الیکشن ترمیمی آرڈیننس اور الیکشن کمیشن میں جاری کارروائی کیخلاف درخواست

اسلام آباد( آن لائن)الیکشن ترمیمی آرڈیننس اور الیکشن کمیشن میں جاری کارروائی کیخلاف درخواست پر اسلام آباد ہائیکورٹ میں شعیب شاہین، علی بخاری اور عامر مغل کے وکلا کے ابتدائی دلائل مکمل ہو گئے۔چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ عامرفاروق نے کہاکہ اس حوالے سے آرڈر پاس کرو ں گا جبکہ جمعہ روزچیف جسٹس عامرفاروق نے استفسار کیا کہ اگر ریٹائرڈ جج ٹریبونل تعینات ہونا ہے تو کیا چیف جسٹس سے مشاورت ہو گی؟وکیل سجیل سواتی نے کہاکہ قانون میں لکھا ہے الیکشن پٹیشنزکا 180 دن میں فیصلہ ہونا ہے،

عدالت نے کہا کہ کیا ماضی میں قانون کے مطابق ریٹائرڈ جج چیف جسٹس کی مشاورت سے تعینات ہوتا تھا؟وکیل سجیل سواتی نے کہاکہ جی بالکل ریٹائرڈ ج ٹریبونل کیلئے چیف جسٹس کی مشاورت سے تعینات ہوتا تھا۔ اسلام آباد ہائیکورٹ میں الیکشن ترمیمی آرڈیننس اور الیکشن کمیشن میں جاری کارروائی کیخلاف درخواست پر سماعت ہوئی، وکیل درخواستگزار نے کہاکہ ٹریبونل سے الیکشن کیس ٹرانسفر کرنے کا ایڈمنسٹریٹو سائیڈ پر اختیار نہیں،یہ جوڈیشل سائیڈ کا اختیار ہے، کوئی اپنے عمل کا خود جج نہیں ہو سکتا۔وکیل سجیل سواتی نے کہاکہ 2023میں ترمیم کی گئی کہ ریٹائرڈ جج ٹریبونل تعینات نہیں ہو سکتا،اب آرڈیننس کے زریعے کہا گیا ریٹائرڈ جج بھی ٹریبونل تعینات ہو سکتے ہیں،عدالت نے استفسار کیا کہ اگر ریٹائرڈ جج ٹریبونل تعینات ہونا ہے تو کیا چیف جسٹس سے مشاورت ہو گی؟وکیل سجیل سواتی نے کہاکہ قانون میں لکھا ہے الیکشن پٹیشنزکا 180دن میں فیصلہ ہونا ہے،عدالت نے کہا کہ کیا ماضی میں قانون کے مطابق ریٹائرڈ جج چیف جسٹس کی مشاورت سے تعینات ہوتا تھا؟وکیل سجیل سواتی نے کہاکہ جی بالکل ریٹائرڈ ج ٹریبونل کیلئے چیف جسٹس کی مشاورت سے تعینات ہوتا تھا.۔شعیب شاہین، علی بخاری اور عامر مغل کے وکلا کے ابتدائی دلائل مکمل ہو گئے،وکیل سجیل سواتی نے کہاکہ ابھی گیارہ بجے الیکشن کمیشن نے بھی کیس رکھا ہوا ہے،چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ نے کہاکہ اس حوالے سے آرڈر پاس کرو ں گا۔

Comments are closed.