پی ٹی آئی کی طرف سے آپریشن عزم استحکام کی مخالفت اور اپنے منفی ایجنڈے کو آگے بڑھانے کیلئے پارلیمنٹ کی آڑ لینے کی کوشش

اسلام آباد (آن لائن) پاکستان تحریک انصاف ابھی تک اپنی 9 مئی والی ذہنیت سے باہر نہیں نکل سکی اور مستقل طور پر اس کوشش میں ہے کہ ریاستی اداروں اور افواج پاکستان کو مسلسل ٹارگٹ کیا جائے چاہے اس سازشی عمل کا ملک و قوم کو کتنا ہی ناقابلِ تلافی نقصان کیوں نہ پہنچے۔

ملک کے 25 کروڑ عوام سمیت پوری پی ٹی آئی اس حقیقت سے آگاہ ہے کہ دہشت گردی کی حالیہ لہر سے بے گناہ شہریوں اور افواج پاکستان کو کتنے بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصان ہو رہا ہے ، دنیا کی کوئی ریاست دہشت گردوں کو اس کی اجازت نہیں دے سکتی کہ وہ مسلسل بے گناہوں کا خون بہاتے رہیں، اس لیئے آپریشن عزم استحکام کا فیصلہ پوری قوم کے دل کی آواز ہے لیکن پی ٹی آئی اس نازک موقع پر بھی قومی اتفاق رائے کو سبوتاژ کرنے کی سازش سے باز نہیں آئی۔

ماضی میں آپریشن ضرب عضب اور آپریشن ضرب آہن سمیت دہشت گردوں کیخلاف کئی آپریشن لانچ کیئے گئے اور ملک کی کسی سیاسی جماعت نے ان مواقع پر قومی اتفاق رائے کو سبوتاژ کرنے کی جسارت نہیں کی، پی ٹی آئی کس دیدہ دلیری سے یہ گھناؤنی حرکت کر رہی ہے اس پر ملک و قوم کا درد رکھنے والے تمام اسٹیک ہولڈرز حیران اور ششدر ہیں ۔

ایک طرف پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہر نے یہ موقف اختیار کیا ہے کہ آپریشن شروع کرنے سے پہلے پارلیمان کو ان کیمرہ بریفنگ کے ذریعے اعتماد میں لیا جائے دوسری طرف ساتھ ہی اسد قیصر نے فوجی آپریشن کے آپشن کو سرے سے ہی مسترد کر دیا اور موقف اختیار کیا کہ ماضی میں جتنے آپریشن ہوئے وہ کامیاب نہیں ہوئے اس لیئے ایک اور ناکام آپریشن کا تجربہ نہ کیا جائے ، پی ٹی آئی کی یہ شرمناک دوعملی آپریشن عزم استحکام کے آغاز سے پہلے ہی فوجی افسروں و جوانوں کا مورال ڈاؤن کرنے اور دہشتگردوں کا حوصلہ بڑھانے کے مترادف ہے ، اس باریک واردات کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے ۔

بانی پی ٹی آئی کو ان کے نظریات اور ماضی کے کردار کی وجہ سے طالبان خان بھی کہا جاتا ہے ، افغانستان سے امریکی افواج کے انخلاء کے موقع پر پی ٹی آئی حکومت نے وہاں سے ٹی ٹی پی کے ہزاروں دہشت گردوں کو پاکستان واپس آ کر آباد ہونے کی سہولت کاری کی ، اور اب جب ان دہشتگردوں کی بیخ کنی کیلئے آپریشن شروع ہونے جا رہا ہے تو پی ٹی آئی کا بےساختہ ردعمل اس فاشسٹ جماعت اور اس کے بانی کے دہشت گردوں کے ساتھ فطری گٹھ جوڑ اور ان کی مستقبل سہولت کاری کا عکاس ہے ، اس لیئے یہ کہنا بے جا نہیں کہ قومی اسمبلی کے آج کے اجلاس میں یہ بلی تھیلے سے باہر آ گئی ہے ۔

Comments are closed.