وزیراعظم کے پرنسپل سیکرٹری نے پرانی سمری بھجواکرعوام کو زیادہ ریلیف دلوادیا
اسلام آباد(آن لائن)پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اختلاف کے حوالے سے نئے انکشافات سامنے آئے ہیں،معلوم ہواہے کہ پرنسپل سیکرٹری نے پرانی سمری بھجوادی تھی ، وزیراعظم کی منظوری کے بعد پی ایم کی جانب سے خوشخبری کی پریس ریلیز بھی جاری کردی گئی جس کے بعد وزارت خزانہ ، پیٹرولیم اور اوگرا نے فوری طور پر آپس میں رابطہ کیا اور ذرائع کے مطابق وزیر خزانہ نے وزیر اعظم کو اس بابت آگاہ کیا اور بتایا کہ غلطی سے پرانی سمری کی منظوری لے لی گئی ہے موجودہ اوگرا سمری میں پیٹرول 4.74روپے اور ڈیزل 3.86پیسے فی لیٹر کم ہونا تھا اس پر فیصلہ تبدیل کیا گیا۔ ذرائع کے مطابق پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی میں دو مرتبہ ردوبدل کے معاملہ پر حقائق سامنے آگئے ہیں کہ عوام کو بڑے ریلیف سے کیوں ہاتھ دھونا پڑے،معلوم ہوا ہے کہ وزیراعظم کو پرنسپل سیکرٹری کی جانب سے گزشتہ ماہ کی سمری غلطی سے پیش کردی گئی ‘15مئی والی سمری میں پیٹرول کی قیمت میں پندرہ روپے چالیس پیسے اور ڈیزل کی قیمت میں سات روپے نوے پیسے کی کمی گئی تھی ۔ذرائع کے مطابق غلطی سے پرانی سمری کی منظوری لے لی گئی جبکہ موجودہ اوگرا سمری میں پیٹرول 4.74روپے اور ڈیزل 3.86پیسے فی لیٹر کم ہونا تھا ۔ذرائع کے مطابق رابطے پر وزیراعظم نے وزیرخزانہ سے استفسار کیا کہ کیا ہم اعلان شدہ ریلیف فراہم کرنے کی پوزیشن میں ہیں ؟ تو وزیرخزانہ نے کہ ہم ایسا نہیں کرسکتے اس پروزیراعظم نے اپنے سٹاف کی سخت سرزنش کی اور خبردار کیاکہ آنکھیں کھلی رکھیں۔بعد ازاں نئی سمری کی منظوری دیدی گئی ۔نئی سمری مین پندرہ روپے چالیس پیسے فی لٹر والا ریلیف کم ہوکر چار روپے چوہتر پیسے پر آگیااورڈیزل پر ملنے والا ریلیف کم ہوکر تین روپے چھیاسی پیسے فی لڑ پر آگیا ۔اسلام آباد کے مختلف سیکٹرز میں اسی غلط فہمی کی وجہ سے پیٹرول پمپ بند کردیئے گئے ۔ ڈیلرز کا کہنا تھا کہ صارفین ہم سے ساڑھے پندرہ روپے ریلیف مانگ رہے ہیں جبکہ ہم نے نوٹیفیکش پر قیتمیں کم کی ہیں ،پمپ منیجر کا موقف تھا کہ ہر صارف کے ساتھ وضاحت نہیں دے سکتے ۔
Comments are closed.