اسلام آباد(آن لائن)وفاقی بجٹ کی قومی اسمبلی سے منظوری کے لئے مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے اتحادیوں کے لئے بڑی قربانی دیدی اور اپنے حصے کی قائمہ کمیٹیاں بھی اتحادیوں میں بانٹ دیں ،سب سے زیادہ فائدہ میں رہنے والی جماعت پیپلز پارٹی رہی جس نے اب تک 27 قائمہ کمیٹیوں میں سے 11 کی سربراہی حاصل کرلی ہے جبکہ اس کا کوٹہ 9 کمیٹیوں کی سربراہی کا تھا ،اسی طرح ایم کیو ایم کو 2 کمیٹیوں کی سربراہی ملنی تھی مگر وہ بھی 4 کمیٹیوں کی سربراہی لے اڑی،ایم کیو ایم کے ڈاکٹر فاروق ستار نجکاری ،حفیظ الدین صنعت و پیداوار ،جاوید حنیف تجارت اور سید امین الحق قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی کے متفقہ چیئرمین منتخب ہوگئے، ان کمیٹیوں کے انتخابات ہفتہ کو پارلیمنٹ ہاؤس میں ہوئے ،ذرائع کے مطابق بجٹ منظوری کیلئے حکومت نے اتحادیوں کیلئے بڑی قربانی دی ہے اوراپنے حصے کی قائمہ کمیٹیاں بھی پیپلز پارٹی ،ایم کیو ایم اور دیگر اتحادیوں کو دے دیں
،کوٹے کے مطابق پیپلز پارٹی کو 9 قائمہ کمیٹیوں کی سربراہی ملنا تھی تاہم وہ اب تک 11 کمیٹیوں کی سربراہی حاصل کرنے میں کامیاب ہو چکی ہے اور تمام اہم کمیٹیاں پیپلز پارٹی کے حصے میں آئی ہیں جس میں خزانہ،مواصلات ،دفاع ،خارجہ امور بھی شامل ہیں ،ذرائع کے مطابق کوٹے کے مطابق مسلم لیگ ن کو 13 کمیٹیاں ملنا تھیں مگر اب تک ن لیگ کو صرف6 کمیٹیاں ملی ہیں ،ایک ایک نشست والی جماعتیں بھی قائمہ کمیٹی کی سربراہی لینے میں کامیاب ہوگئیں،باپ کے خالد مگسی اور نیشنل پارٹی کے پلین بلوچ بھی کمیٹی کے چیئرمین بن گئے ،ذرائع کا مزید کہنا تھا کہ ایم کیو ایم کو 2 کی بجائے 4 کمیٹیوں کی سربراہی مل گئی،ن لیگ کے ذرائع نے بتایا کہ اب ن لیگ اب اپنے نظر انداز اراکین کو پارلیمانی سیکرٹریز بنائے گی،جن کی تعداد 30 سے زائد ہوگی ،بجٹ منظوری میں تعاون کیلیے اتحادیوں نے من پسند کمیٹیاں مانگی تھی،وزیراعظم کی منظوری سے ان کے تمام مطالبات تسلیم کئے گئے ۔
Comments are closed.