قوم کو ماہانہ لاکھوں روپے میں پڑنے والا صدر اپنا کلرک کنٹرول نہیں کرسکتا
تاحیات مراعات اور موجودہ بھاری بھر کم مراعات کی تفصیلات بھی سامنے آگئیں
اسلام آباد:صدر عارف علوی کہتے ہیں کہ میرا سٹاف میری بات نہیں مانتا۔ اتنا سادہ صدر پاکستانی عوام کو سالانہ کتنے کا پڑ رہا ہے، اور ریٹائرمنٹ کے بعد جتنی دیر زندہ رہے گا، کتنے کا پڑے گا، – صدر پاکستان کی تنخواہ یکم جولائی 2023 سے ساڑھے بارہ لاکھ روپے ماہانہ کر دی گئی ہے صدر کو ملنے والے لاکھوں روپے کے الاونسز اس کے علاوہ ہیں۔ صدر کو انٹرٹینمنٹ الاونس کی مد میں 50000 روپے ماہانہ دیئے جاتے ہیں۔ مگر آج تک وہ کون سی تفریح مہیا کرسکے ہیں اس کا کوئی پتہ نہیں ہے صدر کو پہلی دفعہ صدر بننے پر ایکوپمنٹ الاونس کی مد میں عوام کے پیسوں سے 20000 روپے دیئے جاتے ہیں۔ صدر اور ان کی فیملی کا اندرون اور بیرون ملک سفر مکمل طور پر فری ہے۔
وہ دنیا میں جب چاہیں، جہاں چاہیں، جتی دفعہ چاہیں، مفت سفر کر سکتے ہیں۔ صدر اپنے 3 ملازموں کو بھی اپنے ساتھ کہیں بھی مفت عوام کے پیسوں پر لے کر جا سکتے ہیں اور عارف علوی اس معاملے میں ذرا بھی کنجوس واقع نہیں ہوئے صدر 4 ماہ کی پیڈ لیو بھی لے سکتے ہیں جس کے دوران انہیں 57000 روپے ماہانہ دیئے جاتے ہیں۔ صدر ، ان کے اہل و عیال، اور ان کے مہمانوں کے لیئے اشیا خورد و نوش اور تمباکو پر کسٹم ڈیوٹی اور سیلز ٹیکس بھی معاف ہوتا ہے، اور تاحیات معاف رہتا ہے جبکہ پوری قوم ٹیکسوں کے بوجھ تلے دبی ہوئی ہے ۔
اب اس کا دوسرا پہلو دیکھیں کہ صدر عارف علوی صدر کا منصب چھوڑنے کے بعد پوری زندگی پاکستانی عوام کو ماہانہ کتنے میں پڑیں گے۔ سابق صدر پاکستان کو فری سرکاری گھر ملتا ہے، اور اگر چاہے تو عوام کے پیسوں سے اپنی مرضی ما کرائے کاگھر بھی لے سکتا ہے۔ – جب گھر تبدیل کرنا ہو تو سامان شفٹ کرنے کے لیئے صدر کو ایک لاکھ روپے ملتے ہیں۔ سابق صدر ماہانہ 2000 بجلی کے یونٹ فری استعمال کرتا ہے۔ یہ آج کے حساب سے تقریبا ایک لاکھ روپے ماہانہ بنتے ہیں۔سابق صدر مرضی کے مطابق ماہانہ گیس بھی فری استعمال کر سکتا ہے۔ سابق صدر سالانہ ٹیلی فون بل کی مد میں 75000 روپے عوام کے ٹیکس کے پیسوں سے لیتا ہے۔ سابق صدر اور ان کی فیملی کا پاکستان اور پاکستان سے باہر کسی بھی ملک میں کسی بھی قسم کا طبی معائنہ اور کسی بھی بیماری کا علاج مفت ہوتا ہے۔
سابق صدر حکومت کے گیسٹ ہاوسز اور سرکٹ ہاوسز میں فیملی سمیت مفت یعنی عوام کے پیسوں پر قیام کر سکتا ہے اور عارف علوی اب یہ موقع ضائع نہیں کرتے ریٹائرڈ ہونے کے بعد تو بالکل نہیں کرینگے سابق صدر کو کار الاونس کی مد میں ماہانہ 66000 روپے ملتے ہیں۔ سابق صدر کو تا حیات انکم، پینشن، ہاوس رینٹ، اور کار الاونس پر مکمل ٹیکس معاف ہوتا ہے سابق صدر اپنی بنیادی تنخواہ کی 85 فی صد رقم تا حیات ماہانہ پینش کی مد میں لینے کا مجاز ہوتا ہے۔ اس حساب سے صدر عارف علوی کی تاحیات پینشن تقریبا ساڑھے دس لاکھ روپے ماہانہ بنے گی۔ ہر سال بجٹ میں حکومت پینشن میں اضافہ کرے گی تو صدر عارف علوی کی پینشن میں بھی اضافہ ہو گا۔سابق صدر، ان کی اہلیہ اور بچوں کو ڈپلومیٹک پاسپورٹ دیا جاتا ہے۔
اب عوام خود یہ فیصلہ کریں کہ 5 سال یہ ساری مرعات لینے کے بعد اور اس کے بعد بھی تاحیات اس قوم کا خون پینے والا یہ شخص اگر کہے کہ مجھ سے میرا سٹاف ہی کنٹرول نہیں ہو رہا، تو کیا اس آدمی کو صدر پاکستان کے عہدے پر رہنے کا کوئی حق ہے؟ کیا اسے استعفی دے کر فورا گھر نہیں چلے جانا چاہیئے؟ علوی صاحب کو فوری طور پر اپناکاروںار دندان سازی سنبھالنا چاہیے کیونکہ ایوان صدر والے تو اب اس کی بات مانتے نہیں شاید ڈینٹل کلینک کا نرسنگ سٹاف مان لے ۔۔۔
Comments are closed.