میرے پاس ایکسرسائز مشین کے علاوہ کوئی سہولت نہیں ہے،عمران خان
اسلام آباد( آن لائن) بانی پی ٹی آئی عمران خان کا کہنا ہے کہ میرے پاس ایکسرسائز مشین کے علاوہ کوئی سہولت نہیں ہے،مجھے ڈیتھ سیل والی چکی میں رکھا گیا ہے،روم کولر ساری چکیوں میں لگے ہوئے ہیں،میرے سیل میں اٹیچ باتھ روم بھی نہیں نہانے کیلئے دوسری جگہ جاتا ہوں۔ نواز شریف اور زرداری کو قید کے دوران لگژری سویٹ دیئے گئے تھے،انکے کھانے بھی باہر سے آتے تھے۔راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے بانی پاکستان تحریک انصاف نے کہا کہ میں شکایت نہیں کرتا اور چوں چوں کرنے والا نہیں ہوں مجھے وکلاء اور فیملی کے ساتھ آدھا آدھا گھنٹہ ملاقات دی جاتی ہے۔ موجودہ بجٹ میں مہنگائی کی شرح مزید بڑھے گی ملک کے قرضے بڑھتے جائینگے۔معاشی حالات دیکھ کر پیپلز پارٹی حکومت میں شامل نہیں ہوگی۔حمود الرحمان کمیشن بنانے کے دو مقاصد تھے۔کمیشن بنانے کا ایک مقصد تھا ایسی غلطی دوبارہ نہ دہرائی جائے۔کمیشن نے اپنی رپورٹ میں جنرل یحییٰ کو ذمہ دار ٹھہرایا کہ اس سب کچھ اپنی پاور کیلئے کیا۔ملک میں دوبارہ وہی کچھ دہرایا جارہا ہے جس سے معیشت بیٹھ جائے گی۔
نواز شریف جب شیخ مجیب اور حمود الرحمان کمیشن کا حوالہ دیتے تھے آپ کہتے تھے نواز شریف فوج کے ادارے کو تباہ کرکے دوسرا مجیب الرحمان بننا چاہتا ہے کے سوال کے جواب میں بانی پی ٹی آئی عمران خان نے کہا کہ اس وقت میں نے حمود الرحمان کمیشن رپورٹ نہیں پڑھی تھی اب یہ رپورٹ میں نے پڑھ لی ہے۔بانی پی ٹی آئی عمران خان نے کہا کہ ایف آئی اے میرے خلاف جھوٹا سائفر کیس بنانے پر مجھ سے پہلے معافی مانگے۔ملک میں سیاسی انتقام جاری ہے۔ایف آئی اے کو صرف وکلاء کی موجودگی میں جواب دونگا یہ سب محسن نقوی کرا رہا ہے۔میں جیل میں بیٹھ کر ویڈیو کیسے پوسٹ کرسکتا ہوں؟عمران خان نے کہاکہ میں اس ٹویٹ کو اون کرتا ہوں لیکن جو ویڈیو پوسٹ کی گئی وہ نہیں دیکھی اس پر بات نہیں کرونگا۔بانی پی ٹی آئی کا مزید کہنا تھا کہ میں ٹویٹ کرنے کا صرف اپنے وکلاء کو بتاتا ہوں۔عمران خان نے کہا کہ ہمارے ساڑھے تین سال میں نیب نے ساڑھے 4 سو ارب اکٹھے کئے۔اب 1100ارب مزید جمع ہونا تھا لیکن نیب ترامیم کے باعث ایک دفعہ تین لاکھ دوسری دفعہ ڈیڑھ کروڑ اکٹھے ہوئے،نیب ترامیم کی وجہ سے ملک کا 1100سو ارب کا نقصان ہوا۔جو ملک گھٹنوں کے بل ہو وہ اتنے نقصان کا متحمل نہیں ہوسکتا۔سوشل میڈیا کے لوگ ہمارے ہیروز ہیں۔عمران خان کا کہنا تھا کہ میں نے مشرف دور میں بھی شوکت عزیز سے مذاکرات نہیں کئے۔مشرف کے نمائندے سے مذاکرات کئے تھے۔ہم وہاں بات کرینگے گے جہاں طاقت موجود ہے۔
Comments are closed.