صدر عارف علوی کے وکٹ کے دونوں جانب کھیلنے کا ڈرامہ فلاپ
سیکرٹری نے سارا کچھا چٹھا کھول دیا
اسلام آباد:اقتدار کے حلقوں میں موجود تحریک انصاف کی باقیات یعنی صدر عارف علوی کا ڈرامہ بھی اپنے منطقی انجام کو پہنچ چکا ہے۔ وکٹ کی دونوں جانب کھیلنے کی کوششیں کرتے عارف علوی کو ان کے سیکرٹری وقار احمد نے باقاعدہ خط لکھ دیا۔ وقار احمد کے خط نے تمام حقائق واضح کر دئیے۔
صدرمملکت کے سیکرٹری وقار احمد کا خط میں کہنا تھاکہ صدر نے میری خدمات اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کو واپس کرنے کو کہا ہے، صدر نے عوام کیلئے یہ بھی پیغام دیا کہ سیکرٹری خلاف ضابطہ سرگرمی میں ملوث ہیں۔سیکرٹری وقار احمد نے نے صدر سے درخواست کی ہے کہ معاملے کی ایف آئی اے یا کسی اور ایجنسی سے تحقیقات کرائی جائے۔کسی افسر سے غیرذمہ داری یا کوتاہی ہوئی تو تحقیقات اور ذمہ دار کا تعین کیا جائے۔کسی عدالت نے مجھے بلایا تو بے گناہی ثابت کرنے کیلئے ریکارڈ پیش کروں گا ۔
صدر اگر حقائق سے آگاہ نہیں ہیں یا اس میں تاخیر یا صدارتی دفتر کی بے توقیری کا ذمہ دار میں نہیں ہوں۔صدر میری خدمات اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کو واپس کرنے کی سفارش واپس لیں۔خط میں کہنا تھاکہ آفیشل سیکریٹ ایکٹ ترمیمی بل8اگست کو دفتری اوقات کے بعد موصول ہوا ۔آفیشل سیکرٹ ایکٹ ترمیمی بل فائل نبر 204-5،این اے ،ڈی ای 23کے ساتھ صدر کوپیش کردیا۔آفیشل سیکرٹ ایکٹ ترمیمی بل ڈائری نمبر 196ایس کے ساتھ صدر کوپیش کردیا۔نوٹ میں لکھا وزیراعظم کی ایڈوائس 8اگست کو ملی،10دن کا وقت17اگست کو پوا ہوگا۔
صدرمملکت کے سیکرٹری وقار احمد کا خط میں کہنا تھاکہ حقائق واضح ہیں ،میں نے بلوں کے معاملے میں کوئی تاخیر یا کوتاہی نہیں کی ،دونوں فائلیں آج 21اگست تک صدر کے دفتر میں موجود ہیں، خدمات اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کو واپس کرنے کی سفارش غیرمنصفانہ فیصلہ ہے۔خط سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ وقار احمد تحقیقات کے لئیے حاضر ہیں، مگر صدر عارف علوی ٹک ٹاکر عمران خان کو خوش کرنے کے لیے ایک قابل سرکاری افسر کی نوکری اور کیرئیر کے پیچھے پڑ گئے ہیں
Comments are closed.