وفاقی حکومت پر سیاسی طور پر الزام تراشی کی گئی ہے،ڈاکٹر طارق فضل چوہدری

اسلام آباد (آن لائن) قومی اسمبلی میں مسلم لیگ ن کے چیف وہیپ ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت پر سیاسی طور پر الزام تراشی کی گئی ہے، بیرسٹر گوہر اور عمر ایوب خان قومی میڈیا پر جھوٹ بول رہے ہیں یہ سمجھتے ہیں یہ قانونی ضابطوں سے بالاتر مخلوق ہیں۔لیگی رہنماؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوے انہوں نے کہا 2004 میں نواز شریف نے اسلام آباد میں مرکزی سیکریٹریٹ کے بندوبست کا حکم دیا اس وقت کوئی بھی شخص مسلم لیگ ن کے مرکزی سیکریٹریٹ کے لئے جگہ دینے کو تیار نہ تھا ۔ میں نے 2004 میں اپنے گھر میں پارٹی کا مرکزی دفتر قائم کیا ۔ 2015 میں سی ڈی اے میری وزارت کا ماتحت ادارہ تھا۔ اسی سال سی ڈی اے نے رہائشی علاقوں میں کمرشل سرگرمیوں پر پابندیوں کا فیصلہ کیا۔ اپنی حکومت ہونے کے باوجود سی ڈی اے نے ہمیں دفتر ختم کرنے کا نوٹس دیا ۔ ہم نے نوٹس ملنے کے بعد پارٹی کا مرکزی سیکریٹریٹ بند کیا ۔جی 8 میں پی ٹی آئی کے مرکزی سیکریٹریٹ کی الاٹمنٹ 1995 میں ہوئی۔ 2013 میں پلان منظور ہوا، سی ڈی اے نے ایک اضافی فلور بنانے کی درخواست مسترد کی ۔ سی ڈی اے کے مسترد کرنے کے باوجود دو اضافی فلور بنائے گئے ۔ بیرسٹر گوہر اور عمر ایوب خان قومی میڈیا پر جھوٹ بول رہے ہیں۔

انہوں نے پی ٹی آئی سیکریٹریٹ کو جاری کئے گئے نوٹس لہرا تے ہوے کہا پہلا نوٹس نومبر 2020 میں جاری کیا گیا۔ سی ڈی اے نے دوسرا نوٹس فروری 2021 میں پی ٹی آئی کو جاری کیا۔ ستمبر 2023 کو سی ڈی اے کی جانب سے حتمی نوٹس جاری کیا گیا ۔ وفاقی حکومت پر سیاسی طور پر الزام تراشی کی گئی ہے۔ پی ٹی آئی نے عدالت کا راستہ اختیار نہیں کیا ۔ یہ سمجھتے ہیں یہ قانونی ضابطوں سے بالاتر مخلوق ہیں انہوں نے کہا کہ کسی سیاسی ورکر کے خلاف کسی سیاسی مقدمے کے حق میں نہیں ہیں۔ یہ پی ٹی آئی کے پچھلے دور حکومت میں فسطائیت کوبھول گئے۔ انہوں نے ڈاکٹر یاسمین راشد کو طبی بنیادوں پر رعایت ملنے کی بھی حمائت کی ۔ انہوں نے کہا مریم نواز شریف کو 2 مرتبہ بے قصور گرفتار کیاگیا۔ ہم کسی قسم کی فسطائیت کی حمایت نہیں کرتے ۔ 9 مئی میں ملوث لوگوں کے خلاف قانون کے مطابق مقدمات چل رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کا مقابلہ کارکردگی سے کیا جانا چاہیے پہلے ایک شاہکار پنجاب میں مسلط کیا اب خیبرپختونخوا میں مسلط کیا گیاہے۔ انہوں نے گورنر پی کے کو نشانے پر لیتے ہوے کہا علی امین گنڈاپور وزیر اعلیٰ کم پنجابی فلموں کے ہیرو زیادہ لگتے ہیں انہوں نے پیسکو پر قبضہ کرنے کی دھمکی دی ہے ۔ اسلام آباد پر یلغار کی گئی، اداروں پر قبضوں کی دھمکیاں دی گئیں۔ انہوں نے کہا کہ اسلام آباد میں سرکاری ملازمین میں بے چینی پائی جا رہی ہے۔ وفاقی وزیر ہاوٴسنگ ریاض پیرزادہ سے ملاقات کی ہے، سرکاری ملازمین کے حقوق کا تحفظ کریں گے۔ میں اور انجم عقیل خان اسلام آباد کے سرکاری ملازمین کے حقوق کے لئے کھڑے ہیں ۔ انہوں نے دو ٹوک موقف اپناتے ہوے کہا کہ وزارت ہاوسنگ اور اسٹیٹ آفس کے کسی مافیا نے تنگ کرنے کی کوشش کی تو مواخذہ کریں گے۔

Comments are closed.