پارلیمنٹ کے بنائے گئے قانون میں دوبارہ گنتی کا حق دیا گیا ہے، ہم اس اختیار کو کیسے ختم کر سکتے ہیں، چیف جسٹس
اسلام آباد (آن لائن)سپریم کورٹ نے این اے 154لودھراں میں دوبارہ گنتی سے متعلق کیس میں درخواست کودوبارہ سے درست نمبر نگ کرنے کیلئے پیرتک کا وقت دے دیا۔ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیے ہیں کہ پارلیمنٹ کے بنائے گئے قانون میں دوبارہ گنتی کا حق دیا گیا ہے، ہم اس اختیار کو کیسے ختم کر سکتے ہیں، اگر ہر کیس کو گھنٹوں سننا شروع کردیں تو زیر التوا مقدمات کی تعداد میں پہاڑ جتنا اضافہ ہو جائے گا۔ انھوں نے یہ ریمارکس بدھ کے روز دیے ہیں۔چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت کی۔
اس دوران ن لیگ کے وکیل شہزاد شوکت پیش ہوئے اور موقف اختیارکیاکہ حالیہ عام انتخابات میں جیت کا تناسب چھ ہزار سے زائد ووٹ تھا، سات ہزار سے زائد ووٹ مسترد ہوئے،جیت کا تناسب پانچ فیصد سے کم ہو تو دوبارہ گنتی کی جا سکتی ہے، ریٹرننگ افسر نے اپنے جواب میں کہا بوجہ مصروف دوبارہ گنتی کی درخواست پر توجہ نہیں کر سکا،اس پر مخالف امیدوار کے وکیل حامد خان نے کہاکہ دوبارہ گنتی کرانے کی درخواست مسترد کرنے کے فیصلے کو چیلنج ہی نہیں کیا گیا، اس پرچیف جسٹس نے کہاکہپارلیمنٹ کے بنائے گئے قانون میں دوبارہ گنتی کا حق دیا گیا ہے، ہم اس اختیار کو کیسے ختم کر سکتے ہیں، اگر ہر کیس کو گھنٹوں سننا شروع کردیں تو زیر التوا مقدمات کی تعداد میں پہاڑ جتنا اضافہ ہو جائے گا، ہم الیکشن سے متعلق کیسز کو جلد لگا رہے ہیں، جب کیسز سماعت کیلئے مقرر ہوتے ہیں تو تیاری نہیں ہوتی، اگر ایک کیس کو 155گھنٹے سنیں گے تو سپریم کورٹ چوک ہو جائے گی، درخواست پر نمبرز تک درست نہیں لگائے گئے، بعدازاں عدالت نے کیس کی سماعت پیر تک ملتوی کردی۔
Comments are closed.