سینیٹر شبلی فراز نے بجٹ کو سرمایہ داروں اور آئی ایم ایف کا بجٹ قرار دیدیا
اسلام آباد(آن لائن ) ایوان بالا میں اپوزیشن لیڈر سینیٹر شبلی فراز نے بجٹ کو سرمایہ داروں اور آئی ایم ایف کا بجٹ قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا انہوں نے کہاکہ بجٹ میں غریب اور تنخواہ دار طبقے کو نظر انداز کیا گیا ہے حکومتی اقدامات سے مہنگائی میں مذید اضافہ ہوگا انہوں نے کہاکہ پیپلز پارٹی کے دوغلے کردار پر بھی تنقید کرتے ہوئے اسے سیاسی پارٹی کی بجائے مفادات والی پارٹی قرار دیا۔ جمعرات کو سینیٹ اجلاس چیئرمین سید یوسف رضا گیلانی کی صدارت میں منعقد ہوا اجلاس میں بحٹ پر بحث کا آغاز کرتے ہوئے اپوزیشن لیڈر سیینٹر شبلی فراز نے کہاکہ موجودہ حکومت غیر قانونی ہے یہ حکومت جیسے آئی ہے سب کو معلوم ہے انہوں نے کہاکہ جو حکومت عوام کے ووٹ سے منتخب نہ ہو اس میں غیر قانونیت ہوتی ہے انہوں نے کہاکہ اس بجٹ میں کوئی اکنامک ویژن نظر نہیں آیا ہے موجودہ حکومت کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے حکومت نے ملک کو بھکاری بنا دیا گیا ہے انہوں نے کہاکہ پی ٹی آئی اس بجٹ کو زہر قاتل سمجھتی ہے پی ٹی آئی اور عوام ایک طرف ہیں جبکہ غیر قانونی اشرافیہ ایک طرف کھڑی ہے انہوں نے کہاکہ غیر قانونی طریقہ سے آنے والوں کو عوام کا کیا احساس ہوگا اس ملک کی معاشی بدحالی اور اداروں کی تنزلی کیسے ہوئی تاریخ سب کے سامنے ہے انہوں نے کہاکہ 1971 کے بعد سے دو طبقوں نے ملک پر حکومت کی ایک مسلم لیگ ن، پیپلزپارٹی اور دوسرا طبقہ آمروں کا تھا انہوں نے کہاکہ تنخواہ دار طبقے پر مزید ٹیکس لگا دئیے گئے ہیں جس کی تنخواہ پچاس ہزار ہے اس کو بھی ٹیکس نیٹ میں لے آئے ہیں اورنچلے طبقے کے ملازمین کا جینا بھی محال ہوگیا ہے انہوں نے کہاکہ ا شرافیہ نے ہمیشہ غریب طبقے کا خون چوسا ہے پہلے ہم بم لے کر پھرتے تھے اور اب ہم کشکول ہاتھ میں لئے پھرتے تھے انہوں نے کہاکہ ایسے سیکٹرز پر ٹیکس لگایا گیا ہے جس سے ہماری اکانومی مزید نیچے جائے گیہماری ڈیٹ سروسنگ ریونیو کا 75فیصد ہوگئی ہے انہوں نے کہاکہ حکومت کی غلط پالیسیوں نے عوام کو مزید غربت کے بوجھ تلے دبا دیا ہے ہماری اشرافیہ کے پیسے بیرون ممالک میں پڑے ہیں 11 ارب ڈالر کی پاکستانی سرمایہ کاری تو صرف دبئی میں پڑی ہوئی ہے اور جب قربانی کی بات آئے تو عوام آگے ہوتی ہے جبکہ حکومت صرف مفاد اٹھاتی ہے انہوں نے کہاکہ پی ٹی آئی دور میں لوگ جیل گئے مانتا ہوں لیکن وہ کون سے کیسز تھے یہ وہ کیسز تھے جو پیپلز پارٹی نے ن لیگ پر اور ن لیگ نے پیپلز پارٹی پر بنائے تھے انہوں نے کہاکہ اس وقت جتنے بھی وزرا ہیں وہ الیکشن ہارے ہوئے ہیں انہوں نے کہاکہ اس ملک میں سرمایہ کار باہر سے کیوں سرمایہ کاری کریں گے جب آپ کے اپنے اثاثے باہر پڑے ہوئے ہیں بتایا جائے کہ سوئس اکانٹس کہاں گئے ہیں پوچھ لیں آپ نے نوجوانوں کیلئے کیا رکھا ہے بجٹ میںآ پ نے فائر وال اور سوشل میڈیا کو کنٹرول کرنے کیلئے 30-35کروڑ روپے رکھے ہیں انہوں نے کہاکہ نوجوان اس ملک کا ایک بہت بڑا اثاثہ بھی ہیں اور بہت بڑی ذمہ داری بھی بن سکتے ہیں ہمسائے ملک میں 800ملین لوگوں نے ووٹ دیا لیکن کسی نے دھاندلی کی آواز نہیں اٹھائی مگر پاکستان میں رجیم چینج کے بعد سب سے پہلے الیکٹرانک ووٹنگ مشین کو ختم کیا گیا اس کے بعد نیب قوانین کو بھی تبدیل کیا گیا انہوں نے چیئر مین سینٹ کو مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ آپ اور آپ کی پارٹی نہیں چاہتے کہ اس ملک میں شفاف الیکشن ہوں انہوں نے کہاکہ سینیٹر اعجاز چوہدری کے پروڈکشن آرڈر جاری نہیں کئے جارہے کل پیپلزپارٹی نے کہا ہم بجٹ اجلاس میں شرکت نہیں کریں گے پھر تھوڑی دیر بعد شامل ہوگئے پیپلزپارٹی نظریاتی پارٹی کی بجائے مفاداتی پارٹی بن گئی ہے انہوں نے کہاکہ پیپلز پارٹی بھی ایم کیوایم ٹو بننے جارہے ہیں میں آپنے آپ کو پیش کرتا ہوں ایک پیسہ بھی میرا غیرقانونی نکال کر دکھا دیں انہوں نے کہاکہ ہمارے کسی بھی کابینہ کے رکن پر کرپشن کا کیس نہیں بنا کیونکہ ہمارا لیڈر ایماندار ہے اورملک کو ترقی دینے کیلئے شفاف الیکشن اور قانون کی حکمرانی کرنا ہوگی۔
Comments are closed.