ایک شخص اپنے اقتدار کی خاطر ملک کو ناقابل تلافی نقصان پہنچانے پر تلا ہوا ہے،رؤف حسن

اسلام آباد(آن لائن) پاکستان تحریک انصاف کے سیکرٹری اطلاعات رؤف حسن نے کہا ہے کہ سانحہ 1971کے ذمہ دار جنرل یحیٰ خان تھے جس نے اپنے اقتدار کی خاطر ملک کو دولخت کیا ہے اور آج بھی یہی صورتحال ہے کہ ایک شخص اپنے اقتدار کی خاطر ملک کو ناقابل تلافی نقصان پہنچانے پر تلا ہوا ہے انہوں نے کہاکہ ہم ملک میں آئین اور قانون کی پاسداری چاہتے ہیں اور اناانصافیوں کے خلاف ہر محاذ پر احتجاج کریں گے۔بدھ کو نیشنل پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے را?ف حسن نے کہاکہ شاہ محمود قریشی کی طرح بانی چیرمین کے خلاف بھی مذید مقدمات بنائے جارہے ہیں تاکہ انہیں مذید کچھ عرصے تک جیل میں رکھا جاسکے انہوں نے کہاکہ جوں جوں دن گزر رہے ہیں ریاست پر اسٹیبلشمنٹ کا پریشر بڑھ رہا ہے اور ریاست کے کارندوں کی حتی الامکان کوشش ہے کہ بانی چیرمین کو کیل سے باہر نہ آنے دیا جائے انہوں نے کہاکہ آج ہم انصاف کا قتل ہوتے ہوئے دیکھ ریہ ہیں اور ریاست کو کمزور ہوتے ہوئے دیکھ رے ہیں اور گذشتہ دو سالوں سے کہ تماشہ دیکھ رہے ہیں انہوں نے کہاکہ اس ملک میں اسٹیبلشمنٹ کے براہ راست مداخلت سے ملک کو مسائل درپیش ہیں اور آج عدالت میں اسٹیبلشمنت کے کردار کو سب نے دیکھا ہے اور جب تک اسٹیبلشمنٹ کا یہ گھنائونا کردار جاری رہے گا یہ ملک ترقی نہیں کر سکتا ہے انہوں نے کہاکہ شاعر احمد فرہاد ایک نظم کی پاداش میں غائب رہا ہے انہوں نے کہاکہ اسٹیبلشمنٹ کے اس روئیے کے خلاف ہماری جدوجہد جاری رہے گی اور جو لوگ بھی ذمہ دار ہیں ان کو احتساب کے کٹہرے میں کھڑا ہونا پڑے گا انہوں نے کہاکہ اس وقت ملک میں جرم اور فسطائیت کا بازار گرم ہے بانی چیرمین کے خلاف عدت کا کیس ختم ہوچکا ہے اور دیگر مقدمات بھی تقریباً ختم ہیں ہمیں خوف ہیں کہ مذید نئے مقدمات بھی بنائے جائیں گے انہوں نے کہاکہ پی ٹی آئی کے بیانئے کے حوالے سے بے بنیاد الزامات لگائے جارہے ہیں انہوں نے کہاکہ حمود الرحمن کمیشن رپورٹ میں پاک فوج کے خلاف کچھ بھی نہیں ہے رپورٹ میں لکھا گیا ہے کہ پاک فوج بہادری کے ساتھ لڑی ہے تاہم ایک شخص جنرل یحیٰ خان کا زکر ہے جس نے ریاست کو دائو پر لگا کر اپنے اقتدار و دوام بخشا تھا اور ریاست کے دو ٹکڑے ہوئے جب ایک مطلق العنان شخص واحد نے اپنی ریاست کو طوالت دینے کیلئے یہ کیا ہے اور آج بھی ایک شخص واحد اپنے اقتدار کی خاطر ایسے اقدامات اٹھا رہا ہے انہوں نے کہاکہ پاکستان کی چھ اکائیاں ہیں کیا ہم نے پاکستان کی شکل صرف پنجاب اور سند ھ کی شکل میں دیکھنی ہے کیا ہماری عدالتیں اس حوالے سے اپنا کردار ادا نہیں کر یں گی کہ اس ملک سے ڈکٹیٹر شپ ختم کرکے آئین اور قانون کو بحال کیا جائے انہوں نے کہاکہ آج بھی اقتدار کی خاطر ملک کی سلامتی کو دا? پر لگایا جارہا ہے انہوں نے کہاکہ ہم کسی کو بھی پاکستان کی سلامتی کو دا? پر لگانے کی اجازت نہیں دیں گے انہوں نے کہاکہ آج ملک کے مختلف حصوں کی حالت سب کے سامنے ہے کہ کچھ حصوں کو دا? پر لگایا جارہا ہے انہوں نے کہاکہ اس ملک کا مستقبل آئین اور قانون کے ساتھ منسلک ہے اور ملک میں ڈکٹیٹر نہیں چل سکتی ہے انہوں نے کہاکہ ملک میں گذشتہ دو سالوں سے آئین اور قانون کا فقدان نظر آرہا ہے اس ملک میں جتنے بھی ڈکٹیٹر آئے انہوں نے آئین کو سائیڈ پر رکھ دیا اور عدلیہ کے زریعے اپنے اقدامات کو نظریہ ضرورت کے تحت دوام پخشا گیا انہوں نے کہاکہ آج خطے میں امریکہ ایک اور لڑائی لڑنے کی تیاری کر رہا ہے اور وہ ہے چین کے ساتھ لڑائی اگر یہ لڑائی لڑی گئی تو پاکستان کا وجود بھی خطرے میں پڑ جائے گا انہوں نے کہاکہ ہماری لڑائی فوج کے ساتھ نہیں بلکہ ہماری لڑائی فرد واحد کے ساتھ ہے جو اپنے اقتدار کی خاطر میں ملک میں آئین اور قانون کو روند رہے ہیں انہوں نے کہاکہ بانی چیرمین کے خلاف 200سے زائد مقدمات ہیں اور انہی مقدمات میں چونکہ انہیں کوئی ثبوت نہیں مل رہا ہے اب وہ ملک ریاض پر دبا? ڈال رہے ہیں مگر انہوں نے کہاکہ اس لڑائی کا حصہ بننے سے انکار کردیا ہے اور بحریہ ٹا?ن کے دفتر سے تمام ریکارڈ قبضے میں لیا گیا ہے انہوں نے کہاکہ ملک ریاض اس وقت دبئی میں ہے اور انہوں نے صدر پاکستان کے ساتھ ملاقات کی کوشش ہے تاہم ابھی تک انہیں کامیابی نہیں ملی ہے انہوں نے کہاکہ خاور مانیکا جیسے گھٹیا شخص کو آج سب نے دیکھا ہے یہ مقدمات قائم نہیں رہ سکتے ہیں تاہم اگر انصاف کے تقاضے پورے نہ ہوئے اور بڑی عدالتوں کے حوالے سے جو اقدامات اٹھائے جارہے ہیں اور حکمران ججز کے بارے میں جو زبان استعمال ہورہی ہے اس کو سب دیکھ رہے ہیں انہوں نے کہاکہ آج بھی مسلم لیگ ن ججز کو خریدنے کی کوشش کر رہی ہے تاہم کچھ ججز صاحبان نے بکنے سے انکار کردیا ہے اور یہ صاحب اقتدار اور ڈکٹیٹرز کو پریشان کر رہی ہے کہ اگر بانی چیرمین باہر آگئے تو ہمارے اقتدار کا سورج غروب ہوجائے گاانہوں نے کہاکہ بانی چیرمین نہیں چاہتا کہ جیل سے عوامی احتجاج کی کال دیں کیونکہ ملک بہت کمزور ہے اور احتجاج برداشت نہیں کر سکتا ہے تاہم دیکھ رہے ہیں کہ کب تک ہم احتجاج کو روکیں گے ہمارے اوپر بھی بہت زیادہ پریشر ہے اور اس کے بعد کیا ہوگا مجھے امید ہے کہ اس سے پہلے ہی صاحب اقتدار لوگوں کو عقل آئے گی اور انہیں اپنی ذمہ داریوں کو احساس ہوجائے اور ملک میں آئین اور قانون کے مطابق فیصلے ہونے دیں تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوں اس موقع پر بانی پی ٹی آئی کے وکیل نعیم پنجوتہ نے کہاکہ بانی چیرمین دو کیسز سائفر اور عدت کیسز میں پابند سلاسل ہیں جبکہ بشری بی بی عدت کیس میں پابند سلاسل ہیں آج مخالف وکیل رضوان عباسی کو موقع دیا مگر انہوں نے منظم طریقے سے پی ایم ایل این کے ووکلا کے ساتھ موجود رہے اور ان کا مقصد عدالت میں لڑائی اور شور شرابا کرکے کیس کو خراب کرنا تھا مگر ہمارے کارکنوں نے ہمت اور حوصلے سے کام لیا اور تمام تر گالی گلوچ کو برداشت کیا مگر دوسری جانب سے جج صاحب کے اوپر بھی الزامات عائد کئے گئے انہوں نے کہاکہ حکومت کا مقصد بانی چیرمین کو مذید مقدمات میں جیل میں رکھنا ہے القادر ٹرسٹ کیس میں نیب ہائیکورٹ میں جاتا ہے اور مذید گواہان پیش کرنے کیلئے بانی چیرمین کو ضمانت نہ دینے کی درخواست کر رہا ہے انہوں نے کہاکہ یہ سب کچھ صرف اس لئے کیا جارہا ہے کہ بانی چیرمین ہار مان جائیں انہوں نے کہاکہ توشہ خانہ پارٹ فور شروع کیا جارہا ہے بانی چیرمین نے توشہ خانہ سے ہر چیزقانون کے مطابق لی ہے اس موقع پر انتظار پنجوتہ نے کہاکہ بانی چیرمین سے ملاقات کرکے واپس آرہا ہوں بانی چیرمین نے یہ سوال کیا ہے کہ اگر نگران وزیر اعظم سے قوم یہ سوال کرتی ہے کہ 8فروری کے انتخابات کے بارے میں جوڈیشیل کمیشن کیوں نہیں بنایا جارہا ہے اگر عوام کے منتخب نمائندوں کو اختیارات نہیں دئیے جاتے ہیں تو حالات 1971جیسے ہوجاتے ہیں انہوں نے کہاکہ دبئی لیکس میں وزیر داخلہ محسن نقوی کے اثاثوں کا انکشاف ہوا ہے اس حوالے سے پوچھا جائے انہوں نے کہاکہ جو بھی اقتدار میں آتا ہے تو حکمرانوں کے بیرون ممالک پراپرٹیز کیسے بن جاتی ہیں انہوں نے کہاکہ پنجاب میں گندم سکینڈل کو ذمہ دار کون ہے اس کے اوپر حکومت کو جواب دینا ہوگا انہوں نے کہاکہ پنجاب حکومت کی جانب سے نئے کیسز بنانے کو بانی چیرمین نے ویلکم کرتے ہوئے کہاہے کہ میں یہ مقدمہ بھگتنے کیلئے تیار ہوں مگر شرط یہ ہے کہ اس مقدمے کو قومی ٹیلی ویڑن پر براہ راست نشر کیا جائے تاکہ عوام کو حقائق اور تاریخ کا علم ہوسکے انہوں نے کہاکہ 1971کے واقعات کا سب سے زیادہ نقصان جنرل یحیٰ خان کی وجہ سے فوج کو ہوا ہے انہوں نے کہاکہ بانی چیرمین پاکستان کو ایک طاقتور اور مضبوط ملک بنانے کے خواہشمند ہیں۔

Comments are closed.