”ہم کالی بھیڑیں نہیں بلکہ کالے بھونڈ ہیں“جسٹس اطہر من اللہ کے ریمارکس پرمسکراہٹیں
اسلام آباد(آن لائن)سپریم کورٹ میں نیب ترامیم کیس کے دوران اس وقت حاضرین کے لبوں پر مسکراہٹیں بکھر گئیں جب جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیئے ”ہم کالی بھیڑیں نہیں بلکہ کالے بھونڈ ہیں“۔سماعت کے دوران #جسٹس جمال مندوخیل نے پوچھا کہ وزیراعظم نے ہمیں کالی بھیڑیں کہا تھا؟اٹارنی جنرل نے وضاحت کی کہ یہ الفاظ موجود ججز کیلئے استعمال نہیں کئے گئے۔اس پر جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ اٹارنی جنرل صاحب وزیراعظم صاحب کو بتا دیں عدلیہ میں کوئی کالی بھیڑیں نہیں ہیں، اگر وزیراعظم صاحب یہ سمجھتے ہیں کہ عدلیہ میں کالی بھیڑیں ہیں تو انکے خلاف ریفرنس فائل کر دیں، اٹارنی جنرل صاحب وزیراعظم صاحب کو بتادیں ہم کالی بھیڑیں نہیں بلکہ کالے بھونڈ ہیں۔
Comments are closed.