حکومت کے ساتھ کھڑے ہیں مگر بجٹ سمیت ہر معاملے پر نظر انداز کیا جارہا ہے‘خورشید شاہ

اسلام آباد(آن لائن) حکومت کے اہم اتحادی پیپلز پارٹی نے وفاقی بجٹ کے حوالے سے نظر انداز کرنے پر اپنے شدید تحفظات کا اظہار کردیا پارٹی کے مرکزی رہنما سید خورشید شاہ کہتے ہیں کہ حکومت کے ساتھ کھڑے ہیں مگر بجٹ سمیت ہر معاملے پر نظر انداز کیا جارہا ہے انہوں نے کہاکہ ہم مفاہمت چاہتے ہیں مگر عوامی مشکلات کو نظر انداز نہیں کرسکتے پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں اہم فیصلے کئے جائیں گے۔ منگل کو پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنما سید خورشید شاہ نے کہاکہ حکومت نے بجٹ کے حوالے سے پیپلز پارٹی کو مکمل اندھیرے میں رکھا ہوا ہے انہوں نے کہاکہ ہمیں معلوم نہیں ہے کہ بجٹ کیسا ہے اور بجٹ میں تعلیم اور صحت کیلئے کیا رکھا گیا ہے انہوں نے کہاکہ وزیراعظم چین سے ہو کہ آئے مگر ہمیں اندھیرے میں رکھا گیا ہے ایسا نہیں ہونا چاہیے تھا حکومت کو ہمیں اعتماد میں لینا چاہیے تھا کیونکہ ہم حکومت کے اتحادی ہیں انہوں نے کہاکہ عوام دوست بجٹ ہونا چاہیے اور ہم بجٹ کے حوالے سے بے خبر رکھنے پر حکومت سے پارلیمنٹ کے اندر حکومت سے شکایت کر رہے ہیں انہوں نے کہاکہ پاکستان پیپلز پارٹی نے بہت قربانیاں دی ہیںآ ج بھی ہم یہ کہتے ہیں کہ پارلیمنٹ اور حکومت چلنی چاہییے تاہم حکومت کا فرض ہے کہ وہ اتحادیوں کو ساتھ لے کر چلے انہوں نے کہاکہ پاکستان پیپلز پارٹی عوام کے لئے سوچتی ہے اگر عوام کو اسی طرح مجبور رکھا گیا تو پیپلز پارٹی کو دوبارہ اقتدار میں لانے کا سوچے گی انہوں نے کہاکہ ہمیں نہیں پتہ یہ بجٹ حکومت نے بنایاہے یا آئی ایم ایف نے بنایا ہے پیپلز پارٹی بجٹ کے بارے میں مکمل طورپر بے خبر ہے انہوں نے کہاکہ موجودہ حکومت کی ناکامیاں ہمارے گلے میں پڑیں گی حکومت کو پیپلز پارٹی کی قیادت سے مشاورت کرنی چاھیے تھی انہوں نے کہاکہ پیپلز پارٹی کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس ہے اس میں فیصلہ کریں گے کہ بجٹ پر حکومت کا ساتھ دیں یا نہ دیں انہوں نے کہاکہ ہم اس نکتے پر قائم ہیں پارلیمنٹ کو چلنا چاھیے پیپلز پارٹی پہلے بھی اقتدار میں رہی آئندہ بھی عوام کی طاقت سے اقتدار میں آئیں گے انہوں نے کہاکہ پیپلز پارٹی کے پی ٹی آئی کے ساتھ بیک ڈور رابطہ نہیں ہے حکومت کے ساتھ کھل کر کھڑے ہیں انہوں نے کہاکہ اگر آئی ایم ایف نے کسی قسم کی شرائط عائد کی ہیں تو حکومت کو ہمیں اعتماد میں لینا چاہئے تھا انہوں نے کہاکہ ابھی بجٹ پر پھنسے ہوئے ہیں کابینہ میں شرکت کا سوچا ہی نہیں انہوں نے کہاکہ ہم لڑنا نہیں ہم مفاہمت کی پالیسی چاہتے ہیں تاہم کوشش کریں گے کہ پانی ناک سے اوپر نہ جائے اور ناک کے نیچے ہی رہے انہوں نے کہاکہ ہتک عزت بل پر کھل کر بات کی ہے اس کی بھرپور مخالفت کریں گے۔۔۔۔۔۔اعجاز خان

Comments are closed.