سپریم کورٹ،مبارک ثانی فیصلے پر نظر ثانی کی درخواست پر فیصلہ
اسلام آباد(آن لائن)سپریم کورٹ میں توہین مذہب کے ملزم مبارک ثانی کے بارے میں فیصلے پر نظر ثانی کی درخواست پر عدالت نے فریقین کے دلائل کے بعد فیصلہ محفوظ کرلیا،سپریم کورٹ نے تمام فریقین کے وکلا سے تحریری معروضات طلب کر لیں،سپریم کورٹ نے کہاہے کہ علما کرام کی جانب سے جمع کرائی گئی آرا کا بھی جائزہ لیا جائے گا،بدھ کے روزچیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت کی اس دوران چیف جسٹس قاضی فائزعیسیی نے کہاکہ عدالت میں مختلف فریقین اور علمی اداروں کی جانب سے اپنے رائے جمع کروائی گئی ہے، پانچ اداروں کی جانب سے مشترکہ رائے دی گئی ہے، پہلے مشترکہ رائے کا جائزہ لیں گے، علمی اداروں کی مشترکہ رائے کو ترجیح دیں گے، ہو سکتا ہے مشترکہ رائے کے بعد انفرادی رائے کی ضرورت نہ رہے، مشترکہ رائے کے جائزہ کیلئے وکلا کو مہلت دی گئی،بعدازاں عدالت نے فیصلہ محفوظ کرلیا،چیف جسٹس نے کہاہے کہ اگر ضرورت پیش آئی تو کیس کو دوبارہ بھی مقرر کیا جاسکتا ہے۔ دوران سماعت علماء کرام کی ایک کثیر تعدادموجودتھی،جبکہ عدالت کے باہر بھی بڑی تعداد میں علماکرام اور طلباء آئے ہوئے تھے سیکیورٹی کے بھی سخت ترین اقدامات کیے گئے تھے۔چیف جسٹس کاکہنا تھا کہ پانچ مکاتب فکر کے علما کی آرا موصول ہوئی ہیں
‘پانچوں مکاتب فکر نے ایک جیسی آراء دی ہیں‘علما آپس میں ایک طے کرکے ایک مکاتب فکر کی رائے پڑھ دیں‘اس موقع پر جامعہ نعیمیہ کراچی کا نمائندہ رائے پڑھنے کیلئے پیش ہوا اور اس نے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلہ میں قرآنی آیات کے حوالہ جات معاملے سے مطابقت نہیں رکھتے ‘ہماری استدعا ہے کہ عدالتی فیصلے میں دئیے گئے حوالہ جات کو حذف کیا جائے۔ نمائندہ کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں مقدمہ کی دفعات بھی ختم کردی‘دفعات کا فیصلہ ٹرائل کورٹ کو کرنے دیا جائے ‘سپریم کورٹ اپنا فیصلہ ضمانت کی حد تک محدود رکھے ۔ اس موقع پر ڈائریکٹر جنرل اسلامی نظریاتی کونسل پیش ہوئے اور کہا کہ کتاب کی تشہیر کے وقت قانون نہ ہونے کی حد تک متفق ہیں‘2011 کے ایک قانون کے مطابق بھی ایسے مواد کی تشہیر نہیں کی جا سکتی۔چیف جسٹس قاضی فائز عیسی نے کہا کہ اسلامی نظریاتی کونسل نے اپنی رائے میں فوجداری دفعات کا ذکر کیا ‘اسلامی نظریاتی کونسل سپریم کورٹ بننے کی کوشش نہ کرے ‘عدالت نے صرف قرآن و حدیث کی روشنی میں رائے مانگی تھی۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ہمارے نبی سارے انسانوں کیلئے تھے ‘پوری دنیا میں قرآن پاک کا ایک ہی نسخہ ہے ‘قرآن پاک میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی ‘لاکھوں مسلمان قرآن پاک کے حافظ ہیں ‘دنیا میں کسی اور کتاب کو یہ رتبہ حاصل نہیں ۔اس موقع پر ایک عالم دین نے کہا کہ عیسائیوں کی کتاب کے چھیتیس ہزار سے زائد ورثن ہیں ۔
Comments are closed.