وزیر اعظم کی زیر صدارت اعلی سطح اجلاس،حکومتی اخراجات میں کمی کیلئے رپورٹ پیش
اسلا م آباد(آن لائن)حکومتی اخراجات کم کرنے کے حوالے سے تشکیل کی گئی کمیٹی نے وزیراعظم شہباز شریف کو ابتدائی رپورٹ پیش کر دی ،ابتدائی رپورٹ میں قلیل مدتی اور وسط مدتی سفارشات پیش کی گئیں ،کمیٹی نے کچھ سرکاری اداروں کو بند کرنے، کئی اداروں کو ضم کرنے اور کچھ اداروں کو صوبوں کے حوالے کرنے کی سفارش کر دی ،وزیر اعظم کی زیر صدارت اعلی سطح اجلاس میں وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال، وفاقی وزیر اقتصادی امور احد خان چیمہ، وفاقی وزیر خزانہ و محصولات محمد اورنگزیب، وزیر مملکت برائے خزانہ علی پرویز ملک، وزیراعظم کے کوآرڈینیٹر رانا احسان افضل اور متعلقہ اعلیٰ سرکاری افسران نے شرکت کی ،ذرائع کے مطابق کمیٹی نے سفارش ک ہے کہ ایسی تمام اسامیاں جو ایک سال سے زائد کے عرصے سے خالی ہیں ختم کر کے قومی پیسہ بچایہ جائے،نئے بھرتی ہونے والے سرکاری ملازمین کی کنٹریبیوٹری پینشن کا نظام لایا جائے،سرکاری اداروں میں سروسز کی فراہمی کے لیے نجی شعبے کی خدمات لی جائیں،حکومتی اخراجات کم کرنے کے لئے سرکاری اہلکاروں کے غیر ضروری سفر پر پابندی عائد کی جائے اور ٹیلی کانفرنسنگ کو فروغ دیا جائے،ایسے سرکاری افسران جو مونو ٹائیزنگ کی سہولت کے رہے ہیں ان سے سرکاری گاڑیاں فوری واپس لی جائیں،ذرائع کا کہنا ہے کہ ان ابتدائی تجاویز کے حوالے سے وزیراعظم نے اعلیٰ اختیاراتی کمیٹی تشکیل دی جو کہ دس ہفتے کے اندر جامع رپورٹ پیش کرے گی ،وزیر اعظم نے کہا کہ کمیٹی عالمی سطح کے بہترین تجربات سے استفادہ حاصل کر کہ ٹھوس تجاویز دے،امید ہے کہ اعلیٰ اختیاراتی کمیٹی کی سفارشات کی روشنی میں قوم کے اربوں روپے کی بچت ہو سکے گی،یاد رہے کہ ڈپٹی چیئرمین پلاننگ کمیشن سربراہی میں قائم کمیٹی میں کابینہ، خزانہ، اسٹیبلشمنٹ، پاور سیکریٹریز کے علاوہ ڈاکٹر قیصر بنگالی، ڈاکٹر فرخ سلیم اور محمد نوید افتخار شامل تھےْ
Comments are closed.