عدت کیس میں ریلیف نہ مل سکا، بانی پی ٹی آئی اور بشری بی بی کی سزا معطلی کی درخواستیں مسترد

اسلام آباد(آن لائن)عدت کیس میں ریلیف نہ مل سکا،سابق وزیر اعظم اور بانی پی ٹی آئی عمران خان اور ان کی اہلیہ بشری بی بی کی عدت نکاح کیس میں سزا معطلی کی درخواست مسترد کردی گئی۔جبکہ عدت میں نکاح کیس میں سزاکیخلاف مرکزی اپیلوں پر سماعت 2 جولائی کو ہو گی۔ ایڈیشنل سیشن جج افضل مجوکا نے10 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کردیا ، تفصیلی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ سزا معطلی کی دونوں اپیلیں مسترد کی جاتی ہیں، مجرمان دفعہ 426 کے تحت قابلِ ضمانت جرم میں ضمانت کے دعویدار نہیں ہوسکتے۔تفصیلی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ قانون کے تحت خاتون مجرم بھی ضمانت کی دعویدار نہیں ہوسکتی۔بانی پی ٹی آئی عمران خان اور ان کی اہلیہ بشری بی بی کیخلاف عدت نکاح کیس میں سزا معطلی کی درخواستوں پر عدالت نے 25 جون کو فیصلہ محفوظ کیا تھا۔ ایڈیشنل ڈسٹرکٹ سیشن جج افضل مجوکا نے عدت میں نکاح کیس میں سزا کے خلاف اپیلوں پر محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے بانی پی ٹی آئی عمران خان اور بشری بی بی کی سزا معطلی کی اپیلیں مسترد کر دیں۔

عدالت میں جج افضل مجوکا نے کہا کہ میں نے تفصیلی فیصلہ لکھ دیا ہے، دونوں کی درخواستیں مسترد کی جاتی ہیں۔فیصلہ جمعرات کے روزسنایاگیا،اس موقع پر اڈیالہ جیل کے باہر سکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کیے گئے تھے اور جیل کی جانب جانیوالے تمام راستوں کو بند کر دیا گیا تھا۔بانی پی ٹی آئی اور بشری بی بی نے دوران عدت نکاح کیس میں سزا معطلی کی اپیلیں دائر کی تھیں۔سینئر سول جج قدرت اللہ نے 3 فروری 2024 کو بانی پی ٹی آئی اور بشری بی بی کو سات سات سال سزا سنائی تھی۔سابق وزیر اعظم عمران خان اس وقت صرف عدت میں نکاح کیس میں سزا کے باعث اڈیالہ جیل میں قید ہیں، بانی پی ٹی آئی توشہ خانہ اور سائفر مقدمات میں پہلے ہی بری ہو چکے ہیں جبکہ 190 ملین پاونڈ کیس، لاہور، راولپنڈی، فیصل آباد میں درج 9 مئی کے مقدمات میں بھی ضمانت پر ہیں۔ایف آئی اے ریاست مخالف ویڈیو ٹوئٹ کرنے پر بانی پی ٹی آئی سے دو بار اڈیالہ جیل میں تفتیش کر چکی ہے اس کیس میں بانی پی ٹی آئی کیخلاف تاحال کوئی نیا مقدمہ درج نہیں کیا گیا۔واضح رہے کہ گزشتہ سال 25 نومبر کو اسلام آباد کے سول جج قدرت کی عدالت میں پیش ہو کر بشری بی بی کے سابق شوہر خاور مانیکا نے عمران خان اور ان کی اہلیہ کے خلاف دوران عدت نکاح کا کیس دائر کیا تھا، درخواست سیکشن 494/34، B-496 ودیگر دفعات کے تحت دائر کی گئی۔درخواست میں موقف اپنایا گیا تھا کہ میراتعلق پاک پتن کی مانیکا فیملی سے ہے، بشری بی بی سے شادی 1989 میں ہوئی تھی، جو اس وقت پر پرسکون اور اچھی طرح چلتی رہی جب تک عمران خان نے بشری بی بی کی ہمشیرہ کے ذریعے اسلام آباد دھرنے کے دوران مداخلت نہیں کی، جو متحدہ عرب امارات میں رہائش پذیر اور درخواست گزار کو یقین ہے کہ اس کے یہودی لابی کے ساتھ مضبوط تعلقات ہیں۔

خاور مانیکا نے بتایا تھا کہ چیئرمین پی ٹی آئی شکایت کنندہ کے گھر میں پیری مریدی کی اڑ میں داخل ہوئے اور غیر موجودگی میں بھی اکثر گھر آنے لگے، وہ کئی گھنٹوں تک گھر میں رہتے جو غیر اخلاقی بلکہ اسلامی معاشرے کے اصولوں کے بھی خلاف ہے۔درخواست میں مزید کہا گیا تھا کہ عمران خان وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ازدواجی زندگی میں بھی گھسنا شروع ہوگئے، حالانکہ اسے تنبیہ کی اور غیر مناسب انداز میں گھر کے احاطے سے بھی نکالا۔خاور مانیکا نے درخواست میں بتایا تھا کہ ایک دن جب اچانک وہ اپنے گھر گئے تو دیکھا کہ زلفی بخاری ان کے بیڈ روم میں اکیلے تھے، وہ بھی عمران خان کے ہمراہ اکثر ا?یا کرتے تھے۔انہوں نے درخواست میں بتایا تھا کہ بشری بی بی نے میری اجازت کے بغیر بنی گالا جانا شروع کر دیا، حالانکہ زبردستی روکنے کی کوشش بھی کی اس دوران سخت جملوں کا تبادلہ بھی ہوا۔مزید لکھا تھا کہ بشری بی بی کے پاس مختلف موبائل فونز اور سم کارڈز تھے، جو چیئرمین پی ٹی آئی کی ہدایت پر فرح گوگی نے دیے تھے۔خاور مانیکا نے درخواست میں موقف اپنایا کہ نام نہاد نکاح سے قبل دونوں نے ایک دوسرے کے ساتھ غیر قانونی تعلقات قائم کیے، یہ حقیقت مجھے ملازم لطیف نے بتائی۔درخواست میں مزید بتایا تھا کہ فیملی کی خاطر صورتحال کو بہتر کرنے کی کوشش کی لیکن یہ سب ضائع گئیں، اور شکایت کنندہ نے 14 نومبر 2017 کو طلاق دے دی۔خاور مانیکا کی درخواست کے مطابق دوران عدت بشری بی بی نے عمران خان کے ساتھ یکم جنوری 2018 کو نکاح کر لیا، یہ نکاح غیر قانونی اور اسلامی تعلیمات کے خلاف ہے۔مزید لکھا تھا کہ دوران عدت نکاح کی حقیقت منظر عام پر آنے کے بعد دونوں نے مفتی سعید کے ذریعے فروری 2018 میں دوبارہ نکاح کر لیا، لہذا یہ پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 496/ 496 بی کے تحت سنگین جرم ہے، دونوں شادی سے پہلے ہی فرار ہوگئے تھے۔درخواست میں استدعا کی گئی تھی کہ عمران خان اور بشری بی بی کو طلب کیا جائے اور انہیں ا?ئین اور قانون کے تحت سخت سزا دی جائے۔

Comments are closed.