تما م وزارتیں اپنی کارکردگی بہتر بنائیں ‘کسی قسم کی سستی اور کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی‘وزیراعظم
اسلام آباد (آن لائن) وزیراعظم میاں شہباز شریف نے دو ٹوک موقف اپناتے ہوئے کہا ہے کہ تما م وزارتیں اپنی کارکردگی بہتر بنائیں ‘کسی قسم کی سستی اور کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی‘معاشی اہداف کے حصول کے لئے شفافیت اور خود احتسابی کا عمل ضروری ہے ‘ معیشت کی بہتری کے لئے کڑوے اور سخت فیصلے کرنا ہوں گے ۔ کرپشن کے خاتمے کے لئے موثر نظام بنانا ہو گا ۔ اخراجات میں کمی کے لئے وزارتوں میں ڈاون سائزنگ اور رائئٹ سائزنگ متعارف کرا رہے ہیں ‘ توقع ہے آئی ایم ایف کا ممکنہ پروگرام آخری ہو گا تا ہم آئی ایم ایف سے چھٹکارا صرف باتوں سے نہیں بلکہ کام کرنے سے ہو گا ۔ کابینہ اجلا س سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کل کے پی کے میں دو مقامات پر شہادتیں ہوئیں‘ شہید ہونے والوں کے لئے فاتحہ خوانی کرتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ کراچی پورٹ پر بارہ سو ارب روپے کی چوری روکنے کے لئے اہم اقدامات کر رہے ہیں ، معاشی اہداف کے حصول کے لئے خود د احتسا بی اور شفافیت ضروری ہے ۔ محرم الحرام میں صوبوں کو امن و امان ب برقرار رکھنے میں بھر پور تعاون فراہم کریں گے ۔ دعا ہے کہ یہ مہینہ خیریت سے گزرے ۔ انہوں نے کراچی میں سی ٹی ڈی کے اہلکار کی شہادت پر بھی افسوس کا اظہار کیا ۔
وزیر اعظم نے کہا دورہ تاجکستان اورقازقستان انتہائی کامیاب رہا ۔ دورے کے موقع پر رو س کے صدر سے تجارت سمیت دیگر امور پر مفید بات چیت ہوئی ۔ دورہ چین میں بھی اہم پیشرفت ہوئی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ملک کی بقا کے لئے ہمیں دن رات محنت کرنا ہو گی ۔ وزارتیں اپنی کارکردگی بہتر بنائیں ۔ کسی بھی وزارت میں اب سستی اورکسی قسم کی کوتاہی کو برداشت نہیں کریں گے ۔ مسائل کو حل کر کے ملک کو آگے لے کر جانا ہے ۔ اس لئے سب پاکستان کے لئے کمر کس لیں اور شبانہ روز محنت کریں ۔ انہوں نے کہا کرپشن کسی صورت برداشت نہیں کریں گے ۔اس لئے تمام وزرتیں شفافیت کو یقینی بنائیں ۔ انہوں نے کہا صوبوں کے ساتھ سیکیورٹی معاملات میں تعاون سے قومی یکجہتی پیدا ہو گی ۔ تمام صوبوں کو اس حوالے سے بھر پور معاونت فراہم کریں گے‘بلوچستان میں ا ٹھائیس ہزار ٹیوب ویلوں کی شمسی توانائی پر منتقلی سے وفاق کو80 ارب روپے کی بچت ہو گی۔ سستی بجلی کے حصول سے زرعی شعبہ ترقی کرے گا ۔ انہوں نے مسائل کے حل کے لئے وزیر اعلی بلوچستان کی سنجیدگی کو بھی سراہا ۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں بجلی چوری کا بھی سامنا ہے ۔ ہم نے ترسیلی نظام کو بہتر بنانا اور بجلی چوری کو روکنا ہے ۔ انہوں نے کہا کراچی بندرگاہ پر بڑے پیمانے پر ہونے والی کرپشن کو روکنے کے لئے اقدامات کر رہے ہیں ۔ کرپشن سے حاصل ہونے والی رقم عوامی ترقیاتی کاموں پر خرچ کریں گے ۔ انہوں نے کہا معاشی اہداف کے حصول کے لئے شفافیت اور خود احتسابی کا عمل ضروری ہے ۔ اخراجات میں کمی کے لئے وزارتوں میں ڈاون سائزنگ اور رائئٹ سائزنگ متعارف کرا رہے ہیں ۔انہوں نے کہا توقع ہے آئی ایم ایف کا ممکنہ پروگرام آخری ہو گا ۔ تا ہم آئی ایم ایف سے چھٹکارا صرف باتوں سے نہیں بلکہ کام کرنے سے ہو گا ۔ انہوں نے کہا کہ بجٹ میں اشرافیہ پر بھی ٹیکس لگے ہیں ہمارے ہاں یہ رواج بن گیا ہے کہ مجھ پر نہیں دوسرے پر ٹیکس لگائیں ۔ انہوں نے کہا کہ وزارت خزانہ کو بھی بزنس ماڈل بنانے کی ہدائت کی ہے اس حوالے سے صوبوں سے بھی مشاورت کی جائے گی ۔ انہوں نے کہا کہ معیشت کی بہتری کے لئے کڑوے اور سخت فیصلے کرنا ہوں گے ۔ کرپشن کے خاتمے کے لئے موثر نظام بنانا ہو گا ۔
Comments are closed.