مخصوص نشستوں کے کیس کے جلد فیصلے کا مطالبہ، طول دینے سے گریز کیا جائے ، پی ٹی آئی

اسلام آباد (آن لائن) پی ٹی آئی رہنماوٴں نے مخصوص نشستوں کے کیس کا فیصلہ جلد کرنے کا مطالبہ کرتے ہوے کہا ہے کہ اس معاملے کو زیادہ طول دینے سے گریز کیا جائے ۔ ملکی معیشت تنزلی کا شکار ہے ۔ پارلیمنٹ میں عوام کے منتخب نمائندوں کو نمائندگی دینے تک صورتحال مزید خراب ہوتی جائے گی ۔ سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پی ٹی آئی رہنما شبلی فراز نے کہا ملکی معیشت دن بدن تنزلی کا شکار ہوتی جا رہی ہے ۔ جب تک پارلیمنٹ میں عوامی نمائندوں کو نمائندگی نہیں دی جائے گی صورتحال مزید خراب ہوتی جائے گی ۔ انہوں نے کہا ہمیں تشویش ہے کہ کیس کو طول دیا جارہا ہے، کیس لمباکرنے سے عدم استحکام ہوگا، سیاسی عدم استحکام کی وجہ سے پاکستان میں بحران ہے، الیکشن کمیشن آئینی ذمہ داری پوری کرنے میں ناکام ہوگیا

، یہ دانستہ طور پر ہوا، یہ الیکشن کمیشن کی نالائقی نہیں بلکہ بدنیتی ہے، ہماری اپیل ہے کیس پرجلد از جلد فیصلہ کیا جائے۔ انہوں نے کہا پارلیمنٹ میں وہ لوگ بیٹھے ہوئے جو فارم 47 کی مہربانی سے آئے ہیں جو عوام کی نمائندگی نہیں کرتے ۔ انہوں نے کہا اس بجٹ کے ذریعے پاکستانی عوام پر معاشی یلغار کردی گئی، اس کے عوام متحمل نہیں ہوسکتے۔انہوں نے کہا کہ اس ملک کی معیشت نیچے جارہی ہے جس کی بنیادی وجہ صاف اور شفاف الیکشن نہ ہونا ہے، جب تک عوامی نمائندے پارلیمان میں نہیں بیٹھیں گے تب تک آئی ایم ایف آپ کے فیصلے کرے گی، اور آئی ایم ایف کو آپ سے کوئی ہمدردی نہیں ہے ۔ اس موقع پر گفتگو کرتے ہوے کنول شوزب نے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 17 کی خلاف ورزی کی گئی ہے الیکشن کمیشن نے سب سے بڑی جماعت سے بلا چھینا اور پی ٹی آئی کو سیاسی جماعت ماننے سے انکار کیا گیا۔ ہم پر دباوٴ ڈالا گیا کہ ہم آزاد امیدوار کی حیثیت سے الیکشن لڑیں۔ انہوں نے کہا کہ جب اس حوالے سے سوال کیا جاتا ہے تو چاہے اٹارنی جنرل کھڑے ہوں یا الیکشن کمیشن کے وکیل سکندر بشیر کھڑے ہوں جو فرنچ زبان میں الیکشن کمیشن کی نمائندگی کرتے ہیں اور ان سے پاکستان کے منتخب ہونے والے نمائندوں تک کا نام نہیں لیا جاتا اور ان دونوں ہی کی انگریزی بھی فارغ ہے لیکن جب ان سے سوال ہوتے ہیں کہ کونسے فارمولے کے تحت انہوں نے یہ نشستیں اپنی مرضی سے پارٹی کو نشستیں دیں تو وہ جواب نہیں دیتے۔

Comments are closed.