افغانستان سے تعلقات کی خرابی کی وجہ دہشتگردی کا معاملہ ہے‘ہمارا مطالبہ ہے کہ ٹی ٹی پی کو افغانستان سے نکالا جائے ‘اسحاق ڈار

اسلام آباد(آن لائن)وزیرخارجہ محمد اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ ہم افغانستان کے ساتھ بہترین تعلقات چاہتے ہیں لیکن تعلقات کی خرابی کی وجہ دہشتگردی کا معاملہ ہے‘ہمارا مطالبہ ہے کہ ٹی ٹی پی کو افغانستان سے نکالا جائے ‘داسو اور چینی شہریوں پر حملے افغانستان میں منصوبہ بندی سے ہوئے ‘چین سیکیورٹی کے حوالے سے بہت ہی حساس ہے ‘چین کا واضح موقف ہے کہ جہاں سیکیورٹی کے مسائل ہو ہم اپنے بندے وہاں نہیں بھیج سکتے ‘ پاکستان سفارتی تنہائی سے نکل آیا ہے کمیٹی کی تجاویز بھی ہمارے لیے بڑی مددگار ثابت ہو سکتی ہیں‘غزہ پر ہم نے اپنی ذمہ داری ادا کی ہے‘کشمیر کے ایشو کو بھی لیکر چل رہے ہیں کشمیر کیلئے بھی ہم نے دنیا میں بہترین لابنگ کی ہے‘وزارت خارجہ سے عافیہ صدیقی کیلئے جو ہوسکا وہ کیا جائے گا۔سیکرٹری خارجہ محمد سائرس سجاد قاضی نے کہا ہے کہ نیوکلیئر پاور پلانٹ کے حوالے سے بھی پاکستان ایک تجربہ کار ملک ہے‘پاکستان کے ایٹمی اثاثے محفوظ ہیں۔وہ سینٹ کی خارجہ امور کی قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں اظہار خیال کر رہے تھے۔ اجلاس کی صدارت سینیٹر شیری رحمان نے کی۔وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے افغانستان بارے کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ داسو اور چینی شہریوں پر حملے افغانستان میں منصوبہ بندی سے ہوئے ‘چین سیکیورٹی کے حوالے سے بہت ہی حساس ہے ‘چین کا واضح موقف ہے کہ جہاں سیکیورٹی کے مسائل ہو ہم اپنے بندے وہاں نہیں بھیج سکتے ۔ٹی ٹی پی اس وقت افغانستان میں موجود ہے۔داسو اور چینی شہریوں پر حملے افغانستان میں منصوبہ بندی سے ہوئے ۔ہمارا مطالبہ ہے کہ ٹی ٹی پی کو افغانستان سے نکالا جائے ۔ہم افغانستان کے ساتھ بہترین تعلقات چاہتے ہیں کیونکہ افغانستان برادر اسلامی ملک ہے ۔ لیکن پاکستان اور افغانستان کے درمیان تعلقات کی خرابی کی وجہ دہشتگردی کا معاملہ ہے۔سیکرٹری خارجہ نے100 دن کی کارکردگی پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ غزہ کے معاملے پر ہم ہر بین الاقوامی فورم پر ایک ہی موقف اپنائے ہوئے ہیں فلسطین کے معاملے پر حمایت گزشتہ حکومتوں میں بھی پالیسی کا حصہ تھی۔

نیوکلیئر پاور پلانٹ کے حوالے سے بھی پاکستان ایک تجربہ کار ملک ہے‘ پاکستان کے ایٹمی اثاثے محفوظ ہیں۔ سیکرٹری خارجہ نے کہا کہ ایرانی صدر کے جاں بحق ہونے کے بعد ہم ایران کی نئی قیادت کے ساتھ رابطے میں ہیں، صدر رئیسی کے دورے میں جو معاملات طے پائے تھے وہ ایران کء نئی قیادت کے ساتھ آگے بڑھائے جائیں گے۔وزیرخارجہ اسحاق ڈار نے بتایا کہ غزہ پر ہم نے اپنی ذمہ داری ادا کی ہے‘کشمیر کے ایشو کو بھی لیکر چل رہے ہیں کشمیر کیلئے بھی ہم نے دنیا میں بہترین لابنگ کی ہے۔سی پیک ایم ایل ون منصوبہ پر دوبارہ چین کو انگیج کیا ہے ایم ایل ون منصوبہ کے حوالہ سے مس رپورٹنگ بھی ہوئی۔اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان نے ایٹمی توانائی کے حصول میں اپنے مثبت کردار کو اجاگر کیا، معاشی ڈپلومیسی پاکستان کی خارجہ پالیسی کا اہم جزو ہے، پاکستان کو عالمی سطح پر تنہا کرنے کی سازشیں ناکام بنادی ہیں، آج پاکستان عالمی سطح پر اپنا مقام منوا رہا ہے، سال 2017 کے بعد پاکستان کو تاریخ کا بدترین نقصان پہنچایا گیا، پاکستان میں مہنگائی کی شرح 38 فیصد سے کم ہوکر 11 فیصد تک پہنچی ، پاکستان اسلاموفوبیا کے خلاف عالمی سطح پر اپنا کردار ادا کر رہا ہے، پاکستان اسلاموفوبیا کے خلاف اسلامی دنیا کے سب سے بڑا علمبردار ہے، پاکستان نے غزہ پر بھی اپنا بھر پور کردار ادا کیا،‘ اسرائیل کے خلاف نام لے کر عالمی عدالت میں مقدمات کی آواز اٹھائی۔وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستان جیو اکنامک کی طرف جا رہا ہے جیو اکنامک کیلئے کیا اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں ہمارے فارن مشن کے کمرشل ڈیک ایکسپورٹ بڑھانے کیلئے کیا اقدامات کرنے جا رہے ہیں۔پاکستان چین کے ساتھ ریلوے کے سب سے بڑے ایم ایل ون منصوبے پر بڑی کامیابی حاصل کرے گا، ایکنک کے اجلاس میں ریلوے کے سی پیک ایم ایل منصوبے پر غور کریں گے۔اسحاق ڈارنے کہا کہ ایم ایل ون کے حوالے آج دوسری میٹنگ کریں گیایم ایل ون پر پہلا مرحلہ جلد مکمل ہو جائے گا جس کی سمری بھی آ جائے گی۔ اسحاق ڈارملک کو دو قسم کے خسارے کا سامنا ہے ایک کرنٹ اکانٹ خسارہ ہیایک انٹرنل خسارہ ہے وزیر اعظم نے واضع طور کہہ دیا کہ وہ دوست ممالک سے کسی قسم کا قرضہ نہیں مانگے گیاب صرف ایک ہی راستہ ہیوہ ایکسپورٹ کا راستہ ہے۔ہماری کوشش براہ راست سرمایہ کاری اور ایکسپورٹ پر ہے۔ہمارا فوکس اب ان چیزوں پر ہے کچھ لوگ مایوسی پھیلاتے ہیں

اس سے کرونگا وہ مایوسی پھیلانا بند کردینپاکستان کے پاس معدنیات ہیں قدرتی ذخائر ہیں۔وزیرخارجہ نے کہا کہ پاکستان سفارتی تنہائی سے نکل آیا ہے کمیٹی کی تجاویز بھی ہمارے لیے بڑی مددگار ثابت ہو سکتی ہیں۔ عرفان صدیقی نے سوال کیا کہ باہر سے جتنی پیشکش ہوئی ہے ان پر کوئی ٹھوس پیشرفت ہوئی ہے ۔اسحاق ڈارنے کہا کہ باہر سے جو بلین ڈالرز کی پیشکش ہوئی ہیں ان پر کام ہو رہا ہے وزیر اعظم خود ان معاملات کو دیکھ رہے ہیں باہر کوئی ایسا دورہ نہیں جس میں تجارت کاروبار پر بات نہ ہوہماری کوشش ہے کہ جو پیشکش ہوئی ہے وہ جلد میچور ہوہم اپنی پوری کوشش کررہے ہیں۔انوار الحق کاکڑنے کہا کہ کرنٹ اکانٹ خسارہ کو کاونٹر کرنا ہے تو ایکسپورڑ بڑھانا ہوگااگر ہماری پرڈیکشن مہنگی ہے ہم باہر ایکسپورٹ کیا کر سکتے ہیں ہم انسانی وسائل کو بھی ایکسپورٹ کر سکتے ہیں ہمیں اپنی توانائی کی پالیسی بہتر کرنا ہوگااگر توانائی پالیسی کو بہتر کرتے تو پروڈکشن کی لاگت کیا ہوگی۔اسحاق ڈارنے کہا کہ پاکستان میں بجلی کی قیمتیں عالمی مقابلہ کرنے کے معاملہ پر مطابقت نہیں رکھتیں،انسانی وسائل کیلئے لوگوں کی سکلز بڑھانے پر کام ہوگاچائنہ کمپنی ہواوے کیساتھ بھی سکلز ٹریننگ پر بات ہوئی ہے پاکستان کیلئے بہترین موقع ہے ہم خود اپنے ملک کے دشمن ہیں ہم نے اپنے ہاتھوں سے ملک کیساتھ دشمنی کی ہے ‘میں کسی کو الزام نہیں دونگاپاکستان کا مستقبل ہے لیکن یہ ہم پرمنحصر ہے پاکستان کو اللہ نے وسائل دیئے ہیں ہمارے ملک میں انڈسٹری کیلئے لیبر سستی ہے۔اسحاق ڈارنے کہا کہ دو واقعات نے پاکستان کو نقصان پہنچایا ہے چائنیز انجینئرنگ پر حملہ ہوئے صرف چائنہ کے شہریوں کے نشانہ بنایا گیاکیوں صرف چائنیز کو ٹارگٹ کیوں کیا گیادونوں واقعات میں ٹی ٹی پی ملوث ہے ہمارا افغانستان سے یہی مطالبہ کے ٹی ٹی پی کو نکالیسی پیک کا منصوبہ برداشت نہیں ہو رہا۔افغانستان ہمارا ہمسایہ برادر ملک ہے ہمسائے تبدیل نہیں کیے جا سکتے بہتر ہوتا ہے کہ ہمسایوں سے تعلقات بہتر بنائے جائیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان پولیو کے خاتمے کے لیے افغانستان کے ساتھ بیٹھنے کو تیار ہے، افغانستان کے ساتھ صحت عامہ کے شعبوں میں تعاون بڑھائیں گے، پاکستان افغانستان میں سیکورٹی بہتری کے لیے بھی تعاون کر رہا ہے، افغانستان کو کہہ دیا ہے کہ اپنی زمین سے پاکستان میں دہشت گردی کے راستے بند کرے، اسحاق ڈار پاکستان افغانستان کو اپنا مسلم برادر ملک تسلیم کرتا ہے۔اجلاس میں افنان اللہ خان نے عافیہ صدیقی کا معاملہ اٹھایا اور کہا کہ عافیہ صدیقی کے معاملہ کو بھی ڈپٹی وزیر اعظم ٹیک اپ کریں۔اسحاق ڈارنے کہا کہ سارے پاکستانیوں کے جذبات افنان جیسے ہیں۔ہماری کوشش ہے اپنی بہن عافیہ کو پاکستان واپس لیکر آئیں،نوازشریف نے بطور وزیر اعظم اوباما کیساتھ عافیہ صدیقی کیساتھ معاملہ اٹھایا۔ایک خاتون ہے اس نے بہت برداشت کیا ہے۔وزارت خارجہ سے عافیہ صدیقی کیلئے جو ہوسکا وہ کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ کاش ہمارا عدالتی حکم وہاں امریکہ میں قابل قبول ہو‘عافیہ صدیقی نے اتنی تکلیف کاٹ لی ہے‘عافیہ صدیقی کو بس دنیا کے سامنے امریکہ کی جانب سے مثال بنایا گیا۔

Comments are closed.