سپریم کورٹ نے مونال سمیت نیشنل پارک میں قائم تمام ریسٹورنٹ بند کرنے کا حکم دے دیا

اسلام آباد (آن لائن) سپریم کورٹ نے مونال سمیت نیشنل پارک میں قائم تمام ریسٹورنٹ بند کرنے کا حکم دے دیا ،عدالت نے اپنے حکم میں کہاہے کہ نیشنل پارک میں قائم ریسٹورنٹس تین ماہ میں مکمل ختم کیے جائیں، نیشنل پارک سے باہر کہیں بھی لیز مقصود ہو تو متاثرہ ریسٹورنٹس کو ترجیح دی جائے، نیشنل پارک میں کمرشل سرگرمیوں کی اجازت نہیں دی جا سکتی یہ حکم منگل کے روزجاری کیاگیاہے،چیف جسٹس قاضی فائزعیسیٰ نے مونال ریسٹورنٹ کے وکیل سے استفسار کیاہے کہ اپ ہمیں بتائیں کب تک ریسٹورنٹ منتقل کر سکتے ہیں ؟اگر آپ رضاکارانہ طور پر منتقل نہیں کریں گے تو ہم سیل کرنے کا حکم دیدیں گے،وکیل نے کہاکہ ہمیں چار ماہ کا وقت دیدیں اس پر چیف جسٹس نے کہاکہ تین ماہ کا وقت دے رہے ہیں ،ہمارا مقصد نیشنل پارک کا تحفظ یقینی بنانا ہے ،نیشنل پارک کے علاوہ قائم دیگر تمام ریسٹورنٹس کو جاری کیے گئے غیر ضروری نوٹس ختم کیے جاتے ہیں ، ہمارے کیس کا فوکس صرف نیشنل پارک کی حد تک ہے، اس دوران سپریم کورٹ آف پاکستان نے مونال ریسٹورنٹ کیس میں کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی(سی ڈی اے) کی رپورٹ مسترد کرتے ہوئے اتھارٹی کے چیئرمین کو فوری طلب کیاتھاچیف جسٹس قاضی فائز عیسی کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے مونال گروپ کی اسلام آباد ہائی کورٹ کے 11 جنوری 2022 کو دیے گئے فیصلے کے خلاف اپیل پر سماعت کی۔چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیے کیا سی ڈی اے کے اعلی افسران کو انگریزی کی کلاسز کرانا پڑے گی، سی ڈی اے سے مونال کے ساتھ دیگر ریسٹورنٹس کی تفصیل مانگی تھی۔سی ڈی اے کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ہم نے مارگلہ نیشنل پارک میں تمام تعمیرات کی تفصیلات پر رپورٹ دی ہے

، جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ سی ڈی اے کی رپورٹ میں اسپورٹس کلب پاک چائنہ سنٹر بھی شامل ہے، سی ڈی اے نے آرٹ کونسل نیشنل مانومنٹ کا نام بھی شامل کردیا ہے۔چیف جسٹس نے استفسار کیا، کیا نیشنل مانومنٹ سپورٹس کمپلکس کو گرانے کا حکم دیدیں، یہ سی ڈی اے کی ایمانداری ہے، کیا سپریم کورٹ کی عمارت بھی نیشنل پارک میں آتی ہے۔سی ڈی اے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ مجھے اس سوال کے جواب کے لیے نقشہ دیکھنا پڑے گا، چیف جسٹس نے کہا کہ دنیا کو معلوم ہے مونال کے ساتھ مزید کتنے ریسٹورنٹس ہیں، نہیں معلوم تو سی ڈی اے کو معلوم نہیں، کیا سی ڈی اے اپنا دفتر بھی نیشنل پارک میں ہے، پھر سی ڈی اے کا آفس بھی گرانے کا حکم دیدیں۔اس دوران عدالت نے چیئرمین سی ڈی اے کوطلب کیاتھاجوپیش ہوئے اورانھوں نے عدالت کوبتایاکہ رپورٹ عدالت میں پیش کی ہے اس پر عدالت نے کہاکہ نینشل پارک کامعاملہ ہے اس کے تحفظ یقینی بناناہے ،بعدازاں عدالت نے درج بالاحکم جاری کردیا۔جس میں سپریم کورٹ نے مونال سمیت نیشنل پارک میں قائم تمام ریسٹورنٹ بند کرنے کا حکم دے دیا ،عدالت نے اپنے حکم میں کہاہے کہ نیشنل پارک میں قائم ریسٹورنٹس تین ماہ میں مکمل ختم کیے جائیں، نیشنل پارک سے باہر کہیں بھی لیز مقصود ہو تو متاثرہ ریسٹورنٹس کو ترجیح دی جائے، نیشنل پارک میں کمرشل سرگرمیوں کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔اسلام آباد ہائی کورٹ نے حکومت کو مارگلہ کی خوبصورت پہاڑیوں پر واقع مونال ریسٹورنٹ کو سیل کر کے اسے قبضے میں لینے کا حکم دیا گیا تھا، عدالت نے انتظامیہ کو مارگلہ ہلز نیشنل پارک میں 8 ہزار 600 ایکڑ زمین کے حقیقی مالک کے نشاندہی کرنے والے بیان کو جمع کروانے کا بھی حکم دیا تھا۔اپنے فیصلے میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے قرار دیا تھا کہ مونال ریسٹورنٹ کی انتظامیہ اور سی ڈی اے کے درمیان لیز کا معاہدہ ختم ہو چکا ہے، مزید برآں عدالت نے 30 ستمبر 2019 کو مونال ریسٹورنٹ اور ملٹری اسٹیٹ افسر کے تحت کام کرنے والے ملٹری ونگ ریماوٴنٹ، ویٹرنری اینڈ فارمز ڈائریکٹوریٹ کے درمیان ایک معاہدے کو بھی کالعدم قرار دے دیا تھا۔بعد ازاں 22 مارچ 2022 کو سپریم کورٹ نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے 11 جنوری کے کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) اور اسلام آباد وائلڈ لائف منیجمنٹ بورڈ کو ریسٹورنٹ کو قبضے میں لینے اور اس کے اطراف کے علاقوں کو سیل کرنے کے فیصلے کو معطل کردیا تھا۔

Comments are closed.