لوڈشیڈنگ سے امن کا مسئلہ پیدا ہوتا‘ایساحل نکالاکہ عوام کو ریلیف ملے گا،علی امین گنڈاپور
اسلام آباد(آن لائن) وفاق اور کے پی حکومت کے درمیان بالآخر برف پگھل گئی ۔وزیرداخلہ محسن نقوی اور وزیرتوانائی اویس لغاری سے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے درمیان مذاکرات کامیاب ہو گئے ۔وزیر اعلی خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور نے کہا ہے کہ لوڈ شیڈنگ کی وجہ سے امن و امان کا مسئلہ بھی ہوتا ہے، ایسا راستہ نکالا ہے جس سے عوام کو ریلیف ملے گا۔وزیر اعلی خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور، وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی اور وزیر توانائی اویس لغاری نے یہاں مشترکہ پریس کانفرنس کی۔ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے کہا کہ لوڈشیڈنگ عوام کا بڑا مسئلہ ہے، لوڈشیڈنگ کے معاملے پر بات کی ہے، لوڈشیڈنگ کی وجہ سے امن و امان کا مسئلہ بھی ہوتا ہے، ایسا راستہ نکالا ہے جس سے عوام کو ریلیف ملے گا۔انہوں نے کہا کہ لائن لاسز کی وجوہات پر مل کر کام کریں گے، ہم نے باہمی مشاورت کے ذریعے مسائل کو حل کیا ہے۔علی امین نے کہا کہ خیبرپختونخوا بجلی بناکر پورے ملک کو فراہم کررہا ہے، ہم نے باہمی مشاورت کے ذریعے مسائل کوحل کیا، ہم نے ملکر معاملات طے کیے ہیں۔وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا نے کہا کہ جوماڈل کے پی میں بنایا ہے وہ دوسرے صوبوں میں بھی لاگو کریں گے۔انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی نے کہا ہے اداروں سے ہماری جنگ نہیں، گورنر خیبر پختونخوا سے میرا کوئی اختلاف نہیں ہے۔اس موقع پر وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ خیبرپختونخوا حکومت کے ساتھ مثبت بات چیت ہوئی۔وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری نے کہا کہ سیاستدانوں پر تنقید کرنے والے آج شرمندہ ضرور ہوں گے، ہم نے مشکلات کا حل نکالا ہے۔انہوں نے بتایا کہ خیبر پختونخوا میں بجلی کی لوڈ شیڈنگ میں کمی کیلئے وفاق اور صوبائی حکومت نے مشترکہ اقدامات کا فیصلہ کیا ہے، وزیراعلیٰ کے پی نے کہا ہے کہ معاملات حل ہونے میں وقت لگے گا تب تک عوام کو ریلیف فراہم کیا جائے گا۔ وزیر اعلی امین علی گنڈا پور نے کہا کہ وفاق اور صوبہ نے مل بیٹھکر مسائل کا حل نکالنے کی کوشش کی تمام ادارے مل کر کام کریں گے ہماری اداروں سے کوئی جنگ نہیں ہے ۔ دوسری جانب وزیر دا خلہ محسن نقوی کا کہنا ہے کہ کے پی کے حکومت سے مثبت بات چیت ہوئی ۔
صوبے کے عوام کا ایک بڑا مسئلہ حل ہو گیا ۔وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا کہ خیبرپختونخوا حکومت کے ساتھ مثبت بات چیت ہوئی، خیبرپختونخوا میں ایک بڑا بحران تھا جو حل ہوا اسے سراہنا چاہئے ۔ انہوں نے کہا مولانا فضل الرحمان سے میرا 25 سال پرانا تعلق ہے، مولانا فضل الرحمان سے میرا تعلق رہے گا، مولانا کو حکومت سے کوئی ایشو ہوگا مجھ سے نہیں۔ اس موقع پر وزیر اعلی علی امین گنڈا پور نے وزیر داخلہ محسن نقوی کو سراہتے ہوئے انھیں پورے ملک کا وزیر اعلی قرار دے ڈالا ۔ انہوں نے کہا کہ وفاق اور صوبے ملکر کام کریں گے، ملکر ہم نے معاملات طے کئے ہیں، ہم نے ایسا راستہ نکالا ہے عوام کو ریلیف ملے گا اور نقصانات میں بھی کمی آئے گی، ہم نے باہمی مشاورت سے معاملات طے کئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اویس لغاری سے وزیر توانائی کی حیثیت سے بات ہوئی ہے، بات چیت کا ہماری پارٹی معاملات سے کوئی تعلق نہیں، بانی پی ٹی آئی نے ہمیشہ کہا اداروں کو مضبوط ہونا چاہئے۔ ہماری اداروں سے کوئی جنگ نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہماری کسی ادارے سے جنگ ہے نہ سسٹم سے جنگ ہے، سیاسی تحریک اور انتظامیہ کے معاملات کو مکس نہ کیا جائے، لوڈشیڈنگ میں خیبرپختونخوا کو ریلیف ملنا چاہئے، لوڈشیڈنگ کے خاتمے کے لئے جو لائحہ عمل بنایا ہے اس میں صوبے کے عوام کا تعاون چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا صوبہ پورے ملک کو بجلی پیدا کرکے دے رہا ہے، لائن لاسز کنٹرول کرنے، وجوہات پر ملکر کام کریں گے۔ انہوں نے کہا الیکشن سے متعلق ہمارے کیسزعدالتوں میں چل رہے ہیں، گورنرخیبرپختونخوا سے میرا کوئی اختلاف نہیں، لوڈشیڈنگ عوام کا بڑا مسئلہ ہے۔ وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری نے کہا کہ آج ملک کے لئے بہت خوش آئند دن ہے، سیاست دانوں پر تنقید کرنے والے آج شرمندہ ضرور ہوں گے، وزیرداخلہ محسن نقوی کا شکر گزار ہوں، ہم نے مشکلات کا حل نکالا ہے، آج ہم نے بیٹھ کر ایک ماڈل بنایا ہے، دوسرے صوبوں سے بھی شیئر کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ کل تک معاملے پر حکمت عملی بنالی جائے گی، آج تحریک انصاف نے بہت بڑا قدم اٹھایا ہے جس پر وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے شکر گزار ہیں۔وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور وزارت داخلہ پہنچے جہاں وزیر داخلہ محسن نقوی اور وزیر توانائی اویس لغاری موجود تھے۔ ملاقات میں خیبر پختون خوا کی بجلی کے معاملے پر اہم بات چیت ہوئی۔ملاقات کے بعد تینوں شخصیات نے مشترکہ پریس کانفرنس کی اور بتایا کہ وفاق اور خیبر پختون خوا کی حکومت صوبے میں بجلی کے مسئلے کو حل کرنے کیلیے مشترکہ طور پر کام کریں گے۔
Comments are closed.