صدر پاکستان کے ٹوئٹ سے ملک کی جگ ہنسائی ہوئی ، انہیں مستعفی ہوجانا چاہئے،محسن جمیل بیگ

اسلام آباد(آن لائن)سینئر صحافی و تجزیہ کار محسن جمیل بیگ نے کہا ہے کہ صدر پاکستان کے ٹوئٹ سے ملک کی جگ ہنسائی ہوئی ،یہ تاثر دینے کی کوشش کی گئی کہ ریاستی ادارے اس میں ملوث ہیں،صدر مسلسل اس عہدے کی توہین کر رہے ہیں انہیں مستعفی ہوجانا چاہئے۔سائفر کا معاملہ انتہائی حساس ہے اس معاملے میں ملوث عناصر کو کڑی سے کڑی سزا ملنی چاہئے تاکہ آئندہ کوئی ایسا کرنے کی جرات بھی نہ کرسکے۔نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے محسن جمیل بیگ کا کہنا تھا کہ صدر پاکستان نے دو بلوں کی منظوری کے حوالے سے ٹوئیٹ کرکے عہدے کی توہین کی ہے،

جس طریقے سے آئین کی خلاف ورزی ہو رہی ہے ماضی میں اس کی مثال نہیں ملتی،یہ پاکستان ایسی ریاست ہے جس میں اس طریقے سے چیزیں ہوجاتی ہیں کہ صدر کو کہنا پڑتا ہے کہ مجھے علم ہی نہیں حالانکہ ان بلز کی منظوری کے حوالے سے پورے مہینے سے باتیں ہورہی تھیں اب جبکہ گزٹ جاری ہوگیا تو صدر نے اس عمل کو متنازعہ بنانے کی کوشش کی ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ تاثر دیا جارہا ہے کہ ریاستی ادارے اس میں ملوث ہیں لیکن ایسا نہیں ہے،ریاستی ادارے ایسا نہیں کرتے،صدر ایک سیاسی ورکر ہیں اور انہیں اس عہدے پر بٹھا دیا گیا ہے،وہ مسلسل عہدے کی توہین کر رہے ہیں،یہ تاثربھی دیا جارہا ہے کہ ریاست کا فیصلہ ہے،اس طرح ریاست کو نقصان پہنچایا جارہا ہے اور ملک کی جگ ہنسائی ہورہی ہے،

یہ ان کے عہدے کے مناسب عمل نہیں لہذا صدر کو چاہئے کہ وہ مستعفی ہوجائیں۔سائفر کے حوالے سے ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ پہلے دن سے سائفر پر جھوٹ بولا گیا ،ایسا بیانیہ بنایا گیا کہ کچھ لوگ اسے سچ ماننے لگے،ایک خاص مہم چلائی گئی اور بعد میں سارے بیانات کی خود نفی بھی کردی گئی۔انہوں نے کہا کہ اس سارے عمل کا مقصد پاک فوج کو نقصان پہنچانا تھا جو وہ مسلسل کرتے آرہے ہیں۔سائفر گم کیسے ہوگیا ؟ اس معاملے کی وجہ سے پاکستان کے سفارتی تعلقات کو نقصان پہنچا اور دفتر خارجہ کی سیکریسی پر سمجھوتہ آیا،امریکہ نے بار بار اس معاملے کی تردید کی تو پھر پی ٹی آئی نے وہاں لابنگ فرم ہائیر کی اور تعلقات کو بحال کرنے کیلئے کوششیں کرتے رہے۔پی ٹی آئی چیئرمین کا یہ عمل انتہائی غیر سنجیدہ اور ملک کے ساتھ مذاق کے مترادف ہے،ان کی اپنے سیکرٹری اعظم خان کے ساتھ آڈیو بھی لیک ہوئی جس میں وہ کہہ رہے ہیں کہ ہمیں سائفر کے ساتھ کھیلنا ہے،لہٰذا ان لوگوں کے خلاف سیکریٹ ایکٹ کے تحت کارروائی شروع ہوگئی ہے اور آنے والے دنوں میں مزید چیخیں سنائی دیں گی۔انہوں نے کہا کہ اس معاملے میں ملوث عناصر کو سخت سے سخت سزا ہونی چاہئے تاکہ آئندہ کوئی بھی ایسا کرنے کی جرات نہ کرسکے اور پاکستان کے دنیا کے ساتھ تعلقات کو نقصا ن پہنچایا جائے

Comments are closed.