مخصوص سیاسی جماعت کیلئے عدالتی سہولت کاری۔۔ انصاف پر ضرب کاری
اسلام آباد(آن لائن)عام تاثر پایا جاتا ہے کہ دنیا بھر میں عدالتیں غیر جانبدارانہ فیصلے کرتی ہیں، ان کی فیصلے مفروضوں، ذاتی عناد، پسند و ناپسند اور جذبائیت اور سیاسی وابستگی سے بالاتر ہوتے ہیں، مگر آفرین ہے پاکستان کی اعلیٰ اور عظمیٰ عدلیہ پر جو مندرجہ بالا خصوصیات کی بنا پر فیصلے کرتی ہے۔اس لئے اس بات میں ذرا تعجب نہیں رہتا کہ ڈبلیو جے پی کی رپورٹ حقائق کے عین مطابق ہے جس میں پاکستان کی اعلیٰ عدلیہ 142 میں سے 130ویں نمبر پر ہے۔
مذکورہ بالا درجہ بندی کا بوجھ لئے بجائے صورتحال بہتر کرنے کے معزز عدلیہ سیاسی وابستگیوں کے نتیجے میں کیسز کو ازخود نوٹس کا سہارا دیکر سیاسی فائدے پہنچا رہے ہیں، عالم یہ ہے کہ جون 2023ء میں سپریم کورٹ میں 54,387 مقدمات زیر التوا تھے، دسمبر میں یہ تعداد بڑھ کر 57,766 تک پہنچ گئی، مجموعی طور پر زیر التوا مقدمات کی تعداد 22,262,000 ہے۔
پاکستان کی بدقسمتی رہی ہے کہ جب بھی ملک معاشی و سیاسی استحکام کی راہ پر گامزن ہوتا ہے جوڈیشل ایکٹوازم پوری طاقت کے ساتھ اس کا راستہ روکنے کیلئے سامنے آجاتا ہے، سیاسی وابستگیوں کا یہ عالم ہے کہ ایک ایسا شخص جو بانی مخصوص سیاسی جماعت ہے اور جو مختلف مقدمات میں شواہد کے ساتھ پابند سلاسل ہے جس میں قومی سلامتی جیسے حساس معاملات شامل ہیں میں اسے ریلیف اور سیاسی فائدہ دینے کیلئے عدلیہ کے مخصوص سیاسی حلقے پوری طرح متحرک ہو چکے ہیں جس سے یہ تاثر مل رہا ہے کہ نظام عدل کو بالائے طاق رکھ دیا گیا ہے۔
اب تک بانی مخصوص سیاسی جماعت کو عدالتوں کی جانب سے پانچ اہم ترین مقدمات میں شواہد ہونے کے باوجود مخصوص عدالتی حلقے کی جانب سے سہولت کاری فراہم کی گئی جس میں ٹیریان وائٹ کیس، توشہ خانہ کیس، الیکشن کمیشن اثاثہ جات کیس، 190 ملین پاؤنڈ کا کیس اوسائفر کیس شامل ہیں، ان تمام کیسزکا بغور جائزہ لیا جائے تو اس میں بانی مخصوص سیاسی جماعت کے ملوث ہونے کے واضح شواہد نہ صرف عدلیہ کو پیش کئے گئے بلکہ وہ شواہد میڈیا اور سوشل میڈیا پر بھی موجود ہیں مگر اس کے باوجوداتنے عدالتی کا جواز سیاسی وابستگی اور نرم گوشے کے سوا کیا ہوسکتا ہے۔۔۔؟
سوال یہ ہے کہ یہ تمام ریلیف ملنے کے بعد ان چھ ججز کے خط کی کیا اہمیت رہ جاتی ہے جو یہ کہتے ہیں کہ ہمارے اوپر فیصلے کرنے کے حوالے سے شدید دباؤ ہے۔۔۔…..؟
کیا اس طرح کے فیصلے کسی دباؤکی بنیاد پر کئے جاتے ہیں۔۔۔؟
کیا عدالتی فیصلوں کا بنیادی مقصد ملکی مفاد کو بالائے طاق رکھ کر محض سیاسی فائدہ پہنچنا ہے۔۔۔؟
کیا اس طرح کے فیصلے کا مقصد ریاست اور ریاستی اداروں کو بلواسطہ یا بلاواسطہ نشانہ بنانا ہے۔۔۔۔۔؟
کیا اس طرح کے فیصلے ان ججز کی سہولت میں صادر کئے جا رہے ہیں جن کی اہلیت پر آئین و قانون کے مطابق سوال اٹھائے گئے ہیں اور جن کے کیسز جوڈیشل کمیشن میں سماعت کے منتظر ہیں۔۔۔؟
یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ عدلیہ کے کچھ مخصوص حلقوں کی جانبداری اور اہلیت پر عوامی حلقوں کی جانب سے جب سوال اٹھائے گئے تو فوراً ردعمل کے طور پر سوموٹو کی تلوار نیام سے باہر آگئی اور توہین عدالت کے نوٹس صبح شام جاری ہونا شروع ہو گئے۔
مگر دنیا نے دیکھا کہ عدالتی سیاسی وابستگیاں مخصوص سیاسی جماعت کے ارکان کے بیانات سے واضح ہونا شروع ہو گئیں۔کچھ روز قبل مخصوص سیاسی جماعت کے ترجمان رؤف حسن نے ایک پریس کانفرنس کے دوران بڑے وثوق کے ساتھ کہا تھا کہ”اعلیٰ عدالتوں کی جانب سے ٹھنڈی ہوائیں آنا شروع ہو گئی ہیں“ کیا اس بات کی تصدیق نہیں کرتا کہ مخصوص سیاسی جماعت کے لئے نرم گوشتہ رکھنے والے ججز پس پردہ فیصلے پہلے ہی کرچکے تھے۔ان کے نزدیک شواہد اور قومی سلامتی سے زیادہ اہم سیاسی وابستگیاں ہیں
Comments are closed.