مخصوص سیاسی جماعت کی ڈیجیٹل دہشتگردی سے نالاں جماعت کے رہنماؤں کا کیا مستقبل ہوگا۔۔؟
مخصوص سیاسی جماعت جس نے اپنی انتشار اور شرپسندی کے باعث جہاں ملک میں انتشار کی فضا قائم کی ہے وہیں اب اس شرپسندی کی وجہ سے جماعت کے اندر بھی خوف وہراس پیدا ہو چکا ہے- مخصوص سیاسی جماعت کا سوشل میڈیا ونگ اب اپنے لوگوں کے لیے بھی خوف کی علامت بن چکا ہے، اور ہر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ اگر وہ جماعت یا بانی جماعت کیخلاف بولے گا تو سوشل میڈیا پر اس کی ٹرولنگ کا آغاز کردیا جائے گا- یہی خوف خود مخصوص سیاسی جماعت کے رہنماؤں میں بھی سرایت کرچکا ہے اور ایسے رہنما موجود ہیں جو جماعت کی پالیسیوں سے اختلاف رکھتے ہیں لیکن اسی خوف کی وجہ سے وہ زبان بندی پر مجبور ہو چکے ہیں
مخصوص سیاسی جماعت کی ڈیجیٹل دہشتگردی کا شکار صرف ملک کے ریاستی ادارے، مخالف سیاسی رہنما ہی نہیں ہیں بلکہ جماعت کے سینئر رہنما بھی ہیں اور اس خوفزدہ اور متنفر حلقے کے نمائندوں میں رؤف حسن کا نام سرفہرست ہے- رؤف حسن کے حالیہ بیانات اس بات کی واضح دلیل ہیں کہ مخصوص سیاسی جماعت میں متنازعہ سوشل میڈیا کو لیکر تحفظات شدت اختیار کرتے جا رہے ہیں۔
رؤف حسن اس حلقے کی نمائندگی کرتے نظر آتے ہیں جو جماعت کی سوشل میڈیا پالیسی سے اختلاف رکھتے ہوئے اس ازسرنو مرتب کرنا چاہتے ہیں اور اس سلسلے میں ان کا بیان بھی سامنے آیا کہ وہ اس حوالے سے بانی مخصوص سیاسی جماعت سے بات بھی کرینگے مگر تعجب یہ ہے کہ بانی مخصوص سیاسی جماعت اتنے دن گزرنے کے باوجود ان کی ملاقات نہیں ہوسکی ہے اور نہ ہی دوبارہ اس حوالے سے کوئی واضح بیان جاری کیا گیا ہے جو اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ بانی مخصوص سیاسی جماعت رؤف حسن اور ان جیسے دیگر رہنماؤں کے خدشات کے مطابق خود اس سوشل میڈیا کی نگرانی کر رہے ہیں۔
یہاں اس امر کو کسی صورت بھی رد نہیں کیا جاسکتا کہ بانی مخصوص سیاسی جماعت اپنی انا کے خول میں رہنے والا خود پسند شخص ہے جو کسی بھی دوسرے شخص کی رائے کو کوئی اہمیت نہیں دیتا اور خود کو عقل کل سمجھتا ہے- سوشل میڈیا ہائی جیکنگ اور ڈیجیٹل دہشت گردی کے پیچھے مخصوص سیاسی جماعت کے بانی کی تخریب کار ذہنیت شامل ہے جبکہ رؤف حسن، شاندانہ گلزار، شیر افضل مروت اورعلی محمد خان سمیت دیگر اہم رہنما اپنی پارٹی کی جانب سے ہونے والی سوشل میڈیا پر پروپیگینڈا سازی سے نالاں ہیں اور متعدد بار دبے الفاظ اس سے لاتعلقی کا اظہار بھی کرچکے ہیں مگر سوشل میڈیا ٹرولنگ کے خوف سے کھل کر سامنے نہیں آرہے۔
یہی مثال کچھ عرصہ قبل کراچی کی ایک جماعت کے بانی جو اب لندن میں گمنام زندگی گزار رہا ہے کی بھی ہے۔وہ بانی جماعت بھی جس کو پارٹی میں خطرہ سمجھتا تھا اس کو راستے سے ہٹا دیا جاتا تھا اس بات کا ادراک مخصوص سیاسی جماعت کے رہنماؤں کو بھی دھیرے دھیرے ہونا شروع ہو گیا ہے۔
بانی مخصوص سیاسی جماعت کے آفیشل سوشل میڈیا اکاؤنٹ سے شیئر ہونے والی سقوط ڈھاکا سے متعلق ویڈیو پر مخصوص سیاسی جماعت اس وقت مشکل میں آگئی تھی جب اڈیالہ جیل میں چوری، دہشتگردی اور اسلامی دفعات کی خلاف ورزی کے الزام میں قید کاٹنے والے بانی مخصوص سیاسی جماعت کے سوشل میڈیا اکاؤنٹ سے سقوط ڈھاکا سے متعلق ایک ویڈیو شیئر کی گئی تھی-
سیاسی رہنماؤں کی جانب سے سوشل میڈیا پر شیئر کی گئی ویڈیو کا معاملہ اٹھایا گیا تو مخصوص سیاسی جماعت کے رہنماؤں کو اس کی وضاحت دینا پڑی – مرکزی ترجمان رؤف حسن نے پہلے تو ویڈیو کی مکمل تحقیقات کے مطالبے کی حمایت کی لیکن پھر کہا کہ انہوں نے تو وہ ویڈیو ابھی تک دیکھی ہی نہیں ہے اور وہ نہیں جانتے کہ سوشل میڈیا غیر ملکی سرزمین سے کون آپریٹ کر رہا ہے۔
مخصوص سیاسی جماعت کے رہنماؤں کی جانب سے متنازع ویڈیو پر وضاحتیں دینے کا سلسلہ تاحال جاری ہے – سابق وفاقی وزیر اور رکن قومی اسمبلی علی محمد خان کی جانب سے بھی اس حوالے سے بیان جاری کیا گیا ہے، علی محمد خان نے بھی سن 71ء سے متعلق ویڈیو سے بانی مخصوص سیاسی جماعت کو لاتعلق قرار دیتے ہوئے کہا کہ بانی مخصوص سیاسی جماعت کو اپنے ٹوئٹر ہینڈل سے شیئر ہونے والی ویڈیو کا علم ہی نہیں ہے۔
شاندانہ گلزار نے بھی رؤف حسن کے موقف کی تائید کرتے ہوئے واضح کیا کہ جماعت کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس جو ویڈیوز یا مواد شیئر کیا گیا وہ آفیشل اکاؤنٹ تھے۔
مذکورہ بالا حقائق کی روشنی میں یہ واضح طور پر دکھائی دے رہا ہے کہ رؤف حسن کی زیر قیادت مخصوص سیاسی جماعت میں کچھ حلقے جماعت کے سوشل میڈیا کی وطن دشمن مواد سے سخت نالاں اور پریشان دکھائی دے رہے ہیں- انہیں معلوم ہے کہ بیرون ملک بیٹھے یہ سوشل میڈیا ہیڈلرز براہ راست بانی مخصوص سیاسی جماعت سے ہدایات لے رہے ہیں جس کا خمیازہ پوری جماعت بالخصوص ان رہنماؤں کوبھی بھگتنا پڑے گا جو ٹکراؤ کی سیاست مخالف ہیں جیسے کہ 9 کے واقعات کے بعد بہت سے رہنما جماعت کو چھوڑ کر جا چکے ہیں جس میں اسد عمر، فرخ حبیب، شیریں مزارئ وغیرہ نمایاں ہیں۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ رؤف حسن کی جانب سے دبے بیان میں پارٹی پالیسی کی مذمت کے بعد کیا ان کا مستقبل بھی شیر افضل مروت کی طرح ہوگا۔۔۔؟
اسی طرح کیا جماعت کے دیگر رہنما جو رؤف حسن کے موقف سے اتفاق کرتے نظر آرہے ہیں اور دبے گئے بیانات میں بانی مخصوص سیاسی کی وطن دشمن ڈیجیٹل دہشتگردی کی مذمت کر رہے ہیں وہ پارٹی میں اپنی جگہ قائم رکھ پائیں گے یا انہیں بھی جماعت سے بے دخل کردیا جائے گا جو کہ جماعت کی روش رہی ہے۔۔۔؟
Comments are closed.