5وزارتوں کو جلد ہی ختم کرکے انہیں صوبوں کو منتقل کردیا جائے گا،وفاقی وزیرخزانہ اورنگزیب

اسلام آباد(آن لائن) وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کو بتایا ہے کہ وفاقی حکومت پر بوجھ 5وزارتوں کو جلد ہی ختم کرکے انہیں صوبوں کو منتقل کردیا جائے گا، پاکستان کا ہر شہری فائلر بنے گا رئیل اسٹیٹ ،زرعی شعبے اور ریٹیلرز کو ٹیکس دینا ہوگا، پنشن پر ہر سال ایک ہزار ارب روپے خرچ ہوتے ہیں اب یکم جولائی سے نئے ملازمین کو رضاکارانہ پنشن سکیم دی جائے گی۔ جمعرات کو قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کا اجلاس سید نوید قمر کی زیرصدارت پارلیمنٹ ہا?س میں منعقد ہوا ۔اجلاس میں کمیٹی اراکین کے علاوہ وفاقی وزیر خزانہ سمیت ،سیکرٹری خزانہ ،چیرمین ایف بی آر اور دیگر افسران نے شرکت کی اجلاس کے دوران وزیر خزانہ نے اپنی بریفنگ میں بتایا کہ ٹیکس ٹو جی ڈی پی کی شرح میں اضافہ کرنا ہوگا اور اس کو 13فیصد تک لیکر جانا ہوگا انہوں نے کہاکہ جن سے پہلے ہی ٹیکس لے رہے ہیں ان پر مذید ٹیکسوں کا بوجھ ڈالنا زیادتی ہے اب رئیل اسٹیٹ ،ریٹیلر اور زرعی شعبے کو ٹیکس نیٹ میں لائیں گے انہوں نے کہاکہ زرعی انکم ٹیکس پر صوبائی وزراء اعلیٰ کا مشکور ہوں انہوں نے کہاکہ نان فائلر پر مذید ٹیکس بڑھائیں گے اور ٹیکس اتھارٹی پر عوام کا اعتماد بحال کرنے کیلئے ڈیجیٹلائزیشن کی سمت تیزی سے جارہے ہیں انہوں نے کہاکہ ایف بی آر کے جن افسران پر عوام شکوک و شبہات تھے انہیں ہٹا دیا گیا ہے وزیر خزانہ نے کہاکہ درآمد کنندگان کو جون تک کے ٹیکس ریفنڈ واپس کردئیے ہیں اور ٹیکس ریفنڈ کے نظام کو سنٹرلائزڈ کرکے سرخ فیتے اور کرپشن کا خاتمہ کردیا ہے انہوں نے کہاکہ درآمد کنندگان کو بھی یہ کہا ہے کہ وہ ریفنڈ کے سلسلے میں ایف بی آر افسران کو خوش نہ کریں انہوں نے کہاکہ قرضوں کی موجودہ صورتحال کو دیکھنا ہوگا کہ اس کو کس طرح کم کیا جاسکتا ہے

انہوں نے کہاکہ پی ایس ڈی پی میں پرائیویٹ پبلک پارٹنر شپ کو بڑھانا ہوگا اس وقت وفاقی حکومت کی سب سے بڑی ذمہ داری پنشن کی ہے جس کیلئے سفارشات تیار کی گئی ہیں اور یکم جولائی سے بھرتی ہونے والے تمام سرکاری ملازمین رضاکارانہ پنشن پالیسی کے تحت ہونگے جبکہ ملٹری پنشن کے حوالے سے کہ پالیسی ان کی بنیادی پالیسی میں تبدیلی کے بعد اگلے سال یکم جولائی سے ہوگی انہوں نے کہاکہ وفاقی حکومت کے اخراجات کو کم کرنے کیلئے 5وزارتوں کو ختم کرنے کیلئے سفارشات جولائی کے اخر تک وفاقی کابینہ کے سامنے پیش کردی جائیں گی اور یکم اگست سے ان وزارتوں کو ختم کردیا جائے گاانہوں نے کہاکہ آئی ایم ایف اصل آمدن پر ٹیکس چاہتا ہے جو درست ہے آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات مثبت انداز میں آگے بڑھ رہے ہیں اور سٹاف لیول معاہدہ رواں ماہ ہو جائے گاسیکرٹری خزانہ امداد اللّٰہ بوسال نے کمیٹی کوبتایاکہ رواں مالی سال ملک میں بے روزگاری میں اضافے ہوا ہے، عالمی بینک نے رواں مالی سال بیروزگاری کی شرح 10.3 فیصد رہنے کی پیش گوئی کی ہے، انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن نے رواں مالی سال بے روزگاری کی شرح 8.2 فیصد رہنے کی پیش گوئی کی ہے۔آئی ایم ایف نے بے روزگاری کی شرح 8 فیصد رہنے کی پیش گوئی کی ہے چیئرمین ایف بی آر نے رکن کمیٹی شہرام خان کے سوال کے جواب میں بتایا کہ بجلی کے بلوں میں سیلز ٹیکس، ایکسٹرا ٹیکس اور فردر ٹیکس عائد ہے،ایکسٹرا ٹیکس اور فردر ٹیکس بھی سیلز ٹیکس کی ایک شکل ہے، غیر رجسٹرڈ لوگوں پر ایکسٹرا اور فردر ٹیکس لگتا ہے،کچھ مخصوص لوگوں پر یہ ٹیکس عائد ہیں کچھ پر عائد نہیں ہیں، کونسے مخصوص لوگ ہیں اور کون غیر مخصوص لوگ ہیں اس موقع پر چیئرمین کمیٹی نے بجلی کے بلوں میں عائد ٹیکس کی تفصیلات طلب کرلیں اجلاس کے موقع پر کمیٹی کو آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدے پر ان کیمرہ بریفنگ دی گئی۔۔۔۔۔۔۔

Comments are closed.