وزارت داخلہ کا خیبرپختونخواہ کے حساس گرڈ سٹیشنوں کو سیکورٹی فراہم کرنے کا فیصلہ
اسلام آباد(آن لائن) وزارت داخلہ نے خیبرپختونخواہ کے حساس گرڈ سٹیشنوں کو سیکورٹی فراہم کرنے کا فیصلہ کرلیا، گرڈ اسٹیشنز پر حملوں میں ملوث ارکان اسمبلی کے خلاف ایف آئی آر درج کرانے کی ہدایت،گرڈ سٹیشنوں پر حملوں اور زبردستی بجلی چالو کرنے کے معاملے پر چیف پیسکو نے ایم ڈی پی پی ایم سی اسلام آباد کو خط لکھ دیا۔وزارت داخلہ نے گرڈ سٹیشنوں پر سیکورٹی انتظامات سخت کرنے کے احکامات جاری کرتے ہوئے غیر متعلقہ افراد کے گرڈ سٹیشنوں میں داخلوں پرپابندی لگا دی ہے۔اس کے ساتھ ساتھ پولیس کو احکامات جاری کئے گئے ہیں کہ گرڈ سٹیشنوں پر حملوں میں ملوث اراکین اسمبلی سمیت دیگر افراد کیخلاف ایف آئی آر درج کر کے مقدمات قائم کئے جائیں۔دریں اثناء چیف پیسکو کی طرف سے ایم ڈی پی پی ایم سی اسلام آباد کو لکھے گئے خط کے متن میں کہا گیا ہے کہ اراکان قومی اور صوبائی اسمبلی نے زبردستی متعلقہ گرڈ اسٹیشنزمیں گھس کر بجلی بحال کی۔
اس غیرقانونی اقدام سے پیسکو کو کروڑوں روپے کا نقصان پہنچایا گیا۔خط میں لکھا گیا کہ ایم این اے آصف خان نے انتہائی نامناسب رویہ اپنایا اور دھمکیاں بھی دیں، تحصیل ناظم انعام اللہ نے 132کے وی سخی چشمہ کے دوفیڈر سے بجلی زبردستی بحال کرائی، 132 کے وی مردان 2 سے دریاب خان ناظم نے ایک فیڈرسے بجلی بحال کرائی جبکہ ایم پی اے فضل الہی نے رحمان بابا گرڈ سٹیشن کے 10 فیڈز سے زبردستی بجلی بحال کرائی۔متعلقہ گرڈسٹیشنوں پر حملے اور کارسرکار میں مداخلت کے پیش نظر ارکان اسمبلی کے خلاف ایف آئی آر درج کرانے کی درخواست کی گئی لیکن پولیس کی جانب سے تاحال ارکان صوبائی اور قومی اسمبلی کے خلاف کوئی ایف آئی آر درج کرانے سے انکار کیاگیا جس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ وزیر اعلی خیبر پختونخواہ نے بھی 12 گھنٹے سے زائد لوڈشیڈنگ والے علاقوں میں بجلی بحال کرنے والوں کے خلاف ایف آئی آرز کے اندراج سے روکا ہوا ہے۔خط میں کہا گیا کہ شاہی باغ گرڈ سٹیشن کے ایک گرڈ سٹیشن سے تحصیل ناظم متھرا انعام اللہ نے بھی زبردستی بجلی بحال کرائی۔
Comments are closed.