وفاق اور صوبہ کے درمیان پل ہیں‘گورنرہاؤس ساز ش کا حصہ نہیں ہوگا،فیصل کریم کنڈی
لاہور (آن لائن) گورنرخیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا کا گورنر ہاوٴس کسی سازش کاحصہ نہیں ہوگا۔ لفظی جنگ بھی ختم کرنے اور وفاق اور صوبے کے درمیان پل کا کردار ادا کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ملک اور صوبے کی ترقی کیلئے مل کر کام کریں گے، خیبرپختونخوا کو ترقی یافتہ صوبہ بنائیں گے ، مرکز اور صوبوں کے درمیان پل کا کردار اداکروں گا۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم سے ملاقات میں صوبے کے مسائل پر گفتگو کی، وفاق کے نمائندے کی حیثیت سے صوبے کا مقدمہ لڑنا میری ذمہ داری ہے، وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور نے ایس آئی ایف سی اجلاس میں دلائل کے ساتھ بات کی، وزیراعلیٰ کے پی ایسی زبان استعمال کرتے تھے جس سے مسائل کا حل نہیں نکلتا تھا، مسائل کا حل بیان بازی سے نہیں بیٹھ کر بات چیت سے نکلے گا۔ انہو ں نے کہا کہ وزیراعلیٰ کے پی کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ وہ متعلقہ فورم پر گئے، مستقبل میں بھی ایسا رویہ رہا تو وفاق کیساتھ مسائل حل ہوں گے
، کوئی کسی کو کسی جگہ جانے سے نہیں روک سکتا، بلاول بھٹو خیبرپختونخوا آئیں گے، گورنر ہاوٴس میں قیام کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ تمام جماعتوں کے لیڈرز کو دعوت دیتا ہوں ہمارے پاس آئیں، ان کی کوئی مجبوری ہے نہیں آسکتے تو میں خود ان کے پاس جاسکتا ہوں، لفظی جنگ ہوئی جب مجھے احساس ہوا تو میں نے اپنے الفاظ واپس لے لئے ۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی ایک سیاسی جماعت ہے لیکن اگر یہ جماعت اسٹیبلشمنٹ کے کندھوں پر آنا چاہتی ہے تو میں کچھ نہیں کہہ سکتا، اگر پی ٹی آئی جمہوری قوتوں کیساتھ بات چیت کرنا چاہتی ہے تو ہم تیار ہیں، وہ چاہتے ہیں جیسے ماضی میں کندھوں پر بیٹھ کر آئے اب بھی ویسے آئیں، سیاسی جماعتوں کو ایک دوسرے کیساتھ بیٹھنا چاہیے۔ انہوں نے کہاکہ 9 مئی کے ماسٹر مائنڈ کو سب سے پہلے سزا ملنی چاہیے، 9 مئی جیسا واقعہ کوئی دشمن بھی نہیں کرسکتا، غلطیاں کرنے کے بعد صفائیاں دے رہے ہیں لیکن ٹویٹ ڈیلیٹ نہیں کیا، ٹویٹ کی ذمہ داری بھی نہیں لے رہے، ڈیلیٹ بھی نہیں کررہے، یہ چوری بھی کرتے ہیں اور سینہ زوری بھی کرتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی خوش آئند ہے، آج 4 روپے کمی ہوئی، آئندہ 15 روپے کمی بھی ہوگی ، سرکاری ملازمین کی تنخواہیں 25 فیصد بڑھنی چاہئیں، غریب عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف ملنا چاہیے۔
Comments are closed.