ایم پی اوانگریز کا کالا قانون، احکامات دینے والے افسران قومی مجرم ہیں، پی ٹی آئی

اسلام آباد(آن لائن)پاکستان تحریک انصاف کے ترجمان نے 9مئی واقعات کی آڑ میں تحریک انصاف اور شہریوں کو مینٹیننس آف پبلک آرڈر (ایم پی او) احکامات کے تحت سیاسی انتقام کا نشانہ بنانے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایم پی او انگریز کا بنایا ہوا کالا قانون ہے جو تاجِ برطانیہ کی کالونی کے باشندوں کو غلام بنانے کیلئے تخلیق کیا گیا، ایم پی او کے احکامات جاری کرنے والے انتظامی افسران حقیقت میں قوم کے مجرم ہیں جن کا محاسبہ نظامِ عدل کے ذمے ہے،ان سے جواب طلبی کی جائے گی۔منگل کو جاری ہونے والے ایک بیان میں ترجمان تحریک انصاف نے پنجاب کے انتظامی افسران کی جانب سے 9 مئی واقعات پر ایم پی او قانون کے تحت 4 ہزار 770 افراد کی گرفتاری کی پیش کردہ تفصیلات کو شرمناک اور قابلِ مذمت قرار دے دیااور کہا کہ صوبہ پنجاب میں تھری ایم پی او کے نتیجے میں لگ بھگ 5 ہزار شہریوں کو نظر بند کیا جانا ملک کی انتظامی تاریخ کا ایک سیاہ ترین باب ہے۔ترجمان نے کہا کہ مینٹیننس آف پبلک آرڈر (ایم پی او) انگریز کا بنایا ہوا کالا قانون ہے جو تاجِ برطانیہ کی کالونی کے باشندوں کو غلام بنانے کیلئے تخلیق کیا گیا،

گزشتہ دو سال کے دوران انگریز کے بنائے گئے اس کالے قانون کو بغیر کسی قانونی جواز کے استعمال کر کے شہریوں کو بدترین فسطائیت اور ظلم کا نشانہ بنایا گیا۔ترجمان نے کہا کہ 9 مئی فالس فلیگ آپریشن کی آڑ میں 3ایم پی او کے ذریعے پاکستان تحریک انصاف کے قائدین و کارکنان سمیت عام شہریوں کے بنیادی حقوق کی دھجیاں اڑائی گئیں، مینٹیننس آف پبلک آرڈر (ایم پی او) کے احکامات جاری کرنے والے انتظامی افسران حقیقت میں قوم کے مجرم ہیں جن کا محاسبہ نظامِ عدل کے ذمے ہے، ایم پی او کے تحت کی گئی گرفتاریوں کے اعداد و شمار سامنے آنے کے بعد پوری دنیا میں ریاست پاکستان کی ساکھ اور اس کے شہریوں سے برتاؤ کے حوالے سے نہایت منفی کردار دنیا پر آشکار ہوا ہے۔ترجمان نے کہا کہ انتظامی افسران کی جانب سے ایم پی او آرڈرز کے اجرا کا سلسلہ آج بھی جاری ہے جبکہ دفعہ 144 کے نفاذ کے ذریعے خصوصاً پنجاب میں شہریوں کے تمام دستوری حقوق سلب کیے جا رہے ہیں۔ترجمان نے کہا کہ وقت آئے گا جب ایسے گھناؤنے اور مکروہ ہتھکنڈے استعمال کرنے والے انتظامی و ریاستی اہلکاروں کی سیاہ کاریوں پر ان سے جواب طلبی کی جائے گی،سپریم کورٹ آف پاکستان اس معاملے کا نوٹس لے اور ملک میں Abuse of Law کے اس مکروہ سلسلے کو روک کر اپنے بنیادی دستوری فرائض کی انجام دہی کا اہتمام کرے

Comments are closed.