پاکستان تحریک انصاف نے چیف جسٹس آف پاکستان کی جانب سے بدترین دھاندلی زدہ انتخابات کی تحقیقات کے حوالے سے درخواست سماعت کیلئے مقرر نہ کر نے کو افسوسناک کوشش قرار دے دیا

اسلام آباد(آن لائن )پاکستان تحریک انصاف نے چیف جسٹس آف پاکستان کی جانب سے بدترین دھاندلی زدہ انتخابات کی تحقیقات کے حوالے سے درخواست سماعت کیلئے مقرر نہ کرنا بالواسطہ طور پر دھاندلی چھپانے کی افسوسناک کوشش قرار دے دیا۔پاکستان تحریک انصاف نے چیف جسٹس آف پاکستان سے پتن کی تازہ ترین تحقیقاتی رپورٹ کی روشنی میں الیکشن دھاندلی کی درخواست کو فوری سماعت کیلئے مقرر کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے ۔8 فروری کو پاکستان کی تاریخ کے متنازعہ ترین اور غیر شفاف انتخابات کروائے گئے جس کی دھاندلی زدہ انتخابات کے خلاف ہر طرف سے شہادتیں اور گواہیاں آ رہی ہیں، ترجمان تحریک انصاف کے مطابق کمشنر راولپنڈی لیاقت چھٹہ نے 17 فروری کو ایک پریس کانفرنس میں 8 فروری کے دھاندلی زدہ انتخابات کے مرکزی کرداروں کو بے نقاب کیا، 9 اپریل 2022 سے 8 فروری 2024 تک کے دو برس میں پاکستان تحریک انصاف کو انتخابی و سیاسی دوڑ سے باہر رکھنے کی خاطر عام انتخابات پر ڈاکہ ڈالنے کیلئے تیاری کی گئی۔

ایک منظم سازش کے تحت پاکستان تحریک انصاف سے بلے کا نشان چھینا گیا اور ریاستی طاقت سے تحریک انصاف اور عوام کے سیاسی حقوق کچلنے کی کوششیں کی گئیں،فافن، پلڈاٹ، کامن ویلتھ اور یورپی یونین مبصرین سمیت انتخابات کی شفافیت جانچنے والے تمام آزاد اور غیر جانبدار اداروں نے انتخابات کی شفافیت پر سنگین نوعیت کے سوالات اٹھائے ہیں۔پاکستان کی جمہوریت، آئین کی حکمرانی اور پاکستان کا معاشی مستقبل انتخابات کی شفافیت سے جڑے ہیں۔پاکستان تحریک انصاف کی مخصوص نشستوں کے کیس کی سماعت کرنے والے سپریم کورٹ بینچ کے سینئر ترین اراکین الیکشن کمیشن کے مکروہ کردار کے حوالے سے نہایت سنجیدہ تاثرات کا اظہار کر چکے ہیں۔چیف جسٹس آف پاکستان خاموش سہولتکاری کرتے ہوئے مینڈیٹ چوروں کے ناجائز اقتدار کو بلاجواز طول دینے کی کوششیں ترک کرتے ہوئے عوام کا چھینا گیا مینڈیٹ حقداروں کو واپس دلائیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ ا?ئین کی بالادستی اور شہریوں کے بنیادی حقوق کی بحالی کی خاطر اپنا آئینی کردار ادا کریں بصورت دیگر تاریخ ان کے بارے میں باقی تمام کرداروں کیساتھ فیصلہ کرے گی۔

Comments are closed.