خواجہ اصف نے کہا ہے کہ پاکستان اور افغانستان ہمسایہ ممالک ہیں،افغانستان کے ساتھ تاریخی مذہبی تعلقات ہیں،افغانستان سے امریکی فوج کے انخلا کے بعد دہشت گردی کو فروغ ملا ،پاکستان میں دہشت گردی افغان سرزمین سے ہو رہی ہے،خواجہ آصف نے کہا کہاس وقت پوری دنیا میں فارمل بارڈرز ہیں اور پاسپورٹ دکھا کر کراس کیا جاتا ہے ۔دنیا بھر میں پاک افغان واحد بارڈر ہے جہاں پہ لوگوں کا فری آنا جانا ہے ۔افغانستان سے تیل کھاد سمیت دیگر اشیاء کی اسمگلنگ سے پاکستانی معیشت کو نقصان پہنچ رہا ہے ۔حکومت پاکستان اسملنگ کی روک تھام کے لیے مزید اقدامات اٹھانے جارہی ہے ۔صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ سمگلنگ دہشت گردی کو بھی فروغ دے رہی ہے ۔کے پی کے اور بلوچستان میں افغانستان کے لیے کراسنگ پوائنٹس کو اب فارمر بارڈر بنانے جا رہے ہیں ۔خواجہ آصف نے کہا کہ افغانستان کے بارڈر کو انٹرنیشنل بارڈر کے طور پر ٹریٹ کیا جائے گا ۔
افغانستان سے آنے والی تمام ٹریفک کو پاسپورٹ اور ویزے کے بعد ہی داخلے کی اجازت ہوگئی۔یورپ میں یورپی یونین کے بننے کے بعد یہ سلسلہ وہاں بھی ہے ۔ بغیر پاسپورٹ اور ویزے کے پاکستان میں داخلے کی روایت اب ختم ہونے جارہی ہے ۔پاکستان نے اپنے اپ کو محفوظ کرنا ہے یہ کراسنگ پوائنٹس پاکستان کو غیر محفوظ کر رہے ہیں ۔ہماری بار بار درخواست کے باوجود افغان حکومت کو جس طرح کا تعاون کرنا چاہیے نہیں کر رہی ۔فیملیز دونوں اطراف رہ رہی ہیں اس چیز کا ہمیں ادراک ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان کی بر صغیر سے علیحدگی کے بعد کشمیر میں اج بھی فیملیز تقسیم ہیں ۔اسی طرح سیالکوٹ کے بارڈرز اور ورکنگ باوٴنڈری پر بھی فیملیز تقسیم ہیں ۔مولانا میرے لیے بڑے محترم ہیں چین کے حوالے سے ان کا بیان درست نہیں ۔ وزیراعظم کے دور چین کے دوران میں وزیراعظم کے ساتھ تھا ۔وزیراعظم چینی صدر اور وزیر اعظم سے ملاقات کے دوران بھی میں موجود تھا ۔ چین نے ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی، کسی کو کوئی ابہام نہیں ہونا چاہیے ۔مولانا کہہ رہے ہیں میری کسی سفارت کار سے بات ہوئی ہے ۔میں نے چیک کیا ہے مولانا کی اس وقت تک کسی سفارت کار سے بات یا ملاقات نہیں ہوئی ۔مولانا فضل الرحمان کو کو اس بات کی کوئی غلط فہمی ہوئی ہے ۔مولانا کے پاس پوری معلومات نہیں اگر جاننا چاہتے ہیں تو ہم بتانے کو تیار ہیں ۔چینی تعاون اور یقین دہانیوں کے حوالے سے مولانا کو بتا سکتے ہیں ۔دورہ چین کامیاب رہا اور سی پیک کی بحالی اس کا ثبوت ہے ۔کچھ سٹریٹیجک نوعیت کے معاملات ہیں وہ کسی کے ساتھ شیئر نہیں ہو سکتے۔دورہ چین سے پاک چین دوستی اور تعلقات مزید مضبوط ہوئے۔
Comments are closed.