خیبر پختونخوا میں محرم الحرام کے دوران فوج کی خدمات لینے کا فیصلہ
پشاور ( آن لائن) صوبہ خیبر پختونخوا میں محرم الحرام کی سکیورٹی کے لیے فوج کی خدمات لینے کا فیصلہ کرلیا گیا۔آئی جی خیبر پختونخوا اختر حیات خان نے کہا ہے کہ ڈی آئی خان، ہنگو، کوہاٹ، کْرم اور پشاور زیادہ حساس اضلاع ہیں، ان حساس اضلاع میں آرمی کی خدمات لی جائیں گی، 5 محرم کے بعد ایف سی بھی ذمے داریاں انجام دے گی، اس کے علاوہ بھی محرم الحرام کے لیے سکیورٹی انتظامات مکمل ہیں، امن و امان برقرار رکھنے کے لیے امن کمیٹی، علماء اور دیگر مکتبہ فکر کے لوگوں سے بات چیت کی گئی ہے۔ادھر حکومت پنجاب نے محرم الحرام کے دوران سکیورٹی کے پیشِ نظر صوبہ بھر میں دفعہ 144نافذ کر دی ہے، ترجمان محکمہ داخلہ پنجاب کا کہنا ہے کہ محرم الحرام کے جلوسوں اور مجالس میں کوئی نئی اختراع نہیں ہو گی، مجاز اتھارٹی کی اجازت کے بغیر عوامی مقامات پر ہر قسم کے ہتھیار اور آتش گیر مواد کی نمائش، عوامی جذبات، عقیدوں اور فرقوں کو بھڑکانے والے اشتعال انگیز نعروں اور اشاروں پر مکمل پابندی عائد ہوگی
، کسی بھی ڈیوائس سے بین المذاہب، فرقہ وارانہ یا نسلی منافرت کو ہوا دینے والے ریمارکس پر دفعہ 144نافذ ہوگی۔ترجمان نے بتایا کہ جلوس کے راستوں پر واقع مکانات یا دیگر عمارتوں کی چھتوں پر مورچوں کی تعمیر پر پابندی جبکہ جلوس کے راستوں میں موجود عمارتوں کی چھتوں پر پتھر، اینٹیں، بوتلیں یا کچرا جمع کرنے پر بھی پابندی عائد ہوگی۔ جلوس کے دوران راستے میں واقع عمارتوں کی چھتوں یا دکانوں کے تھڑوں پر بطور تماشائی موجودگی پر بھی پابندی ہوگی، بزرگ شہریوں، خواتین کے علاوہ ڈبل سواری پر پابندی عائد ہوگی، دفعہ 144 کا اطلاق یکم سے 10محرم الحرام تک ہوگا جب کہ ڈبل سواری پر پابندی کا اطلاق 7سے 10محرم الحرام تک ہوگا۔
Comments are closed.