عمران خان ،بشری بی بی عدت کیس کا فیصلہ موخر،جج نے اسلام آباد ہائی کورٹ کو آگاہ کر دیا

اسلام آباد( آن لائن )بانی پی ٹی آئی عمران خان اور بشری بی بی عدت کیس کا فیصلہ سنانے والے جج نے فیصلہ موخرکرنے ہوئے معاملہ بارے ہائیکورٹ کو آگاہ کردیا جبکہ پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کے بارے میں دوران عدت نکاح کیس کی سماعت کے دوران سخت جملے اور قابل اعتراض الفاظ استعمال کر نے پر وکلا نے خاور مانیکا پر حملہ کرتے ہوئے تشدد کا نشانہ بنا دیا۔ ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد میں عدت میں نکاح کیس کی سماعت ہوئی ،عدت میں نکاح کیس میں دائر اپیلوں پر سماعت کے دوران خاور مانیکا ہاتھ اٹھاکے بانی پی ٹی آئی عمران خان کے لیے بد دعائیں کرتے رہے۔خاورمانیکا نے کہاکہ بچوں کو یکم جنوری کے نکاح کا علم ہی نہیں ہے ، میں نے بچوں کو کہا کہ 14 فروری کو عدت ختم ہورہی ہے اس کے بعد دیکھنا نکاح آجائے گا ، اس کے بعد 18 فروری کو نکاح سامنے آگیا۔جج شاہ رخ ارجمند نے سماعت شروع کی تودوران سماعت عدالت نے خاور مانیکا کو بانی پی ٹی آئی کیلئے غیر مناسب الفاظ استعمال کرنے سے روک دیا،خاور مانیکا نے کہاکہ پی ٹی آئی کی فوج آجاتی اور مجھے گالیاں دیں جاتی رہیں ، عثمان ریاض گل ایڈووکیٹ نے مجھے عدالت کے سامنے کہا کہ اٹھا کر باہر پھینک دوں گا ، بانی پی ٹی آئی چھوٹی چھوٹی بات پر قرآن اٹھانے کو تیار ہوجاتے ہیں ، مجھے پتا ہی نہیں تھا کہ یہ میرے گھر میں کیا کرتا رہا ، مجھ سے غلطی ہوگئی کہ سمجھ لیا بانی پی ٹی آئی دین کے واسطے آتے ہیں،نکاح چھپ کرکیا تو معلوم ہوا بانی پی ٹی آئی نے اللہ کے نام پر دھوکادیا،خاورمانیکا کے جملے پر کارکنان کی نعرے بازی کی، سیشن جج شاہ رخ ارجمند نے خاور مانیکا کو ہدایت کی کہ کیس پر واپس آئیں،خاور مانیکا نے کہاکہ گزشتہ چار سال سے اسلامی سوسائٹی تباہ ہوگئی ہے

، قدرت کی طرف سے بانی پی ٹی آئی کی پکڑ ہورہی ہے،بانی پی ٹی آئی نے بچوں کو دھوکادیا، فساد کے علاوہ کچھ نہیں کیا۔سیشن جج شاہ رخ ارجمند نے خاورمانیکا کو ہدایت کی کہ آپ کے پوائنٹ لکھ لیے، مجھے کچھ اور پوائنٹ بتائیں، خاور مانیکا نے کہاکہ بانی پی ٹی آئی نے سوسائٹی کو تباہ کردیا، بہنیں بیٹیاں والدین کے خلاف ہوگئیں،جب بچوں کو بتایاکہ مجھے طلاق ہوگئی تو بچے بہت روئے،میری ماں دکھ سے وفات پا گئی،خاورمانیکا کمرہ عدالت میں آبدیدہ ہوگئے۔خاور مانیکا نے کہاکہ اللہ و رسول کے نام پر بانی پی ٹی آئی نے دھوکادیا،خاور مانیکا کا بانی پی ٹی آئی کیلئے نامناسب الفاظ کے استعمال پر پی ٹی آئی کارکنان کی جانب سے شدید غصے کا اظہار کیا گیا۔عدالت نے خاور مانیکا کو کیس کی حد تک بات کرنے کی ہدایت کی ، خاور مانیکا نے کہاکہ اللہ نے قرآن پاک میں لکھا ہے کہ طلاق کے بعد عدت پوری کرو، طلاق بارے31 جنوری 2018 کو میں نے اپنے بچوں کو بتایا ، 18 فروری کو نکاح کرتے تو وہ جائز نکاح تھا ، انہوں نے یکم جنوری کو نکاح کرکے خدا کو بھی دھوکا دیا ، چار سال تک کسی نے نہیں پوچھا آپ کا مسئلہ تو نہیں ہوا، سب نے کاموں کیلئے مجھ سے رابطہ کیا، پرویز الٰہی اپنے بچے کے کام کیلئے میرے پاس آیا۔خاور مانیکا نے کہاکہ میری بیٹی کو طلاق ہوگئی ہے، گھر سے فارغ ہوکر بیٹھی ہے،بشریٰ بی بی کہتی میرے بچے مر گئے میرے لیے،خاورمانیکا شدید آبدیدہ ہو گئے،خاور مانیکا کی جانب سے کیس کسی اور عدالت کو ٹرانسفر کرنے کی استدعا کی گئی اورعدالت پر عدم اعتماد کا اظہار کیا،خاورمانیکا نے بانی پی ٹی آئی کو کمرہ عدالت میں ہاتھ اٹھا کر بددعائیں دی۔خاور مانیکا نے بیان دیتے ہوئے عمران خان کے بارے میں نہایت سخت اور غیر مناسب الفاظوں کا استعمال کیا جس پر پی ٹی آئی کے وکلا شدید غصے میں آ گئے۔سماعت کے بعد جیسے ہی فاضل جج اٹھ کر چیمبر میں گئے تو پی ٹی آئی کے وکلا نے کمرہ عدالت میں انہیں بوتلیں مارنا شروع کر دیں اور احاطہ عدالت میں تھپڑ بھی مارے۔ خاور مانیکا وکلا کے حملے کے بعد زمین پر گر پڑے۔جس کے بعد کچھ وکلا نے انہیں وہاں سے نکلنے میں مدد کی۔ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج شاہ رخ ارجمند کی جانب سے عدت کے دوران عمران خان اور بشریٰ بی بی کی سزا کے خلاف اپیل پر محفوظ کیا گیا فیصلہ بدھ کو سنایا جانا تھا جس پر دوران سماعت درخواست گزار کے وکیل رضوان عباسی اور خاور مانیکا عدالت پہنچے۔ بانی چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کے خلاف دورانِ عدت نکاح کیس میں خاور مانیکا کی جانب سے جج پر عدم اعتماد کا اظہار کیا گیا۔دوران سماعت خاور مانیکا نے عدالت میں کہا کہ میں آپ سے فیصلہ نہیں کروانا چاہتا، مجھے لگتا ہے آپ انفلوئنس ہوئے پڑے ہیں، آپ فیصلہ نہ دیں۔ خاور مانیکا نے دوران سماعت اپنا وکیل تبدیل کرنے کی استدعا کردی اور جج پر عدم اعتماد کا اظہار کردیا۔سماعت کے آغاز پر خاور مانیکا نے عدالت سے استدعا کی کہ مجھے بولنے کی اجازت دی جائے۔ میرے وکیل میرے جذبات کو واضح نہیں کر پا رہے

، جس پر جج نے ریمارکس دیئے کہ آپ اپنے وکیل کو بات کرنے دیں۔ خاور مانیکا نے بتایا کہ میرے 2 وکیل ہیں جو میرے علاقے سے ہیں۔ ہر روز میرے بارے میں باتیں پھیلائی جارہی ہیں۔ میری بیٹی کی طلاق کے بارے میں باتیں پھیلائی جارہی ہیں۔ جعلی طلاق لیٹر بنا کر سوشل میڈیا پر پھیلایا جا رہا ہے۔ کچھ دنوں سے چہ میگوئیاں ہورہی ہیں۔ آج یہ بات ہورہی ہے کہ وہ سابق وزیراعظم ہے، اس کی عزت ہے تو غریب آدمی کی کیوں نہیں؟خاور مانیکا نے عدالت میں کہا کہ میں نے یکم جنوری کا نکاح نامہ عدالت میں دیکھا۔ مجھے دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔ غریب آدمی کی بات بھی سنیں۔ مجھے اس عدالت پر یقین نہیں ہے، مجھے صرف اللہ پر یقین ہے۔ مجھے غریب سمجھ کر سوچیں کہ میرے گھر کے ساتھ کیا ہوا ہے، میرا گھر تباہ ہوگیا۔خاور مانیکا نے کہا کہ میں آپ سے فیصلہ نہیں کروانا چاہتا۔ مجھے لگتا ہے آپ انفلوئنس ہوئے پڑے ہیں۔ آپ فیصلہ نہ دیں۔ خاور مانیکا نے کہا کہ رضوان عباسی دلائل نہ دیں۔ اس موقع پر خاور مانیکا نے اپنا وکیل تبدیل کرنے کی استدعا کردی۔دوران سماعت پی ٹی آئی کے وکیل بیرسٹر گوہر نے کہا کہ انہوں نے کوئی بات قانون کے مطابق نہیں کی۔ آپ کیس کی کارروائی مکمل کرچکے ہیں۔جج نے رضوان عباسی کو ہدایت کی کہ آپ مانیکا صاحب کے ساتھ بات کرلیں، جس پر خاور مانیکا نے کہا کہ میں ان سے بات نہیں کرنا چاہتا، آپ ہمارا کیس ٹرانسفر کردیں، جس پر جج شاہ رخ ارجمند نے ریمارکس دیے کہ اس اسٹیج پر میں کیس ٹرانسفر نہیں کر سکتا۔ خاور مانیکا نے کہا کہ ہمارا بچا ہوا گھر بھی تباہ کیا جا رہا ہے۔ ہاتھ باندھ کر کہتے ہیں اللہ اور اس کے رسول کے حکم پر فیصلہ دیں۔میرے پاس جہانگیر ترین کے پیغامات ہیں کہ۔عدت میں نکاح کیس میں اپیلوں پر خاور مانیکا نے عدالت سے بڑی استدعا کردی،بیرسٹر گوہر نے کہا کہ بندہ جیل میں بیٹھا ہے۔ ہمیں عدالت پر یقین ہے جو عدالت کا فیصلہ کرے ٹھیک ہے۔جج شاہ رخ ارجمند نے ریمارکس دیے کہ ان کے بیان کے بعد جو بھی فیصلہ آیا وہ متنازع ہوجائے گا۔ اس موقع پر جج کمرہ عدالت سے اٹھ کر چلے گئے جب کہ عدالت میں موجود پی ٹی آئی کی خواتین نے خاور مانیکا کے خلاف نعرے لگانے شروع کردیے جس پر جج نے فیصلہ موخر کردیا۔ بعد ازاں ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس کے جج شاہ رخ ارجمند نے عدت میں نکاح کیس دوسری عدالت منتقل کرنے کیلئے رجسٹرار اسلام آباد ہائیکورٹ کو خط لکھ دیا۔ شاہ رخ ارجمند نے خط میں کہا کہ بشریٰ بی بی اور بانی پی ٹی آئی کی اپیلیں سماعت کیلئے مقرر تھیں،خاور مانیکا نے مجھ پر عدم اعتماد کااظہار کیا ہے،عدم اعتماد کی درخواست اس سے قبل خارج کی جا چکی ہے،خاور مانیکا کے دوبارہ عدم اعتماد پر اپیلوں پر فیصلہ سنانا درست نہیں ہوگا، اپیلوں کو دیگر کسی عدالت میں ٹرانسفر کرنے کی درخواست ہے۔جج شاہ رخ ارجمند نے کہاکہ خاور مانیکا اور ان کے وکلا نے ہمیشہ سماعت میں خلل ڈالنے کی کوشش کی۔

Comments are closed.