ملک حکومت اور اشرافیہ سے قربانی مانگتا ہے ، وزیراعظم
اسلام آباد ( آن لائن ) وزیراعظم میاں محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ ملک حکومت اور اشرافیہ سے قربانی مانگتا ہے ، معاشی سفر مشکل اور طویل ہے ، اہداف حاصل کرنے کیلئے کمر کس لی،وعدہ ہے اہداف حاصل کرلئے تو آئی ایم ایف کا یہ پروگرام آخری ہوگا ،ہم نے ملک کو ڈیفالٹ سے بچایا اس کا سہرا میاں نواز شریف اورتمام اتحادی جماعتوں کے سر جاتا ہے ،آج مہنگائی 38 فیصد سے 12 فیصد پر آگئی اس میں مزید کمی آئے گی، ڈیڑھ ماہ میں قومی خزانے پر بوجھ بننے والی وزارتیں ختم اور قوم کا پیسہ ہضم کرنیو الے ادارے بیچ دیں گے،اگر محنت کریں، ایثار اور قربانی کا جذبہ ہو تو کوئی رکاوٹ نہیں رہے گی، اس حوالے سے بہت ٹھوس فیصلے لے کر آوٴں گا، مقبوضہ کشمیر میں مظالم کی عصر حاضر میں مثال نہیں ملتی، غزہ پر ڈھائے گئے مظالم عصر حاضر نے اس سے پہلے نہیں دیکھے،بجلی چور، شہیدوں غازیوں کی توہین کرنے والے اور ملک لوٹنے والے ہمارے اصل دشمن ہیں، ماضی میں جھانک کر رونے کا کوئی فائدہ نہیں
، ماضی سے سیکھ کر پاکستان کا کھویا ہوا مقام دوبارہ حاصل کرنا ہے۔قوم سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ قوم کو اور تمام اہل اسلام کو دل کی گہرائیوں سے حج اور عیدالاضحیٰ کے موقع پر مبارکباد پیش کرتا ہوں اللہ ہماری قربانی قبول فرمائے اور آسانیاں پیدا فرمائے ۔ انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں مظالم کی عصر حاضر میں مثال نہیں ملتی، غزہ پر ڈھائے گئے مظالم عصر حاضر نے اس سے پہلے نہیں دیکھے دعا ہے کہ کشمیریوں اور فلسطینیوں کو ان کی آزادی کا حق ملے، اللہ تعالیٰ سے دعا ہے وہ ہماری دعائیں اور قربانی قبول فرمائے، غزہ میں 40 ہزار فلسطینیوں کو شہید کردیا گیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ اپریل 2022میں اقتدار سنبھالا تو معاشی صورتحال ابتر تھی، پاکستان معاشی مشکلات سے نکل کر گامزن ہو رہا ہے، ہم نے ملک کو ڈیفالٹ سے بچایا، ڈیفالٹ سے بچانے کے لیے نوازشریف اور آصف زرداری کی رہنمائی میں کام کیا، سہرا نواز شریف اور تیرہ اتحادی جماعتوں کے اکابرین کو جاتا ہے۔ شہباز شریف نے کہا کہ معاشی ترقی کا یہ سفر نہ صرف مشکل اور طویل، بلکہ حکومت اور اشرافیہ سے قربانی مانگتا ہے آج عوام کی نظریں حکومت پر ٹکی ہوئی ہیں، پچھلے برسوں میں مہنگائی کا طوفان آیا، غریب کو بہت تکلیف پہنچی، آج مہنگائی 38 فیصد سے 12 فیصد پر آگئی ہے اور آئندہ بھی مزید آسودگی ملنے کی توقع ہے۔شہباز شریف نے کہا کہ شرح سود 22 فیصد سے کم ہوکر 20 فیصد پر آگیا، شرح سود میں کمی سے سرمایہ کاری بڑھے گی، قرضے کم ہوں گے، ملکی معیشت بہتری کی جانب گامزن ہوگی، اس سے نہ صرف اربوں روپے کی بچت بلکہ ترقی و خوشحالی کا سنگ میل ہوگا۔انہوں نے کہا کہ اگر محنت کریں، ایثار اور قربانی کا جذبہ ہو تو کوئی رکاوٹ نہیں رہے گی، اس حوالے سے بہت ٹھوس فیصلے لے کر آوٴں گا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کا فرض ہے کہ شاہانہ اخراجات کا خاتمہ کرے، پی ڈبلیو ڈی کی وزارت زمانے بھر کرپشن میں بدنام شمار ہوتی ہے، اگر 100 ارب روپے کا ترقیاتی فنڈ ہو تو 50 فیصدکرپشن کی نذر ہوجاتے ہیں۔وزیر اعظم نے کہا کہ عوامی خدمت کے لیے قوم پر بوجھ وزارتیں یا ادارے ختم کرنا ناگزیر ہوگیا، جو ادارہ کرپشن کا منبہ بن چکے ہیں ان کا خاتمہ ضروری ہے، ہماری حکومت کو 100 دن پورے ہوچکے ہیں، اگلے ڈیڑھ سے 2 ماہ میں عوام کے پاس مثبت نتائج لاوٴں گا، پاکستان پر بوجھ بننے والے تمام اداروں کا خاتمہ کردیا جائے گا اور آئندہ ڈیڑھ سے دو ماہ میں ایسے اداروں کو خاتمہ کردیا جائے گا جو پاکستان پر بوجھ بن چکے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ماضی میں جھانک کر رونے کا کوئی فائدہ نہیں، ماضی سے سیکھ کر پاکستان کا کھویا ہوا مقام دوبارہ حاصل کرنا ہے، اللہ نے ہمیں بے شمار قدرتی وسائل سے نوازا ہے، عوام کو ملک بھر میں اندرونی کے ساتھ بیرونی سرمایہ کاری نظر آئے گی۔ان کا کہنا تھا کہ ڈیجیٹائزیشن کی وجہ سے کھربوں روپے کرپشن کی نظر ہورہے تھے، ایف بی آر کی ڈیجیٹائزیشن عالمی معیار کی کمپنی کے حوالے کردی، ایف بی آرمیں موجود نالائق لوگوں کو ایک طرف کردیا گیا اور ایجنسیوں کی رپورٹ کے مطابق بہترین لوگ آگے لائے ہیں۔شہباز شریف نے کہا کہ ہمارے لیے 30 فیصد محصولات زیادہ جمع ہونا خوش آئند ہے، آئندہ سال محصولات کے اہداف دکھنے میں بڑا چیلنج ہیں، لیکن چور بازاری اورکرپشن کا خاتمہ کریں تو مزید کھربوں کے محصولات جمع ہوں گی۔انہوں نے کہا کہ متحدہ عرب امارات (یو اے ای) نے 10 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا وعدہ کیا ہے، ایس آئی ایف سی کے ذریعے صنعتی، زرعی، آئی ٹی، معدنیات میں سرمایہ کاری ہوگی، ہم بیرونی کے ساتھ ساتھ اندرونی سرمایہ کاری کو بھی یقینی بنائیں گے، آئی ایم ایف کا آخری پروگرام لینے جارہے ہیں، وعدہ کرتا ہوں اپنے اہداف پر کمر کس لی تو اگلا پروگرام آخری ہوگا اور ان شااللہ ترقی کی دوڑ میں ہمسایہ ممالک کو پیچھے چھوڑیں گے۔ان کا کہنا تھا کہ طلبہ کو جدید علوم سے آراستہ کریں گے، پاکستان کی اپنی جو بصیرت ہے اسے بروئے کار لارہے ہیں، پورے پاکستان میں انفارمیشن ٹیکنالوجی پھیلائیں گے، چین سے 3 لاکھ پاکستانیوں کو انفارمیشن ٹیکنالوجی کی ٹریننگ دلوائیں گے۔ اپنے خطاب میں وزیراعظم کا مزید کہنا تھا کہ برآمدات اور صنعتی و زرعی مصنوعات سستا بنانے کے لیے بجلی سستی کی، تقریباً ساڑھے 10 روپے بجلی کی قیمت تمام صنعتوں کے لیے کم کی ہے، بجلی سستی ہونے سے صنعتوں پر تقریباً 200 ارب روپے کا بوجھ کم ہوگا، جبکہ مصنوعات سستی کرنے کے لیے بجلی کی قیمت کم کی۔وزیراعظم نے کہا کہ خسارے والے منصوبوں کو بیچ کر وسائل حاصل کریں گے، جو قربانی دینی پڑی ہم مل کر دیں گے، جن منصوبوں پر پاکستان کی ترقی کا انحصار ہے انہیں وسعت دیں گے، حکومت اپنے اخراجات بچائے گی، سادگی اوڑھنا بچھونا ہوگی، عوامی پیسے پر عیاشی نہیں ہوگی، ایک ایک دھیلا ترقی پر خرچ کریں گے، حکومت مزید کارخانے نہیں لگائے گی، کاروبار نہیں کرے گی، کاروبار کے فروغ کے لیے نجی شعبے کی مدد کی جائے گی۔
Comments are closed.