عمران خان سے پی ٹی آئی رہنماوٴں کو ملاقات کی اجازت نہ مل سکی، عمر ایوب کی جیل عملہ سے تلخ کلامی، سپرنٹنڈنٹ کو ’ٹاوٴٹ‘ کہہ دیا
راولپنڈی (آن لائن)بانی پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقات کیلئے ناموں کی فہرست کے اختلافات کے باعث جیل پہنچنے والے کسی بھی پارٹی رہنما کو جیل میں داخلے کی اجازت نہ مل سکی۔تفصیل کے مطابق عمران خان کے طلب کیے جانے پر شاندانہ گلزار، فردوس شمیم نقوی، جنید اکبر، عمر ایوب، شبلی فراز اور روٴف حسن کے علاوہ شہریار آفریدی بھی جیل پہنچے۔لیکن جب عمر ایوب، شبلی فراز سمیت دیگر پی ٹی آئی رہنما اڈیالہ جیل پہنچے تو کسی کو بھی ان سے ملاقات کی اجازت نہ ملی اور تمام رہنما جیل کے باہر کھڑے رہے،ملاقات کی اجازت نہ ملنے پرعمر ایوب کی جیل عملہ سے تلخ کلامی بھی ہوئی اور انہوں نے سپرنٹنڈنٹ سمیت جیل عملہ کو برا بھلا کہا، عمر ایوب نے جیل سپرنٹنڈنٹ کو ٹاوٴٹ بھی کہہ دیا۔بعد ازاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے عمر ایوب نے کہا کہ آج بانی چیئرمین سے ملاقات طے تھی، ساڑھے 4 بجے تک ہمیں ملاقات کرنے نہیں دی گئی، پولیس چوکی پر موجود ایس ایچ او جاوید نے ہمیں روکا۔انہوں نے کہا کہ ’آئی جی جیل خانہ ٹاوٴٹ ہے‘، ایس ایچ او جاوید نے کہا ہمیں حکم آیا ہے
، میں نے انچارج سے کہا کیا تمہیں ٹاوٴٹ آئی جی نے احکامات دئیے ہیں؟ یہ حکم انٹیلی جنس اداروں سے آیا تھا،ان کا کہنا تھا کہ شبلی فراز سینیٹ میں لیڈر آف اپوزیشن ہیں، میں قومی اسمبلی کا لیڈر آف اپوزیشن ہوں، ہمیں آج قیدی سے ملنے سے روکا گیا،عمر ایوب نے مزید کہا کہ یہ سمجھتے ہیں ہمیں نفسیاتی طور پر دباوٴ میں لائیں گے، ان کا دماغ خراب ہے یہ نفسیاتی مریض بن چکے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہماری ملاقات کورٹ آرڈرز کے مطابق طے تھی،ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی ایک پیج پر ہے، ہم سب ایک ہیں، ہم بانی پی ٹی آئی کے ساتھ ہیں اور ان کے ساتھ کھڑے رہیں گے۔عمر ایوب نے کہا کہ آئی جی جیل خانہ جات اور آئی جی پنجاب ٹاوٴٹ ہیں، وزیر داخلہ محسن نقوی سب سے بڑا ڈاکو ہے، ان سب کوتحریک استحقاق کے ذریعے لائن حاضر کریں گے، ان سے پوچھا جائے گا ملاقات سے کیوں روکا گیا۔اس موقع پر خاتون پی ٹی آئی رہنما شاندانہ گلزار نے کہا کہ پارٹی کے اندر اختلافات کی خبریں بے بنیاد ہیں، اگر میرا اختلاف ہوتا تو یہاں نہ آتی۔انہوں نے کہا کہ ان لوگوں کو شرم آنی چاہیے، ہم دو گھنٹے دھوپ میں کھڑے رہے، پی ٹی آئی پر کسی کا باپ بھی پابندی نہیں لگا سکتا۔شہریار آفریدی نے بھی اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جو بھی کرلیں ہم نہ جھکیں گے نہ تقسیم ہوں گے، ہم بانی چیئرمین کے سپاہی ہیں، ان کے لئے کچھ بھی کرسکتے ہیں، یہ مخالفین کا ایک حربہ ہے کہ پارٹی کو تقسیم کیا جائے۔جو ڈاکو چور حکومت میں ہیں ان کے لئے پیغام ہے ہم ایک ہیں۔
Comments are closed.