ کرلیا اور کہا کہ اس کیس کا فیصلہ 29 مئی کو سنایا جائے گا۔
Comments are closed.