سپریم کورٹ، تمام سیاسی جماعتوں نے سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں کی درخواست کی مخالفت کردی

اسلام آباد(آن لائن)سپریم کورٹ میں سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں کی اپیلوں پر تمام سیاسی جماعتوں نے سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں کی درخواست کی مخالفت کر دی۔جبکہ سپریم کورٹ نے سماعت آج منگل دن ساڑھے 11 بجے تک ملتوی کردی گئی چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیے کہ سیاسی باتیں نہ کی جائیں۔چیف جسٹس قاضی فائزعیسیٰ کی جانب سے فیصل صدیقی کو ججز کے سوالات کے جواب دینے سے روکنے پر جسٹس منیب اختراور چیف جسٹس میں ناخوشگوار جملوں کاتبادلہ ہواہے جس میں چیف جسٹس نے فیصل صدیقی سے کہاکہ آپ اپنے دلائل نہیں دینگے تو مجھے کیا سمجھ آئے گی کہ آپ کی جانب سے کیا لکھنا ہے، میرا خیال ہے فیصل صدیقی صاحب ہم آپ کو سننے بیٹھے ہیں۔اس پر جسٹس منیب اختر نے کہا کہ یہ ایک غیرذمہ دارانہ بیان ہے، فل کورٹ میں ہر جج کو سوال پوچھنے کا اختیار اور حق حاصل ہے، اس قسم کا غیرذمہ دارانہ بیان تسلیم نہیں کیا جا سکتا۔چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں جسٹس سید منصور علی شاہ، جسٹس منیب اختر، جسٹس یحییٰ آفریدی، جسٹس امین الدین خان، جسٹس جمال خان مندوخیل، محمد علی مظہر، عائشہ ملک، اطہر من اللہ، سید حسن اظہر رضوی، شاہد وحید، عرفان سعادت خان اور نعیم اختر افغان پر مشتمل فل کورٹ بنچ نے کیس کی سماعت پیر کے روزکی۔چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کیس میں فریق مخالف کون ہیں؟ بینیفشری کون تھے جنہیں فریق بنایا گیا؟ جس پر فیصل صدیقی نے بتایا کہ جنہیں اضافی نشستیں دی گئیں وہی بینیفشری ہیں، مجموعی طور پر 77 متنازع نشستیں ہیں۔جسٹس فائز عیسیٰ نے پوچھا قومی اسمبلی کی کتنی اور صوبائی اسمبلی کی کتنی نشستیں ہیں؟ تفصیل دے دیں، فیصل صدیقی نے بتایا قومی اسمبلی کی 22 اور صوبائی کی 55 نشستیں متنازع ہیں۔وکیل فیصل صدیقی نے بتایا کہ سندھ میں 2 نشستیں متنازع ہیں، ایک پیپلز پارٹی اور دوسری ایم کیو ایم کو ملی جبکہ پنجاب اسمبلی میں 21 نشستیں متنازع ہیں جس میں سے 19 نشستیں ن لیگ، ایک پیپلز پارٹی اور ایک استحکام پاکستان پارٹی کو ملی، اقلیتوں کی ایک متنازع نشست ن لیگ، ایک پیپلز پارٹی کو ملی۔انہوں نے بتایا کہ خیبرپختونخوا اسمبلی میں 8 متنازع نشستیں جے یو آئی کو ملیں، خیبرپختونخوا اسمبلی میں مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کو بھی 5، 5 نشستیں ملیں، ایک نشست خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی پارلیمنٹیرین اور ایک عوامی نیشنل پارٹی کو ملی، خیبرپختونخوا میں 3 اقلیتوں کی متنازع نشستیں بھی دوسری جماعتوں کو دے دی گئیں۔جسٹس حسن اظہر رضوی نے پوچھا کہ ان جماعتوں نے اپنی نشستیں کتنی جیتی ہیں؟ جس پر سنی اتحاد کونسل کے وکیل نے عدالت کو تمام جماعتوں کی نشستوں کی تفصیل بتا دی۔مسلم لیگ ن، پیپلز پارٹی اور جے یو آئی ف نے سنی اتحاد کونسل کی اپیل کی مخالفت کر دی۔چیف جسٹس پاکستان نے جے یو آئی ف کے وکیل کامران مرتضیٰ سے مکالمہ کرتے ہوئے پوچھا آپ کی جماعت کا پورا نام کیا ہے؟ جس پر کامران مرتضیٰ نے بتایا ہماری جماعت کا نام جمیعت علماء اسلام پاکستان ہے۔جسٹس جمال مندوخیل نے استفسار کیا اگر آپ کی جماعت سے ف نکال دیں تو کیا حیثیت ہو گی؟

جس پر وکیل کامران مرتضیٰ نے کہا پارٹی کا لیڈر نکل جائے تو پارٹی کی کوئی حیثیت نہیں رہتی۔چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا اے این پی اور استحکام پاکستان پارٹی کی طرف سے کوئی ہے؟ جس پر وکیل فیصل صدیقی نے بتایا کہ اے این پی اور استحکام پاکستان کی طرف سے کوئی نہیں ہے۔وکیل سنی اتحاد کونسل نے عدالت کو بتایا کہ امیدواروں نے سرٹیفکیٹ لگایا تھا، الیکشن کمیشن نے کہہ دیا آپ آزاد امیدوار ہیں، جس پر جسٹس جمال مندوخیل نے پوچھا کیا الیکشن کمیشن کو یہ اختیار ہے کہ کسی کو خود آزاد ڈیکلئیر کر دے؟ جب پارٹی بھی کہہ رہی ہو یہ ہمارا امیدوار ہے، امیدوار بھی پارٹی کو اپنا کہے تو الیکشن کمیشن کا اس کے بعد کیا اختیار ہے؟چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے پوچھا کیا بینیفشری جماعتوں میں سے کوئی عدالت میں سنی اتحاد کونسل کی حمایت کرتی ہے؟ جس پر تمام جماعتوں نے سنی اتحاد کونسل کی درخواست کی مخالفت کر دی۔جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیئے اس کا مطلب ہوا آپ سب اضافی ملی ہوئی نشستیں رکھنا چاہتے ہیں۔جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ کیا انتخابی نشان واپس ہونے سے سیاسی جماعت تمام حقوق سے محروم ہوجاتی ہے؟ وکیل نے کہا کہ امیدواروں نے سرٹیفکیٹ لگایا تھا الیکشن کمیشن نیکہہ دیا آپ آزاد امیدوار ہیں، جسٹس جمال مندوخیل جب پارٹی بھی کہہ رہی ہویہ ہمارا امیدوار ہے، امیدواربھی پارٹی کو اپنا کہے الیکشن کمیشن کا اس کے بعد کیا اختیار ہے؟وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ میرا آفس بند کردیا گیا ہے کچھ دستاویزات نہیں لاسکا، چیف جسٹس نے فیصل صدیقی سے مکالمہ کیا کہ ایسی باتیں عدالت میں نہ کریں، اگر آپ کا دفتربند ہے، کوئی مسئلہ ہے تو درخواست دیں، ہم حکم جاری کریں گے۔چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹرگوہر نے روسٹرم پر آکر بات کرنے کی کوشش کی، چیف جسٹس نے کہا کہ ہم صرف وکلا کوسنیں گے، فیصل صدیقی آپ بات کریں، عدالت میں سیاسی باتیں نہ کی جائیں۔جسٹس منیب اختر نے کہا کہ نوٹیفیکیشن کے مطابق سنی اتحاد کونسل نے انتخابات میں کوئی نشست نہیں جیتی تھی، الیکشن کمیشن کے احکامات میں کوئی منطق نہیں لگتی، الیکشن کمیشن ایک جانب کہتا ہے سنی اتحاد نے الیکشن نہیں لڑا، ساتھ ہی پارلیمانی جماعت بھی مان رہا، اگر پارلیمانی جماعت قرار دینے کے پیچھے پی ٹی آئی کی شمولیت ہے تو وہ پہلے ہوچکی تھی۔جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیے کہ اگر سنی اتحاد کونسل سے غلطی ہوئی تھی تو الیکشن کمیشن تصحیح کر سکتا تھا، جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ اگر ایسا ہو جائے تو نشستیں پی ٹی آئی کو ملیں گی سنی اتحاد کو نہیں۔جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ عوام کو کبھی بھی انتخابی عمل سے الگ نہیں کیا جا سکتا، جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ عوام نے کسی آزاد کو نہیں بلکہ سیاسی جماعت کے نامزد افراد کو ووٹ دیے۔دوران سماعت ججز کے سوالات پر چیف جسٹس نے فیصل صدیقی کو جواب دینے سے روک دیا، چیف جسٹس اور جسٹس منیب اختر کے درمیان جملوں کا تبادلہ ہوا، چیف جسٹس نے کہا کہ ہم آپ کو سننے بیٹھے ہیں ہم اپنا فیصلہ کر لیں گے، میں ایک بار ایک عدالت پیش ہوا تو کہا تھا آپ اگر فیصلہ کر چکے ہوئے تو میں اپناکیس ختم کرتا ہوں،

آپ اپنے دلائل نہیں دیں تو مجھے کیا سمجھ آئے گی کہ آپ کی جانب سے کیا لکھنا ہے۔چیف جسٹس نے کہا کہ میرا خیال ہے فیصل صدیقی صاحب ہم آپ کو سننے بیٹھے ہیں، جسٹس منیب اختر نے کہا کہ یہ ایک غیرذمہ دارانہ بیان ہے، فل کورٹ میں ہر جج کو سوال پوچھنے کا اختیار اور حق حاصل ہے۔چیف جسٹس نے کہا کہ فیصل صاحب آگے بڑھیں میں نے ہلکے پھلکے انداز میں بات کی تھی، جسٹس منیب اختر نے کہا کہ اس قسم کا غیرذمہ دارانہ بیان تسلیم نہیں کیا جا سکتا، ہم حقیقت کو کیوں نہ دیکھیں، سنی اتحاد کونسل ہمارے سامنے اس لیے ہے کہ اس میں پی ٹی آئی کے جیتے لوگ شامل ہیں۔چیف جسٹس نے کہا کہ آپ کو دلائل میں کتنا وقت لگے گا؟ فیصل صدیقی نے کہا کہ میں دلائل میں دو سے تین گھنٹے لوں گا اور کچھ دستاویزات پیش کروں گا، قانون کے مطابق مخصوص نشستوں کے لیے کسی جماعت کا الیکشن لڑنا ضروری نہیں، آزاد امیدوار بھی جماعت میں شامل ہوجائیں تو مخصوص نشستیں دی جانی ہیں، ماضی میں ایک قانون آیا تھا کہ مخصوص نشستوں کیلئے الیکشن لڑنا اور پانچ فیصد ووٹ لینا لازم تھی.فیصل صدیقی نے کہا کہ وہ قانون بعد میں ختم کر دیا گیا تھا، چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ سنی اتحاد کونسل نے الیکشن نہیں لڑا، حقیقی پوزیشن یہی ہے؟ فیصل صدیقی نے کہا کہ جی سارا تنازعہ یہی ہے، الیکشن کمیشن اس کے بعد سنی اتحاد کونسل کو پارلیمانی جماعت تسلیم کر چکا ہے۔جسٹس منصور علی شاہ نے کہاکہ کینیڈین عدالت گیا تو وہاں وکیل کو ایک گھنٹے کا ٹائم دیا گیا تھا،کینیڈین عدالت میں ججز ایک گھنٹے میں سوال بھی پوچھ رہے تھے،وکیل درخواست گزار فیصل صدیقی نے کہاکہ اگر وکیلوں کو پتہ ہو ایک گھنٹہ ہے تو وہ ختم کردیں گے،یہ بات کینیڈا کی سپریم کورٹ سے نہیں اپنی بیگم سے سیکھی ہے،میری بیگم جو وقت مقرر کرتی ہے میں اس سے آگے نہیں جاتا۔ دوران سماعت جسٹس جمال مندوخیل نے کہاکہ بلے کے نشان والے فیصلے پر لوگوں کو مس گائیڈ کیا گیا،آزادامیدوار پی ٹی آئی میں بھی شامل ہو سکتے تھے کوئی پابندی نہیں تھی،فیصل صدیقی نے چیف جسٹس سے مکالمہ کرتے ہوئے کہاکہ میں پہلے حقائقٓپ کے سامنے رکھ رہا ہوں، آپ لکھ لیں کہیں قلم سوکھ نہ جائے۔دوران سماعت جسٹس جمال مندوخیل نے کہاکہ بلے کے نشان والے فیصلے پر لوگوں کو مس گائیڈ کیا گیا،آزادامیدوار پی ٹی آئی میں بھی شامل ہو سکتے تھے کوئی پابندی نہیں تھی،جسٹس جمال مندوخیل کے ریمارکس کے بعد چیف جسٹس پاکستان نے فیصل صدیقی سے مکالمہ کرتے ہوئے کہاکہ آپ پی ٹی آئی کی جانب سے نہیں بول سکتے،میرے قلم نے آدھے گھنٹے سے کچھ نہیں لکھا، فیصل صدیقی نے چیف جسٹس سے مکالمہ کرتے ہوئے کہاکہ میں پہلے حقائق آپ کے سامنے رکھ رہا ہوں، آپ لکھ لیں کہیں قلم سوکھ نہ جائے۔جسٹس منیب اختر نے کہاکہ ہم حقیقت کو کیوں نہ دیکھیں،نی اتحاد کونسل ہمارے سامنے اس لئے ہے کہ اس میں پی ٹی آئی کے جیتے لوگ شامل ہیں،چیف جسٹس پاکستان نے کہاکہ آپ کو دلائل میں کتنا وقت لگے گا؟فیصل صدیقی نے کہاکہ دلائل میں 2سے 3گھنٹوں لوں گا اور کچھ دستاویزات پیش کروں گا۔بعد ازاں سپریم کورٹ نے سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں کی اپیلوں پر سماعت آج منگل دن ساڑھے 11 بجے تک ملتوی کردی گئی۔واضح رہے کہ 6 مئی سپریم کورٹ نے 14 مارچ کے پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے کے ساتھ ساتھ یکم مارچ کا الیکشن کمیشن آف پاکستان کے سنی اتحاد کونسل کو خواتین اور اقلیتوں کے لیے مخصوص نشستوں سے محروم کرنے کے فیصلے کو معطل کر دیا تھا۔

Comments are closed.