پی ٹی آئی سیاسی جماعتوں سے مذاکرات کرنا چاہتی ہے تو چور ڈاکو کہنا بند کرنا ہوگا‘سینیٹرعرفان صدیقی
اسلام آباد(آن لائن)پاکستان مسلم لیگ ن کے پارلیمانی لیڈر سینیٹر عرفان الحق صدیقی نے کہاہے کہ پی ٹی آئی کو منفی سیاست سے نکل کر ملک کی ترقی کا سوچنا ہوگا‘اگر پی ٹی آئی سیاسی جماعتوں سے مذاکرات کرنا چاہتی ہے تو چور ڈاکو کہنا بند کرنا ہوگا۔جمعرات کوسینٹ بجٹ پر بحث کا آغا ز کرتے وٴہوئے سینیٹر عرفان الحق صدیقی نے کہاکہ اپوزیشن لیڈر نے سیاسی باتیں زیادہ اور بجٹ کے حوالے سے کم بات کی ہے۔ اپوزیشن کے مطابق ہر مخالف حکومت دھاندلی سے اور الیکشن کمیشن کے تعاؤن سے آتی ہے انہوں نے کہاکہ 2002میں پی ٹی آئی کے سربراہ عمران خان قومی اسمبلی میں آئے مگر اجلاسوں اور کمیٹیوں میں بہت کم شرکت کی‘ اس سے پہلے 2013کے انتخابات کو بھی دھاندلی زدہ قرار دیا تھا اور یہ الیکشن بھی چاروں صوبوں میں ہوئے مگر خیبر پختونخوا میں انتخابات پاک و صاف جبکہ دیگر صوبوں میں دھاندلی زدہ ہیں کیا خیبر پختونخوا کا الیکشن کمیشن کوئی اور تھا؟
انہوں نے کہاکہ اس حکومت میں تمام ملکی ادارے اور عدلیہ کام کر رہی ہے پارلیمنٹ فعال ہے ایک صوبے میں پی ٹی آئی کی حکومت چل رہی ہے اور کوئی بحران نہیں ہے اگر بحران ہے تو صرف پی ٹی آئی کے اندر ہے انہوں نے کہاکہ پی ٹی آئی کے ساتھ آج جو بھی ہورہا ہے یہ ان کے اپنے دست وبازو کا نتیجہ ہے انہوں نے کہاکہ ملک میں جمہوریت اور انتخابات کو خراب کرنے میں پی ٹی آئی کا کیا کردار رہا ہے انہوں نے کہاکہ مسلم لیگ ن پر 10ارب کے کرپشن کے کیسز بنے ہیں جبکہ پی ٹی آئی پر ایک کیس 7ارب کا ہے انہوں نے کہاکہ میاں نواز شریف پر کرپشن کا ایک بھی کیس نہیں تھااور عدالتوں نے بھی اسے بے گناہ ثابت کیا ہے انہوں نے کہاکہ اس ملک میں 71سالوں میں جتنا قرضہ لیا گیا تھا اس سے زیادہ قرضہ پی ٹی آئی حکومت نے لیا تھا اور آئی ایم ایف سے دوبارہ قرضہ لیا‘ مانتے ہیں کہ ملک کے معاشی حالات بہتر نہیں ہیں ہمیں کشکول کو توڑنا پڑے گا تاہم یہ کشکول پی ٹی آئی حکومت نے اٹھایا تھا انہوں نے کہاکہ اگر باہر سے قرض نہیں لیں گے تو اپنے محصولات میں اضافہ کرنا ہوگا اور ٹیکس کا دائرہ وسیع کرنا پڑے گایہ نہیں ہوسکتا کہ باہر سے قرض بند کریں اور اپنوں سے ٹیکس نہ لیں تو پھر ملک کیسے چلے گا اور عوام کی فلاح و بہبود کیسے ہوگی انہوں نے کہاکہ جب ایک سیاسی فضا ء کے اندر انتشار پیدا کرنے کی کوشش ہوگی تو حالات خراب ہونگے انہوں نے کہاکہ جو حکومت سے بات نہیں کرنا تو حالات کیسے ٹھیک ہونگے اگر یہ ہم سے بات کرنا چاہتے ہیں تو سب سے پہلے ان کو چور ڈاکو کہنا بند کرنا ہوگا‘2018میں آر ٹی ایس بند کرنے کے باوجود ہم نے نتائج تسلیم کئے ہمیں ملکی مفاد کیلئے تضادات سے نکلنا ہوگا انہوں نے کہاکہ آج کہتے ہیں کہ 9مئی فوج کا فالس فلیگ اپریشن تھا یہ کونسی سیاست ہے نوجوانوں سے ہمدردی یہ نہیں کہ انہیں پٹرول بم دیدیں اور کور کمانڈر کا گھر جلائیں انہوں نے کہاکہ بجٹ کے حوالے سے مثبت تجاویز دیں اس سے بجٹ کے اندر اصلاحات نہیں ہوسکتی ہیں اور اگر کوئی منافی بات ہو تو اس کی نشاندھی کریں۔
Comments are closed.