باہر سیاسی پناہ لینے والے شہریوں نے خود پاکستانی شہریت ترک کی‘نئی پالیسی ہمارا اندرونی معاملہ ہے،دفترخارجہ
اسلام آباد(آن لائن)پاکستان نے کہا ہے کہ باہر ملکوں میں سیاسی پناہ لینے والے شہریوں نے خود پاکستانی شہریت ترک کی ہے، اس حوالے سے نئی پالیسی ہمارا اندرونی معاملہ ہے، اس بارے میں کسی ملک کی ہدایات قبول نہیں کریں گے۔جمعرات کے روز ہفتہ وار پریس بریفنگ دیتے ہوئے ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ ڈپٹی وزیراعظم اور وزیر خارجہ نے بین الاقوامی سطح پر انسانی حقوق کی پامالی کے خلاف آواز بلند کی ہے، ڈپٹی وزیراعظم نے غزہ میں ان کنڈیشنل سیز فائر کا مطالبہ کیا ہے، غزہ سے اسرائیلی فورسز کو فوری واپس بھیجنے مطالبہ کیا ہے۔فلسطین پر یو این کی انکوائری رپورٹ سامنے آئی ہے، رپورٹ میں نہتے فلسطینیوں کے قتل کے حوالے سے حیراں کن انکشافات کیے گئے ہیں، اب وقت ہے کہ غزہ میں ہونے والے مظالم کو روکا جائے۔دفتر خارجہ نے کہا کہ 11 جون 1991 بھارت نے 32 کشمیریوں کو بے دردی سے قتل کر دیا تھا، آج تک وہ کشمیری انصاف کے منتظر ہیں، پاکستان اور بھارت کے درمیان خطوط کا کوئی تبادلہ نہیں ہوا
، ہندوستانی میڈیا ہمیشہ سے قیاس آرائیوں پر مبنی رپورٹنگ کرتا ہے۔ترجمان نے کہا کہ بیرونی ممالک میں سیاسی پناہ لینے والے افراد پر پاسپورٹ کی پابندی کے بارے میں ترجمان دفتر خارجہ کوئی ردعمل نہیں دے گا۔ممتاز زہرہ بلوچ نے کہا کہ باہر ملکوں میں سیاسی پناہ لینے والے شہریوں نے خود پاکستانی شہریت ترک کی ہے، اس حوالے سے پاکستان کی نئی پالیسی ہمارا اندرونی معاملہ ہے، پاکستان اس حوالے سے کسی ملک کی ہدایات قبول نہیں کرے گا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنے قوانین کے مطابق ان کیسز کا فیصلہ کرے گا، پاکستانی امریکن خدیجہ شاہ کا کیس اس وقت عدالت میں زیر سماعت ہے، پاکستان اپنے قوانین کے مطابق اس کیس کا فیصلہ کرے گا۔ترجمان نے کہا کہ غزہ کے حوالے سے وزیر خارجہ نے ڈی ایٹ میں شرکت کی،ڈی ایٹ کانفرنس میں وزارئے خارجہ نے غزہ میں فوری جنگ بندی پر اتفاق کیا،وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے ڈی ایٹ کانفرنس کے دوران اپنے دیگر ہم منصب سے بھی ملاقات کی،ڈی ایٹ کانفرنس کے ساتھ وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے ہاکان فیدان سے بھی ملاقات کی،نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے اسرائیل کو یو این ، او آئی سی اور اپنے اتحادیوں کی باتوں پر توجہ نہ دینے پر تنقید کا نشانہ بنایا ،نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے اسرائیلی فوج کو فوجی سپلائییز پر پابندی لگانے کا مطالبہ بھی کیا ، پاکستان فلسطین کے حوالے سے کمشن آف انکوائری کو خوش آمدید کہتا ہے ، وزارئے خارجہ نے بین الاقوامی سطح پر انسانی حقوق کی پامالی کے خلاف آواز بلند کی ہے
،ڈپٹی وزیراعظم نے غزہ میں ان کنڈیشنل سیز فائر کا مطالبہ کیا ہے،غزہ سے اسرائیلی فورسز کو فوری واپس بھیجنے مطالبہ ہے،انہوں نے کہا کہ فلسطین پر یو این کی انکوائری رپورٹ سامنے آئی ہے،رپورٹ میں نہتے فلسطینیوں کے قتل کے حوالے سے حیراں کن انکشافات کیے گئے ہیں، اب وقت ہے کہ غزہ میں ہونے والے مظالم کو روکا جائے،11 جون 1991 بھارت نے 32 کشمیریوں کو ں ے دردی سے قتل کر دیا تھا،آج تک وہ کشمیری انصاف کے منتظر ہیں، کانفرنس کے ساتھ وزیر خارجہ نے ملائیشا کے وزیر خارجہ سے بھی ملاقات کی،انہوں نے کہا کہ اردن میں ہونے والی غزہ کانفرنس میں وزیر خارجہ نے اپنا موقف پیش کیا،باہر ملکوں میں سیاسی پناہ لینے والے شہریوں نے خود پاکستانی شہریت ترک کی ہے۔
Comments are closed.