الیکشن ایک عمل کا نام ہے جس میں دوبارہ گنتی بھی شامل ہے،چیف جسٹس

اسلام آباد(آن لائن)سپریم کورٹ میں لیگی رہنما اظہر قیوم کی این اے 81انتخابی عذرداری اپیل پرسماعت کے دوران چیف جسٹس قاضی فائزعیسیٰ نے ریمارکس دیے ہیں کہ الیکشن ایک عمل کا نام ہے جس میں دوبارہ گنتی بھی شامل ہے،بدقسمتی سے عدالتیں بہت آگے چلی جاتی ہیں،شفاف الیکشن الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے سپریم کورٹ کی طرح الیکشن کمیشن بھی ایک آئینی ادارہ ہے۔جبکہ جسٹس عقیل عباسی نے استفسار کیا کہ کیا الیکشن کمیشن ایک مرتبہ کسی کو کامیاب قرار دے کر ادھر ادھر جا سکتا ہے،درست ہے، آپ کی درخواست پر دوبارہ گنتی ریٹرننگ افسر کو کرنی چاہیے تھی۔وکیل احسن بھون نے کہاکہ انتظامی افسر کے فیصلہ کیخلاف میرا موکل الیکشن کمیشن چلا گیا۔ سپریم کورٹ میں لیگی رہنما اظہر قیوم کی این اے 81انتخابی عذرداری اپیل پر سماعت ہوئی۔پیرکوچیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں 3رکنی بنچ نے سماعت کی۔وکیل احسن بھون نے کہاکہ دوبارہ گنتی میں میرے موکل کامیاب قرار پائے۔جسٹس عقیل عباسی نے کہاکہ ریٹرننگ افسر نے دوبارہ گنتی کی درخواست پر آرڈر نہیں کیا،ریٹرننگ افسر دوبارہ گنتی کی درخواست مسترد کردے تو کیا ہوگا؟ریٹرننگ افسر کے فیصلے کیخلاف دادرسی کا فورم کون سا ہوگا؟ وکیل احسن بھون نے کہاکہ 9فروری کو ریٹرننگ افسر نے فارم 47جاری کیا،قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ فارم 47کیا چیز ہے؟وکیل احسن بھون نے کہا کہ فارم 47ابتدائی نتیجہ ہوتا ہے حتمی نتیجہ فارم 48پر جاری ہوتا ہے،11فروری کو ریٹرننگ افسر نے حلقہ کا فارم 48بھی جاری کردیا۔جسٹس عقیل عباسی نے کہاکہ کیا الیکشن کمیشن ایک مرتبہ کسی کو کامیاب قرار دے کر ادھر ادھر جا سکتا ہے،درست ہے، آپ کی درخواست پر دوبارہ گنتی ریٹرننگ افسر کو کرنی چاہیے تھی۔وکیل احسن بھون نے کہاکہ انتظامی افسر کے فیصلہ کیخلاف میرا موکل الیکشن کمیشن چلا گیا۔

سپریم کورٹ میں(ن) لیگ رہنمااظہر قیوم کی اپیل پر سماعت میں وقفہ کر دیا گیا۔وقفے کے بعدجب دوبارہ سماعت شروع ہوئی تو وکیل چوہدری بلال نے کاکہاکہ یٹرننگ افسر کا اختیار ہے کہ دوبارہ گنتی کروائے یانہ کروائے جسٹس نعیم اخترنے کہاکہ اس کیس میں نتیجہ حتمی ہونے سے پہلے گنتی کی درخواست دی گئی وکیل نے کہاکہ دوبارہ گنتی کی درخواست کے ساتھ کوئی شواہد نہیں دئیے گئے،الیکشن کے دن دھاندلی اور اگلے روز دوبارہ گنتی کی درخواست دی گئی چیف جسٹس نے کہاکہ دوبارہ گنتی میں کیلئے کیا شواہد دئیے جا سکتی ہیں،دوبارہ گنتی کیلئے دو قانونی شرائط ہیں،ایک الیکشن میں بہت سی بے قاعدگیاں ہو سکتی ہیں وکیل نے کہاکہ نتیجہ کااعلان کے بعد ریٹرننگ افیسر کا اختیار ختم ہو جاتا ہے عدالت کا نہیں۔چیف جسٹس نے کہاکہ الیکشن ایک عمل کا نام ہے جس میں دوبارہ گنتی بھی شامل ہے،بدقسمتی سے عدالتیں بہت آگے چلی جاتی ہے،شفاف الیکشن الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے سپریم کورٹ کی طرح الیکشن کمیشن بھی ایک آئینی ادارہ ہے چیف جسٹس چوہدری اعجاز کے وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہاکہ الیکشن کے ڈبے کھلنے پر آپ کو اعتراض کیوں ہے؟ آپ خوفزدہ کیوں ہیں ؟دوبارہ گنتی میں آپ جیت بھی سکتے ہیں،اگر کچھ غلط ہوتو اسکو آغاز سے ہی درست کرنا چاہیے۔بعدازاں سپریم کورٹ میں این اے 81 سے متعلق سماعت مکمل کرلی اور عدالت نے انتخابی عذرداریوں کی مزید سماعت جمعرات تک ملتوی کردی۔واضح رہے کہ سپریم کورٹ میں چار مختلف حلقوں کی انتخابی عزدرایاں زیر سماعت ہیں۔

Comments are closed.