مخصوص نشستوں کے کیس پر عدالتی فیصلے کے منتظر ہیں ، مولانا فضل الرحمن

ڈیرہ اسماعیل خان :جمعیت علماء اسلام (ف ) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ مخصوص نشستوں کے کیس کے معاملے پر عدالتی فیصلے کے منتظر ہیں ۔ امریکی کانگر یس میں قرار داد کی منظوری کی اہمیت نہیں لیکن ہمارے سفار تی مشن کی کمزوری ہے ۔ آپریشن عزم استحکام کے بجائے ہمیں دہشتگردی کے مسائل کی بنیادی وجوہات جاننے کے لئے مل بیٹھ کر حقائق جان کر اسکے حل کی طرف جانا چاہیے ۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مخصوص نشستوں کیس کے معاملے پر اب سپریم کورٹ نے فیصلہ دینا ہے امید ہے عدالت بہترین فیصلہ سنائے گی ۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ امریکی کانگریس میں قراداد کی منظوری اس لئے زیادہ اہمیت نہیں ر کھتی کہ دنیا بھر کی پارلیمان میں کسی دوسرے ملک کے بارے میں قرا ر دادیں منظور ہوتی رہتی ہیں اقوام متحدہ میں غزہ کے معاملے پر قرار داد منظور ہوئی تاہم اس پر کوئی عمل درآمد نہ ہوا لیکن ہمارے لئے جو بات قابل غور ہے وہ یہ ہے کہ ایسی قرار داد منظور کیسے ہو گئی یہ ہمارے سفارتی مشن کی کمزوری کی عکاس ہے ۔ آپریشن عزم استحکام کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ ہم نے اس طرح کے آپریشنز میں پہلے بھی ساتھ دیا لیکن کس قدر دکھ کی بات ہے کہ ایک آ پریشن کے متاثرہ قبائلی ابھی تک در بدر ہیں ہم ان کے لئے کچھ نہ کر سکے ۔ تو کیا ہم ایسے آپریشنز سے اپنے لوگوں کو اپنے ہی خلاف اکسا نہیں رہے ۔

یہ سلسلہ مشرف دور سے شروع ہوا اور آج تک جاری ہے ۔ ہمیں اس آپریشن کے بجائے دہشتگردی کی وجوہات جا ننے کے لئے مل بیٹھ کر بات کرنی چاہیے اور اصل حقائق جان کر ان کے تدارک کے لئے اقدامات کرنے چاہیے ۔ انہوں نے کہا کہ جمعیت علمائے اسلام کا بنیادی ہدف فرقہ واریت کی نفی ہے ہم کسی اختلاف تو دور نہیں کر سکتے لیکن اختلاف میں نرمی پیدا کرانا اور اس کے لئے مثبت رو یوں کو اختیار کرنا یہ تو ہمارے بس میں ہے ۔ اس وقت عالم اسلام کا مسئلہ شیعہ سنی فرقہ واریت نہیں بلکہ اس وقت ہمارا ایک اہم مسئلہ طالبان کا ہے ۔ جو کہ کوئی صرف مقامی ایشو بھی نہیں بلکہ یہ ایک عالمی ایشو ہے ۔ انٹرنیشنل ایشو پر اگر کوئی آدمی بندوق اٹھاتا ہے پھر تو یہ دہشتگرد ہوا اس کے خلاف ریاست کو اٹھنا چاہیے ۔ ہمیں اس ملک کے امن سے سروکار ہے ۔ اگر کوئی اٹھ کے یہ کہتا ہے کہ میں علیحدگی پسند ہوں مجھے ایک علیحدہ وطن چاہیے ۔ تو اس کامطلب یہ ہوا کہ وہ اقتدار چا ہتا ہے ۔ اس کے لئے ریاست کو حرکت میں اآنے کے بجائے متعلقہ علاقے کے حکام کو اس مسئلے کے حل کے لئے اقدامات کرنے کی ضرورت ہوتی ہے لیکن اگر کوئی بندوق اٹھا کر یہ کہتا ہے کہ میں ملک کو توڑنا چاہتا ہوں علیحدہ ملک چاہیے تو اس کے خلاف ریاست کو حرکت میں آنے کی ضرورت پڑتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ ہم اس حوالے س ے ترجیحات کے تعین مین ناکام ہیں ۔ جس آئین کا ہم نے حلف اٹھا یا وہ یہ تقاضا کرتا ہے کہ ہم مطا لبے کیلئے بندوق نہ اٹھائیں اور ہم اپنے آئین کی پاسداری کر رہے ہیں‘ بالکل اسی طرح آئین کا تقاضا ہے کہ کوئی ادارہ اپنے دائرہ کار سے تجاوز نہ کرے‘ نہ تو فوج وردی پہن کر سیاستدان کا کردار ادا کرے نہ ہی کوئی سیاستدان فوج کے معاملات میں مداخلت کرے لیکن اس کے برعکس ہم ایک مشکل پگڈنڈی پر سفر کر رہے ہیں ۔ ہم دونوں ہی طرف سے مارے جا رہے ہیں ۔

Comments are closed.