سپریم کورٹ میں سنی اتحاد کونسل مخصوص نشستوں کا کیس آج تک ملتوی
الیکشن کمیشن سے مخصوص نشستوں کی الاٹمنٹ کا فارمولا اور دستاویزات طلب کر لیں#
اسلام آباد(آن لائن)سپریم کورٹ نے سنی اتحاد کونسل مخصوص نشستوں کا کیس آج منگل تک ملتوی کردیااورالیکشن کمیشن سے مخصوص نشستوں کی الاٹمنٹ کا فارمولا اور دستاویزات طلب کر لی ہیں۔چیف جسٹس قاضی فائز عیسی نے ریمارکس دیئے کہ پی ٹی آئی کو انٹرا پارٹی انتخابات کیلئے ایک سال کا وقت دیا گیا مگر وہ انتخابات نہ کراسکے‘ہر انتخابات کے بعد دھاندلی کا شور اٹھتا ہے‘ اگر کچھ غلط ہوا ہے تو درخواست آنے کے بعد دیکھا جائے گا ۔ سوموار کو چیف جسٹس قاضی فائز عیسی کی سربراہی میں سپریم کورٹ کی 13رکنی بنچ نے سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں سے متعلق سماعت کی اس موقع پر الیکشن کمیشن کے وکیل سکندربشیر نے دلائل کا آغاز کر تے ہوئے کہاکہ چار نکات پر بات کروں گا ۔سپریم کورٹ میں لیکشن ایکٹ کے تحت پارٹی سے وابستگی سرٹیفیکیٹ اور فارم 66 ریکارڈ پر موجود ہیں۔ تحریک انصاف کے پارٹی سے وابستگی سرٹیفیکیٹ اور فارم 66 چیئرمین پی ٹی آئی گوہرعلی خان نے دستخط کیے اورجب پارٹی سے وابستگی سرٹیفکیٹ اور فارم 66 جاری ہوئے تو تحریک انصاف نے انٹراپارٹی انتخابات نہیں کروائے تھے اس موقع پر جسٹس جمال مندوخیل نے استفسار کیا کہ بتائیں غلطی کہاں اور کس نے کی جس پر سکندر بشیر نے کہاکہ کاغذات نامزدگی میں بلینک کا مطلب آزادامیدوار ہے پی ٹی آئی نے فارم 6 22دسمبر اور پارٹی سے وابستگی سرٹیفیکیٹ 13 جنوری کو جاری کیے جبکہ پی ٹی آئی کو پارٹی سے وابستگی سرٹیفیکیٹ تو کاغذات نامزدگی کے ساتھ لگانے چاہیے تھے جسٹس جمال مندوخیل نے استفسار کیا کہ بتا دیں پی ٹی آئی کے کاغذات نامزدگی میں لکھا ہے کہ سرٹیفیکیٹ منسلک ہیں جس پر سکندر بشیر مہمند نے کہاکہ لیکشن کمیشن نے 23 دسمبر کو فیصلہ کیا جو پہلے آیا
، اس کے بعد پشاور ہائیکورٹ نے فیصلہ دیا جسٹس منیب اختر نے پوچھا کہ آپ کہہ رہے کہ سرٹیفیکیٹ غلط ہیں کیونکہ تب تک چیئرمین تحریک انصاف کا منتخب نہیں ہوا تھاوکیل سنکدر بشیر نے کہاکہ سرٹیفیکیٹ جمع کرواتے وقت جب چیرمین تحریک انصاف منتخب نہیں ہوئے تو کاغذات نامزدگی درست نہیں ہوسکی ہے ‘ کاغذات نامزدگی میں حامدرضا نے سنی اتحادکونسل سے وابستگی ظاہر کی اور حامدرضا نے بطور چیئرمین سنی اتحاد کونسل اپنے آپ کو ٹکٹ جاری کرنا چاہیے تھا جسٹس جمال مندوخیل نے کہاکہ یعنی الیکشن کمیشن کی تاریخ سے قبل پارٹی سے ڈیکلریشن دینی چاہیے، نشان بعد کی بات ہے۔ وکیل سکندر بشیر نے کہاکہ حامدرضا کی ہر دستاویز ان کے پچھلے دستاویز سے مختلف ہے جسٹس جمال مندوخیل نے استفسا ر کیا کہ کیا حامدرضا کو سنی اتحادکونسل کا سرٹیفیکیٹ دینا چاہیے تھایا آزادامیدوار کا؟ وکیل سکندر بشیر نے کہاکہ حامدرضا کو سنی اتحادکونسل کا سرٹیفیکیٹ جمع کروانا چاہیے تھا اورڈیکلریشن میں تو حامدرضا نے خود کو تحریک انصاف کا ظاہرکیا نہ کہ آزاد امیدوار۔ انہوں نے کہاکہ الیکشن کمیشن کا فیصلہ 22 دسمبر کو آیا اس کے بعد10 جنوری کو پشاور ہائیکورٹ اور 13 جنوری کو سپریم کورٹ نے فیصلہ سنایا جبکہ 8 فروری کو تحریک انصاف نے انٹراپارٹی انتخابات کے حوالے سے الیکشن کمیشن کو بتایااگر 7 فروری کو بھی تحریک انصاف انٹراپارٹی انتخابات کا بتا دیتے تو کچھ ہوسکتا تھا جسٹس شاہد وحید نے کہاکہ سپریم کورٹ حامد رضا کو آزاد امیدوار قرار دینے سے پہلے کیا ان سے وضاحت مانگی گئی تھی جس پر وکیل نے کہاکہ حامد رضا نے درخواست دے کر شٹل کاک کا انتخابی نشان مانگا تھا جبکہ ریکارڈ میں پارٹی ٹکٹ نظریاتی کا نہیں بلکہ پی ٹی آئی کا ہے۔ جسٹس حسن اظہر رضوی نے کہاکہ کیا کاغذات نامزدگی منظور ہونے کے بعد کاغذات نامزدگی میں تضاد پر کوئی نوٹس کیا گیا تھا جس پر وکیل نے کہاکہ ریٹرننگ افسر سکروٹنی میں صرف امیدوار کی اہلیت دیکھتا ہے انتخابی نشان کا معاملہ نہیں دیکھتا ہے اورحامد رضا خود کو سنی اتحاد کونسل کا امیدوار قرار نہیں دینا چاہتے تھے
‘حامد رضا ایک سے دوسری جماعت میں چھلانگیں لگاتے رہے۔ وکیل الیکشن کمیش نے کہاکہ چودہ جنوری سے سات فروری تک تحریک انصاف انٹراپارٹی انتخابات کروا سکتی تھی جسٹس منیب اختر نے کہاکہ انٹراپارٹی انتخابات ہوتے بھی تو کیا فرق پڑنا تھا جس پر وکیل سکندر مہمند نے کہاکہ پی ٹی آئی کو انتخابی نشان مل جاتا اور وہ انتخابات کیلئے اہل ہوجاتی۔ جسٹس عائشہ ملک نے کہاکہ اس صورتحال میں تو انتخابی شیڈول ہی ڈسٹرب ہوجاتا۔ جسٹس منیب اختر نے کہاکہ پی ٹی آئی کو اتنی خاص رعایت کس قانون کے تحت ملنی تھی؟ چیف جسٹس نے کہاکہ پی ٹی آئی انتخابات کا معاملہ کئی سال سے الیکشن کمیشن میں زیرالتوا تھا الیکشن کمیشن 13 جنوری کا حوالہ دے کر معاملہ سپریم کورٹ پر کیوں ڈال رہا ہے۔ جسٹس منیب اختر نے کہاکہ پارٹی انتخابات تو ہوچکے تھے معاملہ ان کی قانونی حیثیت کا تھا وکیل جسٹس عائشہ ملک نے کہاکہ آرٹیکل 218(3) کے تحت پی ٹی آئی کو رعایت دے سکتے تھے تاہم اگر ایسا تحریک انصاف کرتے تو الیکشن کمیشن کا اپنا شیڈول متاثر ہوجاتا ۔چیف جسٹس قاضی فائز عیسی نے کہاکہ پی ٹی آئی انٹراپارٹی انتخابات کا معاملہ تو کئی سال قبل سے آرہا تھا اور تحریک انصاف بار بار انٹراپارٹی انتخابات کے لئے وقت مانگ رہی تھی انہوں نے کہاکہ سپریم کورٹ پر مت ڈالیں الیکشن کمیشن پہلے دیکھ سکتا تھا‘فٹبال کی طرح ایکسٹرا ٹائم کو دیکھ رہے ہیں جبکہ اصل گیم 90 منٹ کی ہوتی ہے۔ جسٹس منیب اختر نے کہاکہ سوال تھا کہ انتخابات جائز ہوئے یا نہیں 22 دسمبر کو جب نشان لے لیا تو مطلب انتخابات کے لئے پارٹی ہیں ۔چیف جسٹس قاضی فائز عیسی نے کہاکہ تسلیم شدہ بات ہے کہ تحریک انصاف سال کا وقت لینے کے باوجود انٹراپارٹی انتخابات نہیں کروا سکی۔ انہوں نے کہاکہ بطور وزیراعظم درخواست دی کہ انٹراپارٹی انتخابات کے لئے سال دیدو ۔وکیل سکندر بشیر نے کہاکہ سپریم کور ٹ میں کنول شوزب کی درخواست پر سماعت نہیں ہونی چاہیے‘ کنول شوزب تحریک انصاف میں ہیں، خواتین ورکرز ونگ کی سربراہ ہیں جسٹس یحی افریدی نے کہاکہ الیکشن کمیشن کے ریکارڈ کے مطابق 6 امیدواروں نے پی ٹی آئی کا سرٹیفیکیٹ دیا لیکن آزادامیدوار کیسے قرار پائے؟ جسٹس منیب اختر نے کہاکہ ان امیدواروں میں الیکشن کمیشن کے مطابق کتنے امیدواروں کا سرٹیفکیٹ، ڈیکلریشن منظور ہوا جس پر وکیل سکندر بشیر مہمند نے کہاکہ سب آزادامیدوار ہی رہے اور آزاد امیدواروں کے پاس اختیار ہے کہ تین روز میں کسی سے منسلک ہو جائیں سماعت کے موقع پر جسٹس عائشہ ملک نے کہاکہ ایڈووکیٹ جنرل خیبرپختونخوا نے درخواست میں کہا بلوچستان عوامی پارٹی نے مخصوص نشستوں کی لسٹ جمع نہیں کروائی لیکن انہیں دی گئیں الیکشن کمیشن نے کیا اس ریکارڈ پر کوئی میٹنگ رکھی یا کچھ ریکارڈ کو پرکھا تھا جس پر وکیل الیکشن کمیشن نے کہاکہ ایسا کوئی الیکشن کمیشن کا فیصلہ موجود نہیں موجودہ کیس میں تو مکمل سماعت ہوئی جسٹس عائشہ ملک نے کہاکہ آپ کو کم سے کم گزشتہ انتخابات کو تحریر کرنا چاہیے تھا
، ابھی پوزیشن کچھ اور ہے، اس سے قبل کچھ اور رکھی‘آپ نے تو بلوچستان عوامی پارٹی پر کوئی ایکشن نہیں لیا جسٹس جمال مندوخیل نے کہاکہ بلوچستان عوامی پارٹی کو مخصوص نشستیں ملیں تو انتخابات میں سیٹیں جیتی تھیں اور کوئی ایسا قانون ہے کہ ایک صوبے میں سیٹیں جیتی ہوں تو دوسرے صوبے میں میں نہیں مل سکتیں جسٹس منصور علی شاہ نے کہاکہ ہر انتخابات الگ ہوتاہے اگر کہا جائے کہ 8 فروری کو 5 انتخابات ہوئے تو کیا درست ہے انہوں نے کہاکہ وفاق اور صوبائی انتخابات الگ الگ ہوتے ہیں لیکشن کمیشن کے وکیل سکندبشیر نے اپنے دلائل مکمل کرلیے سماعت کے دوران جسٹس جمال مندوخیل نے استسفار کیا کہ کیا بیرسٹر گوہرعلی خان موجود ہیں جسٹس جمال مندوخیل کے سوال پر گوہرعلی خان روسٹرم پر آگئے جسٹس جمال مندوخیل نے بیرسٹر گوہر علی سے استفسار کیا کہ آپ سے پہلی سماعت پر پوچھا کیا پی ٹی آئی کے ڈیکلریشن، سرٹیفیکیٹ جمع کروائے تو آپ نے ہاں کہا لیکن الیکشن کمیشن کے ریکارڈ کے مطابق چند کاغذات نامزدگی میں جمع ہیں چند میں نہیں، کون سا بیان آپ کا درست ہے؟ جس پر بیرسٹر گوہر علی خان نے کہاکہ ہر امیدوار دو دو فارم جمع کروا سکتا ہے انہوں نے کہاکہ ہمارے امیدواروں نے دو دو فارم جمع کروائے ایک آزادامیدوار اور دوسرا تحریک انصاف کا مگر الیکشن کمیشن ایک فارم لایا ہے الیکشن کمیشن سے تحریک انصاف کے فارم بھی منگوائیں جسٹس منصور علی شاہ نے کہاکہ انتخابات تو ایک پر لڑنا ہے، دو کیسے لکھ لیے آپ نے جس پر بیرسٹر گوہر علی خان نے کہاکہ ایک حلقے کے لیے چار کاغذات نامزدگی جمع ہوتے ہیں جس میں کوورنگ امیدوار بھی ہوتا ہے انہوں نے کہاکہ ہم نے الگ الگ پارٹیوں سے کاغذات نامزدگی جمع نہیں کروائے اور 22 دسمبر 4 بجے تک تمام سرٹیفیکیٹ پہنچا دیے تھے جبکہ الیکشن کمیشن کا فیصلہ رات9 بجے آیا تھا انہوں نے کہاکہ الیکشن کمیشن نے زیادہ تر ریکارڈ سپریم کورٹ کو دیا نہیں اس موقع پر جے یوآئی کے وکیل بیرسٹر کامران مرتضی نے کہاکہ ہم الیکشن کمیشن کے دلائل اڈاپٹ کرتے ہیں جس پر جسٹس جمال مندوخیل نے جے یوآئی کے وکیل سے استفسار کیا کہ کیا آپ کو لگتاہے کہ الیکشن کمیشن نے ٹھیک کام کیا ہے چیف جسٹس قاضی فائز عیسی نے کہاکہ کیا ایسا ہے کہ آپ کی پارٹی میں غیر مسلمانوں کو نہیں لیاجاتا ہے جس پر وکیل جے یوآئی نے کہاکہ ایسا کچھ ہمارے منشور میں نہیں ہے وہ مس پرنٹ تھا جس سے مس انڈرسٹینڈنگ ہوئی سماعت کے موقع پر پیپلز پارٹی کے وکیل فاروق نائیک عدالت نہیں پہنچ سکے اور پیپلزپارٹی کے معاون وکیل شہزاد شوکت نے مخدوم علی خان کے دلائل اپنا لئے جے یوآئی کے وکیل کامران مرتضی نے کہاکہ اقلیتوں کے حوالے سے الگ سیکشن موجود ہے کیا الیکشن کمیشن نے درست کام کیا ہے؟ جسٹس جمال مندوخیل آئینی ادارے کے ساتھ ہیں سماعت کے موقع پر مسلم لیگ ن کے بیرسٹر حارث عظمت نے تحریری دلائل جمع کرا دیے سماعت کے موقع پر ایڈووکیٹ جنرل خیبرپختونخوا روسٹرم پر آگئے اورکہا کہ سنی اتحاد کونسل کے وکیل کے دلائل اڈاپٹ کررہاہوں انہوں نے کہاکہ میں الیکشن کمیشن کے کنڈکٹ سے مطمئن نہیں ہوں جس پر چیف الیکشن کمشنر نے کہاکہ آپ کہہ رہے کہ خیبرپختونخوا کے انتخابات سے مطمئن نہیں ہوں انہوں ننے کہاکہ اپورے پاکستان کی بات نہ کریں خیبرپختونخوا کی بات کریں بلوچستان عوامی پارٹی بلوچستان کی پارٹی ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسی بلوچستان عوامی پارٹی نے کوئی سیٹ نہیں جیتی،ایڈووکیٹ جنرل خیبرپختونخواپوری بات کریں نا کہ بلوچستان ڈے بلوچستان عوامی پارٹی نے کوئی سیٹ نہیں جیتی جسٹس منیب اختر نے کہاکہ آپ خیبرپختونخوا سے تعلق رکھتے
، آپ کہہ رہے بلوچستان عوامی پارٹی نے کوئی سیٹ نہیں جیتی اور مخصوص نشستیں مل گئیں جسٹس منیب اختر نے کہاکہ الیکشن کمیشن نے کہا صفر جمع چار چار ہوتا ہے جس پر ایک مخصوص نشست ملتی جسٹس جمال مندوخیل نے کہاکہ کیا آپ نے 2018 میں چیلنج کیا تھا جس پر ایڈوکیٹ جنرل خیبر پختونخوا بولے کہ میں صرف ریکارڈ جمع کروا رہاہوں جسٹس جمال مندوخیل نے کہاکہ ا2018 میں بھی تحریک انصاف کے انٹراپارٹی انتخابات نہیں ہوئے جواب دیں کہ جو سیٹیں تب ملی تھی وہ ٹھیک ملیں یا نہیں چیف جسٹس قاضی فائز عیس نے ایڈوکیٹ جنرل خیبر پختونخوا کو مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ کہاکہ مجھے آپ کی سمجھ نہیں آئی جس پر ایڈوکیٹ جنرل نے کہاکہ بلوچستان عوامی پارٹی کے انتخابات کے وقت الیکشن کمیشن کا الگ فارمولا تھا، اب کیوں الگ فارمولا ہورہا ہے اس موقع پر اٹارنی جنرل منصور اعوان نے دلائل دیتے ہوئے کہاکہ آئین کا آرٹیکل 51 اشارہ کرتاہے کہ مخصوص نشستوں کا مطلب خواتین کو با اختیار بناناہے انہوں نے کہاکہ 2002 میں پہلی مرتبہ خواتین کو قومی، صوبائی، سینٹ میں نمائندگی ملی ہے اس موقع پر خواتین کی نمایندگی سے متعلق اٹارنی جنرل منصوراعوان نے ماضی کی قومی اسمبلیوں میں سیٹیں بتائیں اٹھارویں ترمیم کے بعد 60 مخصوص نشستوں کا مطلب نمایندگی کو بڑھانا ہے انہوں نے کہاکہ آرٹیکل 51 کا مطلب خواتین کے ساتھ غیر مسلمانوں کی نمائندگی بھی اسمبلیوں میں دینا ہے اس موقع پر اٹارنی جنرل منصوراعوان نے سپریم کورٹ کو سینٹ، قومی اسمبلی میں ووٹنگ کے طریقہ کار سے آگاہ کیا کہ سیاسی جماعت ہی ووٹ حاصل کرکے مخصوص نشستوں کے لیے اہل ہوتی ہیں انہوں نے کہاکہ اسمبلیوں کی نشستیں جنرل انتخابات اور پھر مخصوص نشستوں سے مکمل کی جاتی ہیں انہوں نے کہاکہ اسمبلیوں میں نشستوں کو مکمل کرنا ضروری ہے آئین کا مقصد خواتین، غیر مسلمانوں کو نمایندگی دینا اگر اسمبلی میں نشستیں مکمل نہیں ہوں گی تو آئین کا مقصد پورا نہیں پوگا انہوں نے کہاکہ فارمولا سے معلوم ہوتاکہ کتنی جنرل سیٹیں ایک مخصوص نشست حاصل کرنے کیلئے چاہیے ہوں گی اس موقع پراٹارنی جنرل منصوراعوان نے بلوچستان اسمبلی کی مثال دے کر فارمولا سپریم کورٹ کے سامنے رکھا اس موقع پر جسٹس محمد علی مظہر نے استفسار کیا کہ پارٹی کے مطابق مخصوص نشستوں کا فارمولا بتائیں جسٹس عائشہ ملک نے استفسار کیا کہ 2002 سے کیا ایک ہی فارمولا استعمال ہورہا اور کیا مستقل مزاجی سے ایک ہی فارمولا استعمال ہورہا انہوں نے کہاکہ الیکشن کمیشن کب سے فارمولا استعمال کررہا قانون کے بدلنے کے بعد کیا فارمولا تبدیل نہیں ہوا ہے جسٹس اطہر من اللہ نے کہاکہ الیکشن کمیشن کی جانب سے ایک سیاسی جماعت کو انتخابات سے باہر کرنے کے بعد تنازع شروع ہوا اگر الیکشن کمیشن ایک سیاسی جماعت کو انتخابات سے باہر نہ کرتی تو تنازع نہ ہوتا جس پر اٹارنی جنرل نے کہاکہ اس نکتے پر بعد میں جواب دوں گا۔ انہوں نے کہاکہ اصل نکتہ یہ ہے کہ کوئی مخصوص نشست خالی نہیں چھوڑی جا سکتی ۔ جسٹس منیب اختر نے کہاکہ الیکشن ایکٹ کے بعد پہلا انتخاب 2018 میں ہوا تھا آپ 2002 کی مثال دے رہے ہیں جو بہت پرانی بات ہے۔ جسٹس اطہر من اللہ نے کہاکہ سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں کا تعین ہوا لیکن انہیں دی نہیں گئیں۔ جسٹس منصور علی شاہ نے کہاکہ کاش میرا چیف جسٹس جیسا دماغ ہوتا، پڑھتے ہی سب کچھ سمجھ جاتا لیکن میں عام آدمی ہوں۔ چیف جسٹس قاضی فائز عیسی نے کہاکہ آئین لوگوں کے لیے بنائے جاتے ہیں
، وکلا اور ججز کیلئے آئین نہیں بنائے جاتے، آئین لوگوں کی پراپرٹی ہے، آئین ایسے بنایا جاتا تاکہ میٹرک کا طالب علم بھی سمجھ جائے۔ جسٹس منصور علی شاہ نے کہاکہ عدالت چاہتی ہے کہ جس سیاسی جماعت کا جو حق ہے اسے ملے، کسی کو کم زیادہ سیٹیں نہ چلی جائیں۔ چیف جسٹس قاضی فائز عیسی نے کہاکہ حق کیا ہے؟ سپریم کورٹ نے آئین کو دیکھنا ہے۔ جسٹس عائشہ ملک نے کہاکہ فارمولا تو الیکشن کمیشن کے ہاتھ میں ہے، جس کو الیکشن کمیشن چاہے آزادامیدوار بنا دے۔ جسٹس جمال مندوخیل نے استفسار کیا کہ کیا الیکشن کمیشن کا فیصلہ آزادامیدواروں نے چیلنج کیا اور کیا ہمارے سامنے کوئی آزادامیدوار آیا تھا سنی اتحادکونسل کہتی آزادامیدوار سنی اتحاد میں شامل ہوناچاہتے ہیں جس کے بعد سنی اتحاد مخصوص نشستیں حاصل کرنے کی اہل ہے اس موقع پر چیف جسٹس قاضی فائز عیسی نے کہاکہ ہم باریکیوں میں چلے جاتے ہیں، الیکشن کمیشن خودمختار آئینی ادارہ ہے جس کی کوئی حیثیت سمجھتا ہی نہیں ‘اگر دھاندلی ہوئی تو جب تک کیس نہیں آئیگا ہم نظرثانی نہیں کرسکتے ‘ہر انتخابات میں ایک ہی بات ہوتی اور کسی نے آج تک نہیں کہا کہ الیکشن ٹھیک ہوا ہے‘ ہارنے والا کہتاہے انتخابات ٹھیک نہیں ہوئے ہم ادارے کی قدر نہیں کرتے‘ اگرکوئی غیر آئینی کام ہوا ہے تو سپریم کورٹ بالکل اڑا دیگی۔ جسٹس منصور علی شاہ نے کہاکہ چیف صاحب کہہ رہے الیکشن کمیشن اتنا زبردست ادارہ ہے، جسٹس اطہر من اللہ نے کہاکہ لیکشن کمیشن اگر کسی سیاسی جماعت کو فیصلے کی غلط تشریح کرکے نااہل کردے تو اصل سوال یہ ہے جس کو دیکھنا چاہیے، ہمیں دیکھنا ہوگا کہ 2018اور 2024 میں مخصوص نشستیں کیسے الاٹ ہوئیں سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن سے فارمولا اور دستاویزات منگوا تے ہوئے سنی اتحاد کونسل مخصوص نشستوں کے کیس کی سماعت آج منگل تک ملتوی کردی اس موقع پر چیف جسٹس نے کہاکہ منگل کو سماعت ڈیڑھ بجے تک مکمل کرینگے
Comments are closed.