حکومت وکلا کی فلاح و بہبود کے لئے کام کر رہی ہے، وفاقی وزیر قانون
لاہور (آن لائن) وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ حکومت وکلا کی فلاح و بہبود کے لئے کام کر رہی ہے ۔پنجاب حکومت نے بار کونسل کے لئے اسی سلسلے میں ایک ارب مختص کئے ہیں ۔ وزیر اعلی نے خواتین وکلا کے لئے سہولیات دینے کا اعلان کیا ہے ۔ قانون کی بالادستی سب پر لاگو ہے۔ اور سب پر اس کا حترام لازم ہے ۔ پنجاب بار کونسل سے خطاب کرتے ہوے انہوں نے کہا پنجاب بھر کے تمام اضلاع اور تحصیلوں میں وکلا برادری کے لئے اقدامات کئے جا رہے ہیں ۔ حکومت نے بار کونسل کے لئے ایک ارب روپے دینے کا اعلان کیا ہے ۔ وزیر اعلیٰ نے خواتین وکلا کے لئے سہولیات دینے کا اعلان کیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہما رے انصاف میں لوگ مدعی ہیں ۔ انہوں نے کہا اٹک میں و کلا کے قتل پر وزیر اعلی نے فوری نوٹس لیا ۔ قتل کی اطلاع ملتے ہی انہوں نے فوری آئی جی سے بات کی اور انکی ہدائت پر ملزم کو حراست میں لے لیا گیا۔ وزیر اعلی نے ملزم کے خلاف خصوصی عدالت میں مقدمہ چلانے کی ہدائت کی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ وکلا قتل کے معاملے پر کمیٹی بھی تشکیل دے دی گئی ہے جو تحقیقات کے بعد حکومت کو رپورٹ دے گی ۔ انہوں نے کہا قومی اسمبلی نے گذشتہ سال لائرز پروٹیکشن بل پاس کیا تھا جس کی وزیراعظم نے حمائت کی یقین دہانی کرائی ہے ۔ انہوں نے کہا قانون کی بالا دستی سب پر ہے اس میں انتظامیہ ، عدلیہ اور مقننہ کے تمام لوگ بھی شامل ہیں ۔ حکومت آئین اور قانون کی بالا دستی کی بات کرتی ہے ۔ وزیر قانون نے کہا کہ گزشتہ دنوں جو لاہور بار ایسو ایشن کے معاملے پر ہوا، وہ بھی بڑا تکلیف دہ تھا، جو احکامات دیے گئے، وہ بڑی زیادتی تھی، جس طرح سے لاہور ہائی کورٹ کی طرف سے حکم میں کہا گیا کہ آپ دروازے بند کردیں اور کوئی وکیل اندر داخل نہیں ہوگا،
یہ کام تو مارشل لا ادوار میں بھی نہیں ہوا۔ انہوں نے کہا کہ یہ کام تو وکلا تحریک کے دنوں میں جب کہ وکلا کو انتہا درجے کی ریاستی دہشت گردی کا سامنا تھا، 3 نومبر کے بعد بھی لاہور ہائی کورٹ کا احاطہ بھی وکلا کے لیے بند نہیں تھا، میں نے اس دن وزیر اعلیٰ پنجاب سے فوری رابطہ کیا، انہوں نے فوری ایکشن لیا، انہوں نے فوری طور پر کہا کہ وکلا دہشت گرد نہیں، قانون کے رکھوالے ہیں، اگر وہ اپنے حق کے لیے احتجاج کر رہے ہیں تو یہ دہشت گردی نہیں ہے۔ اس کے بعد تمام گرفتار وکلا کو رہا کردیا گیا، آج کے اجلاس میں یہ طے ہوگیا ہے، وزیر اعلیٰ پنجاب نے متعلقہ محکموں کو یہ ہدایات دی ہیں کہ وکلا کے احتجاج پر دہشت گردی کی دفعات 7 اے ٹی اے کو لاگو کرنے کا سلسلہ بند کردیا جائے۔ان کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ ہے کہ انسداد دہشت گردی کی دفعات منظم دہشت گردی کے علاوہ ذاتی یا دیگر اس کے طرح کے کیسز میں لاگو نہیں ہوں گی، ہمارا بھی اس سلسلے میں ہمارا وعدہ ہے کہ ایسا نہیں ہوگا۔وزیر قانون نے کہا کہ دوسری طرف ہم بھی آپ سے توقع رکھتے ہیں کہ ہم خود احتسابی بھی کریں، اپنی ڈسپلنری کمیٹی کو فعال کریں، مجھے مشکلات کا اندازہ ہے، ان کو حل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، جب کالا کوٹ پہن لیا، حلف نامہ دے دیا کہ آئین کے تحت کام کریں گے تو پھر زیب نہیں دیتا کہ توڑ پھوڑ میں شریک ہوں اور تالا بندی کا حصہ بنیں، انصاف کی فراہمی کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کریں۔ وزیر اعلیٰ نے وکلا کا تحفظ یقینی بنانا ریاست کی ذمہ داری قرار دی ہے ۔ جہاں جرم ہو وہاں ریاست کام کرے گی ۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے بھی قید وبند کی صعوبتیں برداشت کیں لیکن کبھی جلاو گھیراو والا احتجاج نہیں کیا ۔
Comments are closed.