جوڈیشل مارشل لاء کے تاثر کا نقصان ناقابلِ تلافی ہو گا،فوجی مارشل لاء کے دروازے کھل جائینگے ، اکبر ایس بابر
پاکستان تحریک انصاف کے بانی رہنما اکبر ایس بابر نے کہا ہے کہجوڈیشل مارشل لاء کے تاثر کا نقصان ناقابلِ تلافی ہو گا، جس سے فوجی مارشل لاء کے دروازے کھلیں گے،پی ٹی آئی کی متفرق درخواستوں کی سماعت کا فیصلہ ہوا تو فارن فنڈنگ کیس کو بھی فل کورٹ میں زیر سماعت لانے کی درخواست دائر کریں گے،آئین سے ماورا کوئی بھی تشریح نظریہ ضرورت کے تابع کہلائے گی،”وِل آف دی پیپل” کی اصطلاح کو میانمار میں فوج نے مارشل لاء کے نفاذ کی بنیاد بنایا۔ اپنے ایک بیان میں اکبر ایس بابر نے کہا کہ پی ٹی آئی کی متفرق درخواستوں کی سماعت کا فیصلہ ہوا تو فارن فنڈنگ کیس کو بھی فل کورٹ میں زیر سماعت لانے کی درخواست دائر کریں گے کیونکہ آئین سے ماورا کوئی بھی تشریح نظریہ ضرورت کے تابع کہلائے گی۔ انہوں نے کہا کہ مخصوص نشستوں کے معاملے پر سپریم کورٹ میں دوران سماعت نئی اصطلاحات متعارف ہوئیں بادی النظر میں ان اصطلاحات کا مقصد پی ٹی آئی کو نظریہ ضرورت سے لچک کا ماحول فراہم کرنا معلوم ہوتا ہے۔ تحریک انصاف کے بانی رہنما نے میانمار کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ "وِل آف دی پیپل” کی اصطلاح کو میانمار میں فوج نے مارشل لاء کے نفاذ کی بنیاد بنایا آج سپریم کورٹ آف پاکستان میں بھی ایسی اصطلاحات استعمال کی جا رہی ہیں ایسا تاثر کہ آئین و قانون کی تشریح میں کسی سیاسی جماعت کی حمایت کا تاثر جوڈیشل مارشل لاء کا ماحول پیدا کرے گا جوڈیشل مارشل لاء کے تاثر کا نقصان ناقابلِ تلافی ہو گا، جس سے فوجی مارشل لاء کے دروازے کھلیں گے۔ انہوں نے کہا کہ فارن فنڈنگ کے دو اگست 2022 کے فیصلے میں یہ ثابت ہو چکا کہ پی ٹی آئی ایک فارم فنڈڈ پارٹی ہے فارن فنڈنگ کیس کے فیصلے میں یہ بھی ثابت ہوا کہ پی ٹی آئی کو سات ملین ڈالرز سے زیادہ کی غیر قانونی/ غیر ملکی فنڈنگ ہوئی پی ٹی آئی قیادت نے فارن فنڈنگ کو نہ صرف چھپانے کی کوشش کی بلکہ بانی پی ٹی آئی جعلسازی کے بھی مرتکب ہوئے فارن فنڈنگ کیس سے متعلق پی ٹی آئی اور بانی پی ٹی آئی سمیت دیگر قیادت پر جو الزامات ثابت ہوئے وہ انتہائی نوعیت کے ہیں۔ اکبر ایس بابر نے کہا کہ انڈیا سمیت دنیا کے مختلف ملکوں کے شہریوں سے فنڈنگ لینے کے اصل مقاصد اور عزائم جاننا پاکستانی قوم کا حق ہے اس قدر بڑے پیمانے پر پی ٹی آئی کو امریکہ، برطانیہ اور انڈین نڑاد ڈونرز کا فنڈنگ کرنا بے مقصد نہیں ہو سکتا کیا یہ فنڈنگ پاکستان میں انتشار پھیلانے کے لیے ہوئی؟ پاکستان کی قومی سلامتی کو داوٴ پر لگایا جائے؟ کیا پی ٹی آئی کو بڑے پیمانے پر فارن فنڈنگ فراہم کرنے کا مقصد ملک کے اداروں کے ساتھ کھلواڑ تو نہیں تھا؟ ۔ انہوں نے کہا کہ فارن فنڈنگ کیس میں جو رقوم وصول ہونا اور زیر استعمال آنا ثابت ہوا، اس فنڈنگ کے حقیقی مقاصد اور عزائم کی تحقیق انتہائی ضروری ہے پی ٹی آئی کے ورکر کو شفاف انٹرا پارٹی الیکشن کے ذریعے اپنی قیادت کے انتخاب کا حق حاصل ہو نا چاہئے
Comments are closed.